نوجوانوں کے سوالات
پچھلے دنوں آن لائن وقت گزاری کے دوران کچھ عوامی اجتماعات اور دوسرے میڈیا فورمز پر پاکستانی نوجوانوں کے ذہنی تجسس اور فکری پروسس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ سوالات اور کمنٹس اپنی اپنی جگہ مزید سماجی اجتماعات (ورچوئل) کا باعث بنے۔ بلکہ کچھ سوالات نے تو پیالی میں کافی طوفان اٹھایا۔ سوالات، طوفان اور پیالی پر پہلے ہی خاصی بحث ہو چکی ہے لیکن پھر بھی۔
سب سے پہلے مجھے اب تک یہ بات سمجھ آئی ہے :
1۔ نوجوان لوگ سوچ رہے ہیں اور ان کے پاس سوالات ہیں۔
2۔ انہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ کون سا سوال کہاں یا کس سے کرنا ہے۔
جہاں تک سوالات کی نوعیت کا تعلق ہے ہر دور میں ہر نوع کے سوالات سوچنے والے ذہنوں میں پیدا ہوتے آئے ہیں۔ علم والوں کے جواب راستوں کی جانب دی گئی سہولت سوچنے والوں کی فکری مشقت کی اجرت ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے یہ ایک آہستہ خرام سفر تھا۔ ایک جاننے والے کو مشکل طالب سے کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا تھا۔ برا ہوا یا اچھا کہ ”انفارمیشن سپر ہائی وے“ پر معلومات کی رفتار بہت تیز رہی۔ سنسر شپ کی روایتی بندشیں۔ ترمیم، تنسیخ، تنقیض زائد المیعاد ہو گئیں اور گھڑے گھڑائے جواب ناکارہ۔ راہنمائی کے طور بدل گئے۔
لیکن کیا آج ہمارا دانشور نئے سائل کے بے لاگ سوالات اور فکری راہنمائی کے لیے تیار تھا؟ بظاہر تو لگتا ہے ہماری روایتی سوچ ابھی تک سماجی رکھ رکھاؤ کی تنگنائی اور خیال کے جمود کا شکار ہے۔ دنیا کی کل آبادی کا پچاس فیصد تیس سال سے کم عمر ہے۔ (ورلڈ ڈیٹا) ان میں نصف تو پندرہ سال سے بھی چھوٹے ہیں۔ چار بلین انسان وافر آنلائن روابط، معلومات تک فوری آسان رسائی کے ساتھ بے باک لہجے، بے تکان ابلاغ اور بے تکلف اظہار کے عالمی ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ انہیں مجلسی گفتگو کے مرّوجہ مصنوعی یا متوازن ضوابط اور ابلاغ کے محتاط سنسر شدہ پیرائیوں کا نہ لحاظ ہے نہ ہی اس سے کوئی خاص واقفیت۔
معلومات کا ایک بہت وسیع اور متنوع خزانہ عالمی گاؤں کے نوجوان کی پہنچ میں با آسانی موجود ہے۔ ان کے شعور کی پرداخت مختلف طریق پر ہوئی ہے۔ پہلے ان کی ذہنی پرداخت پانچ سات منٹ میں پڑھے جانے والے ٹیکسٹ یا اسی دورانیئے کی معلوماتی ویڈیوز نے کی ہے۔ پھر مختصر ویڈیوز اور کوئک سرچ انہیں دماغ میں پیدا ہونے والے کسی بھی سوال کا فوری، مختصر اور جامع جواب بہم پہنچاتی ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ نئی پود کے پاس ضخیم کتابیں پڑھنے، ٹھہر ٹھہر کر بات سننے یا مبہم دلائل سمجھنے کی فرصت اور صبر نہیں ہے۔ ان کے موضوع فوری نوعیت کے ہیں۔ ان کا مزاح واقعاتی ہے۔ ان کا بیانیہ سیدھا اور صریح ہے۔ یوں انہیں منطقی طور پر الجھانا مشکل نہیں لیکن انہیں دلائل سے سمجھانا بھی سہل ہے۔ پھر اپنے اپنے علاقوں کے علاوہ یہ جنریشن ایک عالمی کلچر میں بھی حصہ دار ہے جو نہ صرف ہر انسان کو بلا تخصیص اس میں حصہ دار بنا لیتا ہے بلکہ اختلاف رائے کا اظہار کرنے اور سوال اٹھانے کا ان کا حق بھی تسلیم کرتا ہے۔
اس تناظر میں ہم امید کرتے تھے کہ یہ جنریشن کچھ ہی عرصہ میں بڑے عالمی مسائل کے بہتر حل کی طرف قدم اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن اب انٹرنیٹ بھی روایتی سیاسی استبداد اور کارپوریٹ لالچ اور علمی تنگ نظری کے پیچھے گم ہونا شروع ہو چکا ہے۔ دوسری طرف خیال کی تشکیل اور ترویج میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور پیدا کی گئی آسانی سے فطری ذہنی چستی اور تخلیقی صلاحیتوں میں بتدریج انحطاط پیدا ہونا لازم ہے۔ بیدار مغزی کے لیے انسانی دماغ کو منظم طور پر محرک رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ پلک جھپکتے میں مہیا ہونے والے ریڈی میڈ حل اور نتائج کچھ نئے مسائل کی بنا ڈال رہے ہیں۔
وقت کی ضرورت ہے کہ آبادی کے اس بڑے حصے کی فکری راہنمائی کے لیے ہر ایک اپنا کردار ادا کرے۔ سوچ کی پرداخت کے لیے ایسے عملی اقدام اختیار کرنے ضروری ہیں جن کو صنعتی کارندوں کی تربیت کے عالمی نصاب میں کچھ خاص اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ چھوٹی جماعتوں کے لیے تو کلاس روم کے لگے بندھے نصاب اور رٹے ہوئے جوابات سے آگے سوچنا ہی پڑے گا۔ لیکن بڑی جماعتوں کے لیے بھی آن لائن جمع کی گئی تحقیق اور کمپیوٹر پر لکھے گئے ریسرچ تھیسس نامکمل قرار دینے پڑیں گے جب تک طلباٗ اس کے ساتھ کام کا ایک عملی تصور پیش نہ کریں۔
سوال پوچھنے کی روایت کو نئے سرے سے بھرپور ترویج دینا اس سلسلے میں سب سے اہم ہے۔ ہر انسان میں سوال پوچھنے کی صلاحیت پیدائشی ودیعت ہوتی ہے لیکن وقت کے ساتھ گھر، سکول اور معاشرہ رفتہ رفتہ ان سوالوں کو خاموش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ معاشرہ علم سے جتنا تہی ہو گا اتنا ہی سوالوں کے لیے حوصلہ شکن ماحول ہو گا۔ معاشرے کے بڑے جب جواب سے واقف نہیں ہوتے تو وہ سوچ کی پرداخت کرنے کی بجائے سائل کی تحقیر سے تجسس کو دباتے ہیں، اسے کج بحثی قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور پوچھنے والے کو سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنے سوالات کس سے پوچھے۔
انفرادی طور پر تو ہمیں کوشش کرنی ہے کہ اپنے آس پاس سوالات کی حوصلہ افزائی کی جائے جس سے نوجوان سوچنے پر مجبور ہوجائیں۔ ہمیں اس کا آغاز پہلے خود سوال پوچھنے سے کرنا پڑے گا۔ خواہ ہمیں جواب معلوم بھی ہو۔ مقصد آخر میں اپنی علمی قابلیت ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ ان کے دماغ کو ایک بہتر سمجھ بوجھ کی طرف مائل کرنا ہے۔ سوالات کو ”کیا“ اور ”کون“ کی بجائے ”کیسے“ اور ”کیوں“ سے شروع کرنے کی رسم ڈالنی ہوگی۔ بہت سے جواب ایسے ہیں جو ابھی ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہوں گے۔ یہاں ہم جواب ڈھونڈنے کی بہتر تکنیک رائج کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ویب سرچ پر پہلا ملنے والا جواب ہی صحیح یا بہترین جواب ہو۔ اور اگر ہو بھی تو اس کی تصدیق یا تردید کے شواہد کیا ہیں۔
پھر ہمارے معاشرے میں جو کچھ انتہا پسندی کے رجحانات پیدا ہوئے ہیں یا مصنوعی طور پر پیدا کیے جا رہے ہیں اس میں یہ سماجی ضرورت ہے کہ خیالات پر تنقیدی نظر کو کم عمری سے روز مرہ کی گفتگو کا حصہ بنایا جائے۔ واضح کیا جائے کہ کسی مسئلے کو دیکھنے کے ایک سے زیادہ زاویہ نگاہ ہوسکتے ہیں۔ مختلف پہلوؤں کو جانچے بغیر اس پر ایک رائے قائم کرنا کیوں مضر ہے۔ یہاں مطالعہ کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے تاکہ خیال میں گہرائی آئے۔ اور جلد باز، تیز رفتار اور سطحی معلومات کی بجائے فکر ذہن میں جڑ پکڑے۔
ٹی وی کے ریہرسل شدہ گیم یا ٹاک شوز کی بجائے عوام کو سکرین سے باہر ایسی باشعور جگہوں کی ضرورت ہے جہاں انہیں اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی اور تحفظ میسر ہو۔ عموماً تو سکولوں، کالجوں کو اس ہی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن مروجہ نصاب کی قید میں سے نکلنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا تو پھر انہی اداروں میں چھٹی کے دوران سوالات یا جوابات کی محفلیں ترتیب دی جا سکتی ہیں۔ جیسے کوئی موضوع لے کر اس پر جتنے سوالات بنائے جا سکتے ہیں۔ یا کسی ایک سوال کے جتنے مختلف جواب یا حل ممکن ہوں۔
یہاں ہم ان لوگوں کی تلاش میں ہیں جو باہم اختلاف کر سکتے ہیں۔ ان کے مختلف نکتہ نظر کی بنیاد کے بارے میں سیکھنا اہم ہے۔ ہمیں جاننا ہے کہ آیا ایک سے زیادہ رائے ٹھیک ہو سکتی ہیں؟ کیا اس اختلاف سے ہماری سوچ کی بلائنڈ سائڈ آشکار ہو رہی ہے؟ کیا دوسرے کے برعکس کبھی ہم بھی غلط ہو سکتے ہیں؟ ہماری ذاتی اور سماجی ساخت ہمارے خیال کی سچائی سے زیادہ مکرم تو نہیں ہو گئی؟ سیاست، مذہب، انسانیت اخلاقیات بڑے موضوعات ہیں ان پر بات کرنے کے لیے مطالعہ اور ذہنی کشادگی کی ضرورت پڑے گی۔ یہ ایک مشکل لیکن با معانی اور قابل قدر کاوش ہے۔
جوابوں کی تلاش کی یہ محفلیں یقین دہانی کرائیں گی کہ کوئی سوال غیر اہم نہیں۔ ٹاک شوز کے برعکس یہ پوائنٹ سکور کرنے کی نہیں بلکہ باہمی احترام اور برداشت سکھانے کی تربیت گاہ ہیں۔ بحث کرنٹ افئیرز سے لے کر فلسفیانہ گتھی سلجھانے تک متعدد موضوعات تک پھیل جائے یا کسی ایک مخصوص مسئلہ تک محدود ہو اس مشق کا اصل مقصد تو انسانی دماغ کو گہرائی سے سوچنے، منظم طریق پر شواہد جمع کرنے، تہذیب سے رائے دینے اور تعمیری انداز اختلاف کرنے کا طریقہ سیکھنے کا مواقع فراہم کرنا ہے۔


