چھبیسویں ترمیم، جمہوریت اور ڈائیسے


پولیٹیکل سائنس اور قانون کا طالب علم ہونے کی وجہ سے دنیا کے کامیاب ممالک کا نظام پڑھنے کا موقع ملا۔ ان ممالک کی کامیابی کی وجہ ان کی فوجی طاقت نہیں بلکہ قانون پر عملداری اور قانون کے سامنے برابری کا تصور ہے۔ ان ممالک کی کامیابی کی ایک اور بنیادی وجہ وہاں پر جمہوریت کا تسلسل اور سیاسی جماعتوں کا میچور ہونا بھی ہے جس کے نتیجے میں پالیسیوں کا تسلسل رہتا ہے اور غیر یقینی صورتحال سے ملک بچا رہتا ہے۔ یہاں کامیابی سے میری مراد معاشی کامیابی ہے۔ ان کامیاب ممالک کی بھاری اکثریت مغرب میں ہے جہاں ادارے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور دوسرے اداروں کے معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کو بھی اپنا فریضہ سمجھتے ہیں، اداروں کی یہ روایت بھی مغربی ممالک کی کامیابی کی ایک بنیادی وجہ میں سے ہے۔

پاکستان میں چھبیسویں آئینی ترمیم پاس ہوئی تو مجھے مغرب کے ساتھ ساتھ ڈائیسے کی بھی یاد آنے لگی۔ کیا خوب انسان تھے اور اتنے ہی باکمال قانون دان۔ آپ کا تعلق برطانیہ سے تھا اور آپ کی شہرت کی وجہ ”اختیارات کی تقسیم“ والی ڈاکٹرائن بنی۔ اس ڈاکٹرائن میں آپ نے ریاست کو چلانے کی ذمہ داری تین اداروں کو دی۔ جن کو آپ نے لیجسلیٹر یعنی پارلیمنٹ، ایگزیکٹو یعنی افسرشاہی/بیوروکریسی اور جوڈیشری یعنی عدلیہ میں تقسیم کیا۔ اس تقسیم کے پیچھے ایک کامل فلسفہ تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر کسی بھی ریاست کو کامیاب ہونا ہے تو مندرجہ بالا اداروں کو صرف اور صرف اپنے قانونی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے اپنے کام پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر ان اداروں میں سے کسی نے بھی کسی دوسرے ادارے کے کام میں دخل اندازی کی تو ریاست کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اگر عدلیہ پارلیمنٹ کو بتائے کہ قانون سازی ایسے کی جائے تو یہ کام عدلیہ نہیں کر سکتی کیونکہ عدلیہ کا کام انصاف فراہم کرنا ہے نا کہ قانون سازی۔ اور بالکل اسی طرح پارلیمنٹ بھی عدلیہ کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ فلاں کیس کا فیصلہ ایسا ہونا چاہیے۔ اور ایگزیکٹو ریاست کا ایک اہم ستون ضرور ہوتا ہے مگر مکمل ریاست نہیں ہوتا۔ ایگزیکٹو کا کام حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانا ہوتا ہے نا کہ حکومت کو ڈکٹیٹ کرنا۔

ڈائیسے کی ڈاکٹرائن کو مغربی ممالک الہامی فریضہ سمجھ کر اس پر عملدرآمد کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے ادارے اس دنیا میں مثالی ادارے بن چکے ہیں۔

جبکہ ہمارے ہاں پاکستان میں ایک ”خاص ادارے“ کو اتنا طاقتور بنا دیا گیا ہے کہ اب وہ باقی تمام اداروں کو ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ یہ چھبیسویں آئینی ترمیم بھی اسی ”خاص ادارے“ کا اپنے دوستوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ لیکن اس تحفہ کے پاکستان کے نظام انصاف پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس تحفہ نے اس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ججوں کو عملاً حکومت وقت کے ماتحت بنا دیا ہے۔ سینیئر ترین جج کی بجائے اب حکومت وقت فیصلہ کرے گی کہ اگلا چیف جسٹس کون بنے گا۔ ججز کی تقرری کے نظام میں بھی حکومت وقت کا واضح عمل دخل نظر آ رہا ہے۔

اس ترمیم نے جمہوریت کے طے شدہ اصولوں کو پامال کر دیا ہے۔ جمہوریت میں تو ادارے آزاد اور خود مختار ہوتے ہیں اور بلا خوف انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں لیکن اس چھبیسویں آئینی ترمیم نے اس آزادی کو سلب کر لیا ہے۔ اب اس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے جج صاحبان بھی حکومت وقت کے ماتحت، ”خاص ادارے“ کی منشا کے عین مطابق فیصلے جاری کریں گے۔ کیونکہ پاکستان میں حکومت ”خاص ادارے“ کی منشا کے بغیر بنانا ناممکن ٹھہرا۔ پاکستان میں اداروں کی سپیریئر بننے کی دوڑ نے آج اس ملک کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ کوئی اور تو کیا ہمارے دوست ممالک بھی اس ملک میں انویسٹمنٹ کرنے سے کترا رہے ہیں اور ادارے ہیں کہ اپنی دھن میں ہی مگن ہیں۔ اصول تو یہی بنتا ہے کہ تمام اداروں کو اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن یہ پاکستان ہے یہاں گنگا الٹی ہی بہتی تھی، بہتی ہے اور نا جانے کب تک الٹی بہتی رہے گی۔

But as they say, every cloud has a silver lining

اور علامہ محمد اقبال کا بھی یہی کہنا ہے کہ ”نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے“ ۔ بہتری کی امید ہمیشہ رکھنی چاہیے۔

Facebook Comments HS