شعر و شاعری، ریڈیو پاکستان اور ڈاکٹر حسن زی


پاکستان میں اکثر شاعروں، فنکاروں، میوزیشنوں اور لکھنے والوں کی شروعات ریڈیو پاکستان سے ہوئی۔ جیسے، موسیقار لال محمد اور بلند اقبال المعروف لال محمد اقبال، احمد رشدی، مسرورؔ انور، جاوید اللہ دتہ اور بہت سے دوسرے۔ نگار ویکلی کے نامور لکھنے والے جناب اقبال راہی (م) کی معرفت میری شاعر، مصنف، انڈیپنڈنٹ فلم ساز اور ہدایت کار ڈاکٹر حسن زی سے ملاقات ہوئی تو علم ہوا کہ ان کے فنی سفر میں بھی ریڈیو پاکستان کا ہاتھ ہے۔ پہلے تو دیگر لوگوں کی مانند میں بھی یہی سمجھا کہ ڈاکٹر صاحب نے فلم تکنیک اور سنیما ٹاگرافی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ بعد میں علم ہوا کہ موصوف میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے چھ سال کی عمر میں پہلی فلم دیکھی تو پختہ ارادہ کیا کہ وہ بھی فلمیں بنائیں گے۔ اُس وقت بھی اُنہیں فلم میں سب سے زیادہ اہم چیز اس کی کہانی لگی۔ اسی لئے وہ کہانیاں لکھنے لگے۔ اُن کی پہلی کہانی آٹھ سال کی عمر میں اخبارِ جہاں میں شائع ہوئی۔

پھر انہیں ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں کام کرنے کا موقع ملا جہاں انہوں نے دس سال کام کیا۔ گویا ان کے اندر کے فنکار کی صحیح آبیاری کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ پھر اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے این ٹی ایم ( نیٹ ورک ٹیلی وژن مارکیٹنگ ) میں بچوں کے کارٹون کی آڈیو ڈبنگ میں اپنی آواز کو استعمال کیا ساتھ ہی انہیں میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ میڈیکل کالج میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان میں کام بھی چلتا رہا اور پاکستان ٹیلیوژن اسلام آباد مرکز سے ڈرامہ ”بجھتا ہوا دیا“ کی ہدایات دینے کا بھی موقع ملا۔ اس کے بعد وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ آئے اور پریکٹِس شروع کر دی۔ یہاں بھی کچھ عرصہ ڈاکٹر صاحب نے ایک مقامی ایف ایم ریڈیو میں اردو پروگرام پیش کیے۔

ڈاکٹر حسن زی کی شاعری

پچھلے دنوں ڈاکٹر صاحب نے واٹس ایپ پر صوتی پیغام بھیجا جس سے ان کے اندر کے شاعر سے مزید واقفیت ہوئی۔ لیجیے آپ بھی سنیے بلکہ پڑھیے :

” آج صبح جب میری آنکھ کھلی تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے مجھے سمندر پر جانا چاہیے۔ سان فرانسسکو میں دنیا کا مشہور ترین پُل گولڈن گیٹ ہے۔ جس کے نیچے گہرا نیلا سمندر گزرتا ہے میں سان فرانسسکو کے شہر میں رہتا ہوں جو تین اطراف سے سمندر سے گھرا ہوا ہے۔ سمندر کے کنارے پر جانے کے لئے مجھے صرف بیس منٹ لگے۔ میں خراماں خراماں چلتے ہوئے سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ سمندر کی لہریں ساحل سے ٹکرا کر ایک عجیب سی موسیقی پیدا کر رہی تھیں۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ لہریں میری یادیں تھیں اور اب وہ یادیں میری آنکھوں کے سامنے لمحے بن کر اُڑ رہی تھیں۔ مجھے بچپن یاد آ گیا!“

” بچپن ہی سے شاعری کا بے حد شوق تھا۔ خوبصورت لفظوں کو شعروں میں پرونا قدرت کی طرف سے میرے لئے ایک تحفہ تھا۔ جب مہدی حسن اور ملکہ ترنم نورجہاں کو ریڈیو پر سنتا تو گانوں کے بعد اناؤنسر بتاتا تھا کہ گیت کس نے لکھے تو میں یہ بہت غور سے سنتا۔ ٹیپ ریکارڈر پر پہلی دفعہ فلم“ کبھی کبھی ”کا گانا ’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘ سنا تو میرے دل کے تار چھِڑ گئے! ساحرؔ لدھیانوی کی خوبصورت شاعری میرے دل میں اتر گئی۔ جستجو پیدا ہوئی کہ ساحر ؔ کون ہیں؟ ان کے اور کون کون سے فلمی گیت ہیں؟ اس وقت میری عمر تقریباً 12 سال ہو گی۔ اتفاق سے ایک دن میرے بڑے بھائی ریاض الحسن مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر چکوال پبلک لائبریری لے گئے۔ اور وہاں شاعری کے شعبہ میں مجھے ساحرؔ کی کتاب مل گئی۔ میری تو خوشی کی انتہا نہ رہی! ساحرؔ کا مجموعہ گھر لے آیا۔ اس کو پڑھا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے کبھی اس سے پہلے اتنے خوبصورت الفاظ نہیں پڑھے تھے۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ کیا میں بھی ایسا کچھ شاعری میں لکھ سکتا ہوں! تو میں نے بھی ہلکی ہلکی طبع آزمائی کرنا شروع کر دی۔ اور آج بھی لکھ رہا ہوں“ ۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ جب وہ میڈیکل کالج میں تھے تو ایک مشاعرہ ہوا جس میں انہوں نے اپنی پہلی نظم ’سراب‘ اور پہلا قطعہ پڑھا۔ منیرؔ نیازی اُس مشاعرے کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ منیرؔ نیازی صاحب نے میرے سر پر دستِ شفقت رکھا اور بولے ”بہت اچھا لکھتے ہو۔ لکھتے رہنا“ ۔ انہیں منیرؔ نیازی صاحب کی یہ بات آج بھی یاد ہے۔ وہ قطعہ

میں تو احساسِ ندامت سے مرا جاتا ہوں
اور وہ احسان پہ احسان کیے جاتا ہے
وہ ایک شخص مجھے چھوڑ چکا ہے پھر بھی
میرے خوابوں میں خیالوں میں چلا آتا ہے

ڈاکٹر حسنؔ زی کی شاعری کے کچھ نمونے

اپنی آہٹ
اپنی خوشبو
اپنے سائے
چھوڑ گیا ہے
تم ہی بولو
کیسے کہہ دوں
میرا ساجن
سارے بندھن
توڑ گیا ہے

جا چکے ہو تو خواب مت بھیجو
اور مجھ پر عذاب مت بھیجو
چاہتوں کے حساب بھیجوں گا
لذتوں کے حساب مت بھیجو
کورا کاغذ ہی بھیج دو خط میں
مجھ کو بیشک جواب مت بھیجو
زندگی خار خار کر دے گا
اُس کو اتنے گلاب مت بھیجو
میرے سینے میں تھر سلگتا ہے
اے ہواؤ سحاب مت بھیجو
مٹ چکا ہے تیرا فیاض حسنؔ
اب اسے زہرِ آب مت بھیجو

سلسلہ گو کوئی رہا ہی نہیں
تو بھی دل سے مگر مٹا ہی نہیں
اب تو ملتا ہے اجنبی کی طرح
جیسے پہلے کبھی ملا ہی نہیں
اُس زمانے میں ہم چلے آئے
جس زمانے میں تھی وفا ہی نہیں
تجھ سے بچھڑے تھے جی کے دیکھ لیا
ایسا لگتا ہے کہ جیا ہی نہیں
اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں حسنؔ
اُس کو تجھ سا کوئی ملا ہی نہیں

نظم سراب ( 24 جنوری 1992 ) سے کچھ شعر:

میں نے اُس عمر میں ایک شخص کی پوجا کی تھی
میں نے جس عمر میں پڑھنا تھا، بہت سونا تھا
میں نے جس عمر میں چھوٹے سے کھلونے کے لئے
اپنے ماں باپ سے لڑنا تھا، بہت رونا تھا
میں نے اس عمر میں ایک شخص کی پوجا کی تھی

اندر کا موسم ( 12۔ 11۔ 1089 )

سُن کہ باہر بھی موسم ہے
سُن کہ اندر بھی موسم ہے
اندر کا موسم اچھا ہو
تو سب ہی موسم اچھے ہیں
اندر کا موسم پت جھڑ ہو
تو باہر کے سارے موسم
اچھے پیارے پیارے موسم
سارے پت جھڑ کے موسم ہیں

اپنی فلموں میں اپنی شاعری/گیت کیوں نہیں؟

ڈاکٹر صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ ایسی فلم کیوں نہیں بناتے جس میں آپ کی اپنی لکھی ہوئی غزل اور گیت بھی شامل ہوں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ زندگی میں موقع ملا تو کسی موسیقار سے بات کر کے یہ کام بھی کرو ؤں گا۔ نیز یہ بھی کہا کہ گلو کار رحیم شاہ سے اُن کی اس سلسلے میں بات چیت ہوئی تھی۔

میں نے ڈاکٹر صاحب کو فلم ”سان فرانسسکو کاؤبوائے“ کی تدوین میں کام کرتے دیکھا ہے۔ میری خواہش ہے کہ بالکل اسی طرح جلد ڈاکٹر صاحب کوئی میوزیکل اردو فلم بنائیں جس میں کچھ ان کے بھی خوبصورت موسیقی سے سجے گیت ہوں۔ آج کل تو ویسے ہی اچھی فلمیں بننے کا فقدان ہے پھر میوزیکل فلمیں تو خواب و خیال ہو گئی ہیں۔

Facebook Comments HS