انسانی دماغ ایک چاند ہے


آج کل سب کی سوچ اسی خیال کے متعلق ہے کہ پاکستان باقی تمام ممالک سے ہر شعبے میں پیچھے ہے۔ مگر غور کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی اس کی وجہ تلاش نہیں کرتا۔ کوئی بھی ملک یا قوم وہاں موجود بڑے لوگوں یا سیاست دانوں سے نہیں جانی جاتی بلکہ وہاں کے عوام ان کے رہن سہن کا طریقہ اس ملک کی پہچان ہے۔ پاکستانی ہونے کے تحت ہم پر ایک مہر لگ چکی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل پیچھے رہ گئی ہے۔ جتنی ہوشیار کسی اور مالک کی نوجوان نسل ہے اتنی ہماری نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ مہر پاکستانی نوجوان نسل پر لگانا زیادتی ہے۔

ہم کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ ایک بچہ جس کے ہوش سنبھالتے ہی اس کے ذہن پہ گھر کو مالی طور پر بہتر بنانے کا بوجھ ڈال دیا جائے۔ ذمہ داریوں کے بوجھ نے اس کی ذہنی قوت کو جکڑ لیا ہو۔ اس دباؤ اور گہما گہمی کے ماحول میں ہم کیسے اس بچے سے ذہانت کی اور ایجادات کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ انسانی دماغ کی نشو و نما کے لیے اس کے ارد گرد کا ماحول بھی ساز گار ہونا چاہیے۔ جب اس کی زندگی کے ابتدائی دن باپ کو بمشکل گھر کے اخراجات پورے کرتے ہوئے اور ماں کو پیسے جمع کرتے دیکھتے گزرتی ہے تو اس کی ذہنی نشوونما کس طرح کی ہوگی؟

میرا ماننا ہے کہ انسان کا ذہن ایک چاند کی طرح ہے اس میں روشنی ہونے کے باوجود بھی آسمان پر کالے بادل اس کو گھیر کر اس کی چمک کو دبا دیتے ہیں۔ مگر جب آسمان صاف ہو تو اس رات آسمان پر صرف چاند ہی کی بادشاہت ہوتی ہے۔ اسی طرح جب تک نوجوان نسل اس پھندے سے باہر نہیں نکلتی تب تک شاید ہم پاکستانی نظام میں بہتری نہیں لا سکتے۔ جب انسان کا پیٹ بھرا ہو تو ہی اس کا ذہن کوئی کام اچھے سے سرانجام دے پاتا ہے۔ مگر یہاں مسائل اور ہیں جب پہلی سوچ یہ ہوگی کہ کما کر گھر میں لانا ہے اور مفلسی کو کم کرنا ہے۔ تو انسان اپنے خیالات کو ایک محدود دائرے سے باہر نہیں لے کر جا سکتا۔

اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے خیالات کو وسیع کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ارد گرد موجود مجبوریاں دوبارہ اس کو وہیں لا کر کھڑا کر دیتی ہیں جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ بھوک انسان کا سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ پہلی اور بنیادی ضرورت پوری ہو جانے کے بعد کوئی چیز ڈھنگ سے کام کرتی ہے ہم گاڑی کی مثال بھی لے سکتے ہیں کہ گاڑی میں ایک بار تیل ڈلوا کر اگر ہم اس کی ضرورت کو پورا کر دیں گے تو ہمیں اس بات کی تسلی رہے گی کہ وہ مستقبل میں ہمارے کام آئے گی لیکن اگر ہم ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس میں تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے تو ہمیں سفر طے کرنے میں بار بار دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا اور گاڑی کے خراب ہو جانے کا بھی خدشہ ہو گا۔

پھر ہم کیسے انسانوں سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ ان کا پیٹ خالی ہو اور ان کے دماغ میں ایسے منصوبے پروان چڑھیں جن سے وہ دنیا فتح کر سکیں۔ افسوس!

Facebook Comments HS