ایک سو بارہ کی بڑھیا اور تیرہ کا چھوکرا


سوال پوچھا گیا کہ کیا ایک سو بارہ برس کا بزرگ تیرہ برس کی بچی سے بیاہ کر سکتا ہے؟

جواب ملا: مرد بلوغت سے لے کر قبر میں لیٹنے تک کسی بھی عورت سے بیاہ کر سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ کو کیا تکلیف ہے بھیا تیرہ برس کی لڑکی بلوغت پہ آ پہنچی اور ایک سو بارہ برس کا بڈھا اس کو حاملہ کر سکتا ہے۔ بس بات ختم۔

ہائیں۔ کیا واقعی لڑکی کا بیاہ اتنی سی بات ہے کہ بس جو کوئی اسے گابھن کر سکے، بکری بھینس کی طرح لے جائے اور۔ اور کچھ نہیں؟

چونکہ میڈیکل سائنس کا نام لیا گیا تھا سو سوچا کہ بات پہ کچھ غور کر لیا جائے۔ کیا واقعی ایک سو بارہ برس کا بڈھا عورت کو یعنی کسی بھی عمر کی عورت کو حاملہ کر سکتا ہے؟

انسان دنیا میں آیا۔ کچھ بھی کرنے سے قاصر۔ چلنا سیکھا، بولنا شروع کیا، جسم پہ جوانی آئی، قد بڑھا، عقل و شعور میں اضافہ ہوا، بلوغت شروع ہوئی تو علم ہوا کہ جسم کی مشین میں کچھ اور پرزے بھی لگے ہیں۔ انسانی ذہن نے بہت کچھ اور سجھایا، سکھایا جس کی روشنی میں ہر کسی نے اپنی راہ متعین کی۔ زندگی کا سفر ایک ایسا سفر ہے جس میں واپسی کا کوئی رستہ نہیں اور زندگی کے آغاز کے ساتھ ساتھ اس کا آخر بھی متعین ہے۔ سو انسانی جسم وقت کے لاتعداد اثرات اور نشانات کے ساتھ یہ سفر طے کرتا ہے۔

وہی جوان جس کے بال کل کالے تھے، اب سفید ہونے لگے۔ سر پہ گنج کی بہار آئی۔ چہرے کی کھنچی ہوئی جلد پہ لکیریں نظر آنے لگیں۔ بینائی جواب دینے لگی سو عینک کا سہارا لینا پڑا۔ دانت گرنے لگے، کوئی بات نہیں بتیسی لگ جائے گی، ہڈیاں کمزور ہونے لگیں، کمر جھک گئی، ہاتھ میں لاٹھی آ گئی، ضعف کی وجہ سے ہاتھ کپکپانے لگے، رعشے سے برتن گر گر کر ٹوٹنے لگے، آوازیں کان تک پہنچنا کم ہونے لگیں سو اونچا سنائی دینے لگا، آلہ لگ گیا یا کان میں جا کر لوگ بولنے لگے، پیشاب رک رک کر آنے لگا، پراسٹیٹ گلینڈ کی باری بھی آ گئی۔

یہاں تک تو ایسا تھا کہ حواس خمسہ نے کام دکھایا تھا پھر اندرونی اعضا بھی دہائی دینے لگے۔ ذیابیطس ایشیائی لوگوں کی بیماری ہے سو آ گئی۔ بلڈ پریشر بھی پچاس کے بعد اوپر گیا کہ شریانیں سخت ہونا شروع ہو گئیں۔ بلڈ پریشر قابو میں نہ رہا تو فالج نے رہی سہی طاقت بھی چھین لی۔ تھائرائیڈ بھی جواب دے گیا، پتے میں پتھریاں بننی شروع ہو گئیں۔ قبض اور بواسیر نے جینا حرام کر دیا۔ دل رک رک کر چلنے لگا سو کبھی بائی پاس آپریشن تو کبھی سٹنٹس کا سہارا ملا۔ اور اگر وقت پہ یہ سب کچھ نہ ہو سکا تب قبر کی مٹی میں منہ چھپانا پڑا۔

ستر اسی برس تک انسانوں کی اکثریت ایسے بوڑھا اور بڑھیا بنے جن کے قوی مضمحل اور حواس خطا تھے۔ انہیں زندگی میں بیشتر کام انجام دینے کے لیے اپنے سے کم عمروں کا سہارا درکار ہونے لگا۔ اب سب صاحبان عقل ذرا سوچیں کہ جس مرد کا ہر نظام، اندرونی یا بیرونی، عمر کے ساتھ نحیف پڑ جائے اور ہر پرزہ جواب دے جائے، اس مرد کے جنسی اعضا کس حالت میں ہوں گے؟

صاحب! اب یہ تو ہونے سے رہا کہ پورا جسم وقت کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور مخصوص اعضا میں ہرکولیس کی طاقت۔ قانون فطرت اور میڈیکل سائنس حیران ہو کر ہمیں دیکھتے ہیں۔ کیسی باتیں کرتی ہو، انڈے بیچو، جوتا لو۔ سو ایسا ہو نہیں سکتا۔ جنسی اعضا بھی اسی طرح نحیف و ضعیف ہوئے۔ لیکن دل ناداں ماننے کے لیے تیار نہ ہوا سو کبھی سانڈے کے تیل کے پیچھے بھاگے تو کبھی اصلی سلاجیت۔ کبھی حکیموں کے کشتے کھا کھا کر گردے جواب دے گئے تو کبھی ویاگرا نے ہارٹ اٹیک سے ہسپتال پہنچا دیا۔

کوئی مانے یا نہ مانے۔ حقیقت یہی ہے۔ مرد کے جنسی اعضا نے سلیمانی ٹوپی نہیں پہن رکھی کہ وقت کے ہاتھوں بچ کے نکل گئے۔ جو جھریاں شکل پہ نظر آتی ہیں، وہ وہاں بھی ہیں۔ جو کمزوری باقی رگ پٹھوں میں ہے وہ وہاں بھی ہے۔

اب بات کو دوسری طرف سے بھی سمجھ لیتے ہیں۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اگر مرد عورت کو حاملہ کر سکتا ہے تو مطلب یہ نکلا کہ ہر طرح سے اہل۔ یعنی حمل وہ ترازو ہے جس پہ ایک سو بارہ برس کا مرد بھی ایک بچی کے ساتھ تعلق بنا سکتا ہے۔ حمل کیسے ہوتا ہے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

خصیوں میں پیدا ہونے والے سپرمز کی خاصیت یہ ہے کہ وہ بہت تیزی سے دوڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے بھی ایک سائنسی اصول ہے۔ ان سپرمز کو انڈے تک بھاگ دوڑ کر کے پہنچنا پڑتا ہے۔ اگر سپرمز میں بھاگنے دوڑنے کی اہلیت کم ہو تو یہ بانجھ پن کا کیس بن جاتا ہے کہ سپرمز اگر دوڑیں گے نہیں تو حمل کیسے ہو گا؟

جنسی تعلق کے نتیجے میں مادہ منویہ ویجائنا میں ریلیز ہوتا ہے۔ ویجائنا کو پار کرتے ہوئے بچے دانی سے ہوتے ہوئے یہ سپرمز ٹیوب تک پہنچتے ہیں جہاں انڈے اور سپرم کا ملاپ ہوتا ہے۔

اب سن لیجیے کہ مادہ منویہ سرنج کی مدد سے بھی ویجائنا میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جنسی تعلق کی پے در پے ناکام کوشش کے نتیجے میں کچھ مادہ منویہ ویجائنا کے باہر ریلیز ہو جائے اور بس۔

اس مادہ منویہ سے بھی اگر کوئی ایک سپرم گرتا پڑتا انڈے تک پہنچ گیا تو لیجیے حمل شروع اور بابا جی کی جنسی اہلیت کے چرچے شروع۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ناکام جنسی تعلق جو ویجائنا کے اندر پہنچ ہی نہ سکا، واقعی جنسی تعلق ہو گا؟

جواب ہے۔ نہیں!

عورت کا جسم مختلف طریقے سے بنا ہے۔ جنسی تعلق میں عورت کی حسیات ایک مختلف pitch پر کام کرتی ہیں۔ جو چیز مرد کو ایک منٹ میں شعلہ بناتی ہے اس کے لئے شاید عورت کو بیس منٹ درکار ہوتے ہیں۔

سو ہم یہ مان سکتے ہیں کہ شاید کوئی ایک سو بارہ برس کا بوڑھا تیرہ برس کی لڑکی کو حاملہ کر دے مگر سوال یہ ہے کہ کیا تیرہ برس کی لڑکی کی حسیات جنسی تعلق کی باریکیوں تک پہنچیں گی یا پھر وہ لاعلمی میں جو دال ساگ میسر تھا اسی کو متنجن مان بیٹھے گی۔

ایک اور بات یہ بھی جان لیجیے کہ جب پورا جسم ضعف و نقاہت کا شکار ہے تو بے چارے سپرمز موجود تو ہیں کہ خصیے مجبور ہیں انہیں بنانے کے لیے۔ ان کی ڈیوٹی ہے بھئی بالکل ویسے ہی جیسے چندیا کے گنج کے گرد کچھ بالوں کی لٹکی جھالر پتہ بتاتی ہے کہ کبھی یہاں بہار تھی۔ اسی طرح اس سپرمز کی کوالٹی بھی ایک سو بارہ برس کے بڈھے جیسی ہو گی۔ ٹوٹی پھوٹی، خستہ حال۔ مشکل ہے کہ ان سپرمز سے اس دنیا میں آنے والا بچہ نارمل بھی ہو۔

پدرسری نظام یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جنسی تعلق کا ایک فریق عورت بھی ہے۔ تیرہ برس کی بچی جس پہ ابھی زندگی اور عمر نے کوئی اثر نہیں کیا۔ وہ رعشہ زدہ، نیم مفلوج ایک سو بارہ برس کے مرد کو کیا سمجھے گی؟ شاید پردادا کا بھوت؟

آخر میں ایک سوال ہمارا بھی ہے کوئی پہنچا دے ان تک۔ اس سوال کا پہلا حصہ یہ ہے کہ کیا حقوق زوجیت کی اصطلاح روٹی، کپڑے اور مکان تک ہے یا اس کا تعلق ازدواج کے انسانی، فطری حق سے بھی ہے اور دوسرا یہ کہ کیا ایک سو بارہ برس کی عورت تیرہ برس کے لڑکے سے بیاہ کر سکتی ہے، کرے تو؟

Facebook Comments HS