جنوبی پنجاب کی ترقی کا سیاسی بیانیہ


عمومی طور پر پنجاب کی ترقی کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ایک مثالی، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد پر بہتر صوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم پنجاب کے حصہ جنوبی پنجاب کی ترقی پر نظر ڈالتے ہیں یا اس کا سیاسی، سماجی، انتظامی اور معاشی تجزیہ کرتے ہیں تو اس کی مجموعی صورتحال پورے صوبہ کے مقابلے میں کمزور نظر آتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چاروں صوبوں میں ایک بڑا صوبہ ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب کی ترقی میں محرومی کی سیاست یا عام آدمی کے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی یا تفریق کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا علاقہ محروم طبقات یا کمزور طبقوں کا علاقہ ہے اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور ترجیحات میں ان علاقوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نے وہاں کے مقامی لوگوں کو ترقی کے اصل ثمرات سے محروم رکھا ہوا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد خیال تھا کہ وفاق کے بعد جب صوبوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات ملیں گے تو اس کا ایک بڑا مثبت اثر اضلاع کی سیاست یا جنوبی پنجاب کی ترقی میں مثبت اثرات پیدا کرے گا۔ لیکن 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو تو عملی طور پر اختیارات مل گئے مگر اضلاع کو اختیارات سے محروم رکھا گیا اور صوبائی ہیڈکواٹر یعنی لاہور سے جنوبی پنجاب کے نظام کو چلایا جا رہا ہے۔ مقامی حکومتوں کے نظام کو نظر انداز کر کے ایک مضبوط اور با اختیار مقامی حکومت سے محرومی نے بھی جنوبی پنجاب کی ترقی کو محرومی کی عملی سیاست میں ڈالا ہوا ہے۔ اگر ہم سرکاری اعداد و شمار کو دیکھیں تو پنجاب کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کی ترقی پر بے شمار سوالات اور تحفظات موجود ہیں۔ اگرچہ جنوبی پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنانے کی طرف پیش رفت بھی ہوئی مگر عملی طور پر اس نظام کو بھی مفلوج بنا کر رکھا ہوا ہے۔

جنوبی پنجاب کی محرومی کی سیاست کے خاتمہ میں ایک بڑا کردار مقامی سماجی تنظیموں کا ہے۔ یہ مقامی تنظیمیں کئی دہائیوں سے مقامی ترقی میں سماجی، معاشی عمل کے ساتھ شعور کی بیداری اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یا بنیادی مقامی سروسز کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور اگر یہ تنظیمیں مقامی سطح پر فعال نہ ہوتیں تو آج جنوبی پنجاب کے حالات میں اور زیادہ خرابیاں دیکھنے کو ملتیں۔ ان میں ایک بڑی سماجی سطح پر کام کرنے والی تنظیم ”لودھراں پائلٹ پراجیکٹ“ کے نام سے جنوبی پنجاب کے 12 اضلاع اور 40 کے قریب تحصیلوں اور گاؤں کی سطح پر 1400 سے زیادہ مختلف سماجی اور مقامی تنظیموں کی مدد سے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کا آغاز معروف سیاست دان اور سماجی ترقی میں ایک مختلف بیانیہ رکھنے والی شخصیت جہانگیر ترین نے 1999 میں کیا۔ وہ بنیادی طور پر کراچی میں کام کرنے والی مقامی تنظیم اور معروف استاد اور دانشور و سماجی ترقی پر گہری نظر رکھنے والے اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر اختر حمید خان سے متاثر تھے اور انہوں نے جس انداز سے مقامی سطح پر سینی ٹیشن اور سیوریج کے نظام کی بہتری میں حکومت کے مقابلے میں ایک متبادل پائیدار ترقی کا ماڈل کامیابی سے چلایا تو اسی ماڈل کو لے کر جہانگیر ترین نے لودھراں میں اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی معاونت سے ”لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کی بنیاد رکھی۔ جہانگیر ترین بنیادی طور پر لودھراں کو ایک ماڈل ضلع کے طور پر بنانا چاہتے تھے جہاں لوگوں کو مقامی سہولیات شفافیت کے طور پر حاصل ہوں۔ اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے ڈاکٹر اختر حمید خان نے جہانگیر ترین کو کراچی میں کام کرنے والے ایک معروف سماجی راہنما حفیظ آرائیں ان کے سپرد کیا جنہوں نے ابتدائی طور پر اس کام کا آغاز کیا۔ مجھے ذاتی طور پر اختر حمید خان اور حفیظ آرائیں سے کراچی میں تین ہفتوں تک مل کر کام کو سیکھنے کا موقع ملا اور کمال کا سماجی فلسفہ اختر حمید خان کا تھا اور اسی فلسفہ کو لے کر جہانگیر ترین نے لودھراں سے اس کام کا آغاز کیا۔

اب یہ کام جنوبی پنجاب کے 12 اضلاع اور 40 تحصیلوں تک پھیل چکا ہے۔ ان کی ترجیحات میں مقامی ترقی، سیوریج اور سینی ٹیشن کا شفاف نظام اور مقامی لوگوں کی فنی تربیت، صاف ستھرا ماحول، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات، مقامی لوگوں اور بالخصوص عورتوں کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم کرنا، مضبوط مقامی حکومت، صاف پانی، سپورٹس، ماحولیات، پرامن کلچر کے فروغ، واٹر فلٹریشن پلانٹ، فری میڈیکل کیمپ ان کی اہم ترجیحات ہیں۔ اس وقت اس تنظیم کے معاملات جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین اور بطور چیف ایگزیکٹو افسر معروف سماجی راہنما اور دانشور ڈاکٹر عبد الصبور چلا رہے ہیں اور یہ تنظیم اس وقت جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔

اس برس 2024 میں ”لودھراں پائلٹ پراجیکٹ“ نے اپنے کام کے پچیس برس بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے ہیں او ر اس میں ان کی سب سے بڑی کامیابی مقامی ترقی اور جنوبی پنجاب میں حکومت، مالیاتی اداروں، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور سرکاری اداروں سمیت سول سوسائٹی کی سطح پر اپنی شفافیت پر مبنی ساکھ کو قائم کرنا ہے۔ جہانگیر ترین، علی ترین اور ڈاکٹر عبدالصبور کے بقول پچیس برسوں میں ہم نے مقامی ترقی کے عمل کو جنوبی پنجاب میں ایک نئی جہت، نئی سوچ اور نئی فکر دی ہے اور اس کے پیچھے اصل سوچ لوگوں کو مقامی سطح پر با اختیار بنانا اور ان کی سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت کو خود مختار بنانا اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ گاؤں کی سطح پر نلکے لگانے کے کام سے جو آغاز ہوا اس نے جنوبی پنجاب میں ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے اور ہم نے لوگوں کو ترقی کے عمل میں سیاسی و معاشی طور پر تنہا رکھنے کی بجائے ان کو ایک جامع ترقی کا ماڈل اور سوچ دی ہے۔ بالخصوص معاشرے کے محروم طبقات جن میں کسان، مزدور، عورتیں، بچے، بچیاں، معذور افراد یا خواجہ سرا، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سمیت اقلیتوں کے مسائل پر خصوصی توجہ دی اور ان کو بنیاد بنا کر مقامی ترقی کے تناظر میں اپنے پروگرام یا منصوبے بنائے۔ 1999 سے لے 2024 تک تقریباً بیالیس لاکھ افراد جنوبی پنجاب میں ان کے کاموں اور دی جانے والی اہم سروسز کو بنیاد بنا کر فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اس تنظیم کے ماڈل لو کاسٹ یعنی کم قیمت پر سینی ٹیشن ماڈل کو عالمی اور ملکی سطح پر کافی پذیرائی ملی اور کئی اور اہم اداروں نے مختلف علاقوں یا صوبوں میں اس ماڈل سے فائدہ اٹھایا۔ ورلڈ بینک نے بھی اس ماڈل کو خوب پسند کیا اور ایک بہتر، معیاری سطح کا ماڈل قرار دیا۔ اسی طرح دو سو کے قریب سینی ٹیشن اسکیم، 375 بائیو سینڈ فلٹریشن، دو ہزار دو سو اٹھائیس ہینڈ پمپ دیہی سطح پر لگوائے۔ اسی طرح اس تنظیم نے مقامی سطح پر کلین گرین مہم، کرونا مہم میں مقامی لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور گیارہ ہزار فیملیز کو بنیادی خوراک کا شفاف نظام فراہم کرنا بھی ان کے کاموں کا حصہ ہے۔ بہاولپور، جھنگ، مظفر گڑھ، راجن پور، ڈی جی خان اور لیہ جیسے علاقوں میں مقامی ترقی اور بیت الخلا کی فراہمی جیسے منصوبے شامل ہیں۔ چار اربن فارسٹ 40 ایکٹر پر قائم کیے اور اس وقت یہ تنظیم مقامی سطح پر حکومت، نجی شعبہ اور ملکی و غیر ملکی ڈونرز کی مدد سے بڑی فعالیت اور متحرک ہو کر کام کر رہی ہے۔ اسی طرح آٹھ ہزار افراد یا نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں تربیت دی اور یہ لوگ آج برسر روزگار ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کے کام کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور جہانگیر ترین علی ترین اور ڈاکٹر عبدالصبور اور ان کی ٹیم سے ملاقاتیں یا مقامی پارٹنرز سے بات چیت کا موقع ملاتا رہتا ہے۔ یہ لوگ واقعی کمال کا کام کر رہے ہیں اور جنوبی پنجاب کی سماجی سطح پر اور بالخصوص معاشی ترقی کا ایک بڑا ماڈل جہانگیر ترین رکھتے ہیں۔ ان کے بقول وہ نوجوانوں کی اس طرح سے تربیت اور سرپرستی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ لوگوں کو معاشی طور پر خود مختار بنایا جائے اور علی ترین کھیلوں کو بنیاد بنا کر نئی نسل کو صحت مندانہ سرگرمیاں دینے کا ایک مکمل منصوبہ رکھتے ہیں۔ مستقبل میں اس تنظیم کا ارادہ خود کو ایک صوبائی سطح پر بڑی تنظیم کے طور پر کام کرنے کا ہے اور اس کا ایک جامع منصوبہ بھی ان کے پاس ہے۔ سروس ڈیلیوری کے ساتھ ایڈوکیسی کرنا، حکومت کے ساتھ پارٹنر شپ اور جدیدیت کی بنیاد پر مقامی ترقی کے ماڈل سمیت خود مختار مقامی حکومت کی جدوجہد ان کا حصہ ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ جہانگیر ترین، علی ترین اور ڈاکٹر عبدالصبور سمیت ان کی ٹیم اگلے برسوں میں جنوبی پنجاب کی ترقی میں نئی جہتوں اور نئی جدیدیت سمیت سماجی و معاشی ترقی کے کامیاب ماڈل جو دنیا میں چل رہے ہیں ان سے فائدہ اٹھا کر زیادہ پائیدار ترقی کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔

Facebook Comments HS