فیشن کی دوڑ اور فضول خرچی: پاکستانی ملازمت پیشہ خواتین اور برانڈز کا رجحان


پاکستانی معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بھی اس تبدیلی کا اہم حصہ ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین اب اپنے مالی وسائل کی بدولت خودمختاری حاصل کر رہی ہیں اور اپنے ذوق و شوق کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ مگر اس خودمختاری کے ساتھ برانڈز کے فیشن کی ایک دوڑ بھی پروان چڑھی ہے، جہاں مہنگی چیزوں پر پیسہ خرچ کرنا نہ صرف معیاری زندگی کی علامت بن گیا ہے بلکہ سماجی حیثیت کے اظہار کا ذریعہ بھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مہنگی برانڈڈ اشیاء کی خریداری آج کل اسٹیٹس سمبل مانا جاتا ہے۔

آج کل کئی ملازمت پیشہ خواتین مہنگے برانڈز کے کپڑوں، جوتوں، ہینڈ بیگز، پرفیومز، اور کاسمیٹکس پر پانی کی طرح پیسہ بہاتی ہیں۔ آج کل مقامی مارکیٹس اور لوکل برانڈز کو چھوڑ کر خواتین بین الاقوامی اور ڈیزائنر برانڈز کو ترجیح دیتی ہیں۔ مہنگی چیزوں کے استعمال سے نہ صرف وہ اپنی حیثیت کا اظہار کرتی ہیں بلکہ معاشرتی طور پر برتری کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ ایسی خواتین کے لیے برانڈز کا استعمال صرف ذاتی پسند تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دوسروں پر رعب جمانے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔

مہنگی چیزوں کے استعمال سے کچھ خواتین کا رویہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ دوسروں کو خود سے کم تر سمجھتی ہیں۔ وہ اپنے معیار زندگی کو دوسروں پر ظاہر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام اور فیس بک پر اپنی اشیاء کی نمائش کرتی ہیں۔ شو آف کا یہ رجحان خاص طور پر اس وقت زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب یہ خواتین دفاتر، تقریبات یا سوشل گیٹ ٹو گیدرز میں اپنی مہنگی چیزوں کی نمائش کرتی ہیں۔ ایک عام سی بات جیسے دفتر جانا بھی ایک فیشن شو میں تبدیل ہو جاتا ہے، جہاں ہر کوئی یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کون کیا پہن کر آیا ہے اور کس کا ہینڈ بیگ کس برانڈ کا ہے۔ گویا خواتین کے نزدیک جاب پلیس ایک فیش شو بن کر رہ گیا ہے جہاں مہنگی برانڈڈ اشیاء پہننے والے کو ہی پذیرائی ملتی ہے۔

بعض خواتین کے لیے مہنگے برانڈز کا استعمال اپنی برتری کو ثابت کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ایسی خواتین خود کو دوسروں سے بہتر اور اعلیٰ سمجھتی ہیں اور یہ سوچتی ہیں کہ ان کا معیار زندگی دوسروں سے بلند ہے۔ وہ ان خواتین کو حقارت سے دیکھتی ہیں جو برانڈز کی دیوانی نہیں ہیں یا اپنی مالی استطاعت کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے لوکل اور سستی اشیاء کا استعمال کرتی ہیں۔

ملازمت کی جگہیں جیسے دفاتر میں ایسے رویے عام ہیں جہاں مہنگے برانڈز استعمال کرنے والی خواتین ان کولیگز کا مذاق اڑاتی ہیں جو سادہ اور سستی چیزوں کا استعمال کرتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی خاتون مقامی برانڈز کے کپڑے پہن کر دفتر آئے تو اسے طنزیہ جملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ تم ابھی تک لوکل برانڈز پہنتی ہو؟ ہم تو ہمیشہ ڈیزائنر کلیکشن کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ رویہ صرف دفتری ماحول تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوشل گیٹ ٹو گیدرز اور تقریبات میں بھی دیکھا جاتا ہے، جہاں برانڈز کی مخالف یا برانڈز کا بائیکاٹ کرنے والی یا لوکل کپڑے خریدنے والی خواتین کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔

ہر عورت فیشن اور برانڈز کی دوڑ کا حصہ نہیں بنتی۔ کچھ خواتین اپنی مالی استطاعت اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے سادگی اور کفایت شعاری کا راستہ اپناتی ہیں۔ ان کے لیے لباس اور اشیاء کا معیار اس کی قیمت سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ وہ مہنگے برانڈز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ان چیزوں پر پیسہ خرچ کرتی ہیں جو ضروری اور کارآمد ہوں۔ یہ خواتین سمجھتی ہیں کہ زندگی کی خوبصورتی سادگی میں ہے اور فضول خرچی کرنے کے بجائے پیسوں کی بچت اور بہتر مستقبل کی تیاری ضروری ہے۔ یہ خواتین گھریلو مالی حالات اور بہتر مستقبل کو مدنظر رکھ کر برانڈز کا بائیکاٹ کر کے لوکل چیزیں استعمال کرتی ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے نظریات رکھنے والی خواتین کو معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں اکثر کنجوس یا پرانے خیالات والا سمجھا جاتا ہے۔

کفایت شعاری اپنانے والی خواتین کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے جملے اکثر بولے جاتے ہیں کہ تمہارے شوہر تمہیں کچھ مہنگا دلانے کا سوچتے بھی ہیں یا تم خود ہی اتنی کفایت شعار ہو؟ یا اتنی کنجوسی کس لیے کر رہی ہو؟ مگر یہ خواتین اپنے اصولوں پر قائم رہتی ہیں اور سماجی دباؤ کے باوجود فضول خرچی سے بچتی ہیں۔

مہنگے برانڈز کی حامی اور مخالف خواتین کے درمیان اکثر ایک کھینچا تانی اور کشمکش جاری رہتی ہے۔ برانڈز استعمال کرنے والی خواتین کا خیال ہوتا ہے کہ وہ زیادہ اسمارٹ اور اپ ٹو ڈیٹ ہیں، جبکہ کفایت شعار خواتین انہیں ظاہری دکھاوا کرنے والی اور فضول خرچ قرار دیتی ہیں۔ دونوں گروہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے رویوں میں ایک قسم کی مسابقت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی تقریب میں برانڈڈ کپڑے پہننے والی خاتون کو زیادہ توجہ ملے، تو سادہ لباس پہننے والی خاتون یہ سوچ سکتی ہے کہ یہ سب دکھاوے کی دنیا ہے جہاں شخصیت سے زیادہ قیمت کی اہمیت ہے۔ دوسری طرف برانڈز کی دیوانی خواتین کے لیے سادگی کو اپنانا غربت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

فیشن اور برانڈز کی دوڑ کا حصہ بننا یا نہ بننا ہر خاتون کا ذاتی انتخاب ہے۔ لیکن اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ مہنگے برانڈز پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرنا نہ صرف فضول خرچی ہے بلکہ یہ رویہ مالی مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

کفایت شعاری ایک مثبت رویہ ہے جو معاشی استحکام اور مستقبل کے لیے بچت کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ پیسے کا دانشمندانہ استعمال ہی اصل خوشحالی کی ضمانت ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے انتخاب کا احترام کریں۔ جو خواتین برانڈز کی شوقین ہیں، انہیں اپنی پسند کے مطابق جینے کا حق حاصل ہے اور جو کفایت شعاری کو ترجیح دیتی ہیں انہیں ان کے فیصلوں پر شرمندہ نہ کیا جائے۔

پس زندگی ایک متوازن طرزِ عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ فضول خرچی سے بچتے ہوئے ہمیں دوسروں کے جذبات اور پسند کا بھی احترام کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک خوشگوار اور صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

Facebook Comments HS