آئینی ترمیم اور عدلیہ: کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانہ ہے
1973 ء کا آئین تمام تر مشکلات کے باوجود ترتیب دیا گیا اور اسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ آئین اور قانون بنانا پارلیمنٹ کا اختیار ہے اس پر عمل درآمد کرانے کی ذمے دار عدلیہ ہے۔ سیاستدان اور مقتدرین اگر آئین سے ماورا کوئی قدم اُٹھائیں تو عدالتیں انھیں ایسا کرنے سے روک سکتی ہیں۔
عدلیہ کا کام آئین کی حفاظت اور اس کی پاسداری ہے لیکن ہم نے ماضی میں ایسی بہت سے مثالیں دیکھی ہیں جس میں عدلیہ نے اپنا فریضہ غیر جانبداری سے ادا نہیں کیا۔ اس نے فوجی طالع آزماؤں کو جمہوری حکمرانوں کے مقابلے میں سپورٹ کیا۔ اور دستور میں ترامیم کا حق تک دیا اور سول حکمرانوں سے نظریہ ضرورت اور نظریہ سہولت کے ذریعے اقتدار چھینا اور آئین کی من مانی تشریحات کیں اور بسا اوقات آئین ری رائٹ کیا اور دو فریقوں کے لیے ایک ہی آئینی شق میں مختلف فیصلے دیے۔ کچھ عرصے سے ایک مخصوص گروہ کو جائز اور ناجائز ریلیف دیا اور اسے وہ رعایتیں بھی دیں جو اس نے مانگی ہی نہیں تھیں۔ اسی وجہ سے دستوری ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو اس بات کا پابند کیا جا رہا ہے کہ ذاتی پسند اور ناپسند کے بجائے آئین و قانون کے مطابق فیصلے دیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے علاوہ سب جماعتوں نے ترمیمی پراسس میں حصہ لیا۔ وقت کے مطابق قوانین میں ترمیم جمہوری نظام کا خاصہ بھی ہے اور حق بھی۔ سسٹم اگر موجودہ قانون کی تحت چل نہیں پا رہا تو اس میں تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جس کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ پی ٹی آئی نے مسودہ پر اتفاق کے باوجود عمران خان کے انکار کے باعث ووٹنگ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ ترمیم کے اہم نکات کا خلاصہ یہ ہے۔
•چیف جسٹس کے تقرر کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنے گی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کا تقرر سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں ہو گا بلکہ سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں سے چیف جسٹس کا تقرر ہو گا۔
•چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت تین سال اور عمر کی بالائی حد 65 سال ہوگی۔
•کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیرِ اعظم صدر کو ارسال کریں گے۔ کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینیئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا۔
•آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے تین دن قبل نام بھجوایا جائے گا۔ بعد ازاں چیف جسٹس کے تقرر کے لیے پارلیمانی کمیٹی 14 روز قبل نام بھجوائے گی۔
• کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔
•سپریم کورٹ اور صوبوں میں قائم ہائی کورٹس میں آئینی بینچ تشکیل دیے جائیں گے۔ ہائی کورٹ میں آئین سے متعلق بینچوں کی تشکیل کے لیے قومی اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ہوگی۔
•صوبائی ہائی کورٹس میں آئینی بینچوں کی تشکیل کے لیے صوبائی اسمبلیاں قرارداد منظور کریں گی۔ جوڈیشل کمیشن آئینی بینچوں اور ججوں کی تعداد کا تعین کرے گا۔ کسی بھی آئینی بینچ میں شامل سینئر ترین جج اس آئینی بینچ کا سربراہ ہو گا۔ آئینی بینچوں میں جہاں تک ممکن ہو تمام صوبوں سے مساوی ججوں کو تعینات کیا جائے گا۔
•آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار آئینی بینچوں کے پاس ہو گا۔ آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیس آئینی بینچوں کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ آرٹیکل 186 کے تحت عدالت کے ایڈوائزری اختیارات بھی آئینی بینچوں کے پاس ہوں گے۔
•آرٹیکل 3 / 184 کے تحت سپریم کورٹ اپنے طور پر کوئی ہدایت یا ڈیکلریشن نہیں دے سکتی۔
•آرٹیکل 186۔ اے کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائی کورٹ یا اپنے پاس منتقل کر سکتی ہے۔
• جوڈیشل کمیشن ہائی کورٹ کے ججوں کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ سپریم کورٹ کے ججوں کا تقرر کمیشن کرے گا۔
•چیف جسٹس کی زیرِ صدارت کمیشن میں آئینی بینچوں کا سینئر ترین جج بھی شامل ہو گا۔ کمیشن میں سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔ وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل بھی کمیشن کے ارکان ہوں گے۔
•کم سے کم 15 سال تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ وکیل دو سال کے لیے کمیشن کا رکن ہو گا۔ دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینٹ کمیشن کا حصہ ہوں گے۔
•سینٹ میں ٹیکنوکریٹ کی اہلیت کی حامل خاتون یا غیر مسلم کو بھی دو سال کے لیے کمیشن کا رکن بنایا جائے گا۔
•آرٹیکل 38 کی ترمیم کے تحت یکم جنوری 2028 تک ملک سے سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
آرٹیکل 48 میں کی گئی ترمیم کے تحت وزیرِ اعظم یا کابینہ کی جانب سے صدر کو ارسال کی گئی تجویز پر کوئی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی۔
•چیف الیکشن کمشنر یا رکن ریٹائرمنٹ کے بعد نئے تقرر تک کام جاری رکھے گا۔
•آرٹیکل 229 اور 230 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں ہونے والی قانون سازی پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لی جا سکے گی۔
•کوئی بھی معاملہ 25 فی صد ارکان کی حمایت سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جا سکے گا۔
•آئین میں ایک نئی شق آرٹیکل نو اے بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی شہری حقوق میں شامل کر دیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے آخری حد تک کوشش کی کہ پی ٹی آئی قومی دھارے میں آ جائے مگر عمران خان کی میں نہ مانوں کے باعث مولانا فضل الرحمٰن نے
ہم کہانی میں کہاں تک ساتھ چل سکتے تھے
ادھر میری جنوں خیزی ادھر بیزاریاں اس کی
کے مصداق ووٹنگ کے پراسیس میں حصہ لے کر سیاسی میچورٹی کا ثبوت دیا۔ ترمیم بالآخر دو تہائی اکثریت سے منظور ہو گئی۔
پاکستان میں کسی بھی وزیراعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔ اس کے باوجود سیاستدانوں کو ہی ساری ناکامیوں کا دوش بھی دیا جاتا ہے، آئین کے پاسداروں نے ”اشاروں“ پر من مانی تشریحات کے ذریعے آئین کو بازیچہ اطفال بنا دیا۔ پارلیمنٹ نے موجودہ ترمیم کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ ماضی کے نظریہ ضرورت اور نظریہ سہولت کا سدباب کیا جائے اور عدلیہ کو یہ باور کرایا جائے کہ کھڑے کھڑے وزراء اعظم کو گھر بھیجنے کا عمل ہی عدلیہ کے پاؤں کی زنجیر بنا اور معاملات اس نہج تک پہنچ گئے۔
یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے
کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانہ ہے
دیکھیں آنے والے ایام میں یہ ترمیم ملک میں سیاسی استحکام کا سبب بنتی ہے یا انتشار مزید بڑھتا ہے کیونکہ پولرائیزیشن اتنی بڑھ چکی ہے کہ غیر یقینی کی فضا اور اناؤں کی جنگ بظاہر ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ خدا کرے کہ ملک و قوم کی ترقی و سلامتی کے لیے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام فریق اپنی اپنی تلواریں نیاموں میں ڈال لیں۔ کیونکہ ملک کی بقا کے ساتھ ہی سیاست ممکن ہے۔


