جاوید غامدی: لوٹ آئے ایران سے ہم نے دیکھ لیا توران
ہمارے علاقہ میں ایک روشن خیال قسم کے دانشور ہوا کرتے تھے، بڑے بزرگوں سے سنا ہے کہ جوانی میں بھرپور انقلابی ہوا کرتے تھے، نوجوانوں کو اپنی انقلابی باتوں سے متحرک کیے رکھتے، ان کو ایسا لگتا تھا کہ یہ سماج جلد تبدیل ہو گا اور یہاں شعور کا سکہ چلے گا۔ ساری زندگی کتابوں کی نذر ہو گئی، اسی حیاتیاتی چکرویو میں ازدواجی زندگی سے بے نیاز ہو گئے، شادی وغیرہ نہیں کی اور نہ ہی اپنی ذات کے متعلق کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ عقل و شعور کا یہ پیامبر عمر کے آخری حصے میں فنا فی التصوف ہوا، جھاڑ پھونک سے یہ سلسلہ تعویذ گنڈے تک پہنچا اور پیری مریدی کے پڑاؤ میں داخل ہونے سے پہلے ہی چل بسا۔
اب یہ ذہنی ارتقا کے مراحل ہیں، پسماندہ سماج میں ”شعوری اڑان“ بھی ایک حد تک ہی ہوا کرتی ہے۔ حد نگاہ سے آ گے بڑھ کر دیکھنے کی ایک بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے، جہاں بھوک ننگی ناچ رہی ہو وہاں شعور پر مجبوری یا مصلحت کا لحاف اوڑھانا مجبوری بن جاتا ہے۔
لیکن محترم جاوید احمد غامدی کی سمجھ نہیں آئی کہ انہیں عمر کے اس آ خری پڑاؤ میں کیا سوجھی کہ وہ بھی خانقاہی راہوں پر چل پڑے؟ گزشتہ دنوں باقاعدہ المورد میں ایک مجلس کا انعقاد ہوا جس میں ”دانش سرا“ کے نام سے ایک خانقاہ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ تھینکس ٹو سوشل میڈیا، زوم اور دیگر ٹیکنالوجی کہ جس کی بدولت لاہور اور امریکہ کے فاصلے سمٹ گئے، شو بزنس کی ایور گرین شخصیت حمزہ علی عباسی بھی جلوہ افروز تھے۔ پیران سلسلہ جاوید احمد غامدی اور جانشین سلسلہ حسن الیاس بھی موجود تھے۔ پورا خانقاہی ماحول بنا ہوا تھا، شنید ہے کہ یہ ایک روایتی طرز کی خانقاہ نہیں ہوگی، بیعت یا خلیفہ سازی کا اہتمام نہیں ہو گا۔ اس خانقاہ کا مقصد خود کو دنیاوی جھنجٹوں سے کچھ دیر کے لیے الگ کرنا، ذکر و اذکار اور تزکیہ نفس کا اہتمام ہو گا۔
نیتوں کو تو ہم نہیں جانتے جو سامنے ہوتا ہے اسی کو ہی موضوع بحث بنایا جاتا ہے اور جاوید احمد غامدی کا علمی سفر بظاہر جدیدیت سے شروع ہوا اور اور وہیں پر پہنچا جہاں سے روایتی اذہان شروع سے فیضیاب ہوتے آ رہے ہیں۔ اب عمر کے آخری حصے میں تصوف و خانقاہی راہوں کے اسیر ہو گئے۔ اب یہ کہنا کہ ہماری خانقاہ روایتی نہیں ہوگی، اس مقدمے یا دعویٰ کو اس لیے سچ یا معتبر نہیں مانا جا سکتا کہ روایت یا عقائد سے بغاوت مذہب کی بنت یا بندوبست میں ہی نہیں ہے۔ مذہبی ڈھانچہ ایک فکس، ناقابل تبدیل اور جامد و ساکت قسم کے اصول و ضوابط پر قائم ہے جو کہ اٹل ہیں۔ کامل یقین، شک و شبہ سے ماورا اندھا ایمان اس بندوبست کا جزو لاینفک ہے، صفت ایمان مفصل اور مجمل اسی حقیقت کی عکاس ہیں۔ جب روایت سے انحراف ممکن نہ ہو تو غیر روایتی کہنا لفظی الجھاؤ تو ہو سکتا ہے حقیقت نہیں۔
جاوید احمد غامدی کا سفر بظاہر جدیدیت اور غیر روایتی انداز میں شروع تو ضرور ہوا تھا اور ان کی فکر سے خاصے لوگ متاثر بھی ہوئے لیکن وہ روایتی راہوں سے خود کو الگ نہیں کر پائے۔ بہت سارے معاملات میں مثلاً انسانی جسم میں سور کا دل ٹرانسپلانٹ کرنے اور عرب دنیا میں مندر بنائے جانے کے حوالے سے گزشتہ دنوں جو ان کے موقف سامنے آتے رہے ہیں وہ سارے روایتی فکر کے ہی تو عکاس ہیں۔ ہمارا روایتی ذہن بھی بالکل اسی انداز میں سوچتا ہے اور وہی نتائج نکالتا ہے جو غامدی جی نکالتے ہیں، بس غامدی ذرا فلسفہ اور سائنس کا ٹچ دے ڈالتے ہیں جس سے برگر اور سوٹڈ بوٹڈ کلاس کی تشفی ہو جاتی ہے۔
ہمارا نوجوان چونکہ تلقین شاہی بابوں کی روحانیت کا اسیر ہے اسی لیے وہ علم الکلام کے ”جدیدی متنجن“ جس میں جدیدیت کی تمام اصطلاحات موجود ہوتی ہیں سے فوری متاثر ہو جاتے ہیں اور حلقہ دست بوساں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ نوجوانوں کے سوالات کو روحانیت کی پر پیچ راہداریوں اور ماورائے ذہن قسم کی موشگافیوں میں الجھانے والا یہ طبقہ ”نسیم حجازیاں“ نئے اذہان کی ذہنی صلاحیتوں کے آگے عقیدت کی دیواریں کھڑی کر دیتا ہے جس سے ان کی قدرت کی عطا کردہ تنقیدی بصیرت و شعور مسخ ہو جاتا ہے۔
ہمارے لاہور کے مضافات میں ایسی ادبی شخصیات موجود ہیں جو ہفتہ بھر دانشوری کرتے ہیں اور ایک دن اپنی بیٹھکوں میں صوفی بن کر ذکر و فکر کی محفل سجاتے ہیں۔ مطلب اپنی دانشوری کو روحانیت کے پر لگا کر اسے منافع بخش کاروبار میں منتقل کرنے کا حیلہ فرماتے ہیں۔
جاوید احمد غامدی نے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ہے، یہاں خالی خولی علم کو کون پوچھتا ہے، عقیدتی حلقہ اثر کے بغیر سینہ بہ سینہ فیض کا چکر یا کراماتی نظام نہیں چلتا، مریدین اپنے پیر کی شخصیت کے گرد جو ماورایت کا جالا بنتے ہیں اسی سے تو انہیں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب ہوتی ہے۔
غامدی اسکول آف تھاٹ میں تو خانقاہیت کا کوئی چکر ہی نہیں تھا، اب اس تبدیلی کو ذہن کا ارتقا کہیں یا حالات کا جبر یا روایتی مجبوریاں، بہرحال حقیقت یہی ہے غامدی اسکول آف تھاٹ نے بھی خانقاہی سلسلہ شروع کر دیا ہے جس میں روحانی بیماریوں کا تسلی بخش علاج ہو گا۔


