آمریت اور جمہوریت میں فرق


ہندوستان ایٹمی دھماکے کر چکا تو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی ایٹمی سائنسدانوں، انجینئرز، پاک فوج اور دیگر ذمے داران کو فی الفور جوابی دھماکے کے انتظامات کا حکم جاری کر دیا۔

مشاہد حسین سیّد کہتے ہیں کہ انہی دنوں امریکی صدر بل کلنٹن کی میاں محمد نواز شریف کو کال آئی اور کلنٹن نے ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور سخت پابندیاں لگانے کا عندیہ بھی دیا لیکن جب میاں محمد نواز شریف کسی طور نہ مانے تو کلنٹن نے میاں محمد نواز شریف کو 5 ارب ڈالرز دینے کا لالچ دیا لیکن میاں محمد نواز شریف کا فیصلہ اٹل رہا اور دنیا کی واحد سپرپاور کے صدر کی کھلی دھمکیوں کے باوجود دھماکے ہو کے رہے اور ایک جمہوری اور بہادر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی وجہ سے پاکستان دنیا میں پہلی اسلامی ایٹمی ریاست کے طور پر سامنے آ گیا۔

اب ایک آئین شکن آمر مشرف کی کہانی بھی سن لیں۔ نائن الیون کے بعد جب فرعون بھرے انداز میں صدر بش نے کہا ”جو ہمارے ساتھ ہے وہ ہمارا دوست ہے اور جو نہیں ہے وہ ہمارا دشمن ہے“ تو پھر اس نے پاکستان سے کونڈالیزا رائس، کولن پاول اور رچرڈ آرمٹاج کے ذریعے 9 مطالبات کیے۔ کولن پاول، کونڈالیزا رائس اور رچرڈ آرمٹاج کے انٹرویوز اور ان کی نائن الیون کے بعد سامنے آنے والی کتابیں بھی اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ جب امریکہ کے یہ 9 مطالبات اس وقت کے آئین شکن اور غاصب حکمران مشرف کے سامنے رکھے گئے تو امریکی عہدیداروں کا خیال تھا کہ کوئی بھی آزاد، خودمختار اور غیرت مند ملک اور اس کے کرتا دھرتا کسی بھی صورت ان 9 میں سے 7 مطالبات کبھی نہ مانتے لیکن بقول ان تینوں عہدیداروں کے وہ اور امریکہ کے دیگر ذمے داران ششدر رہ گئے جب آئین شکن اور غاصب مشرف نے ان کے 9 کے 9 مطالبات جوں کے توں تسلیم کر لیے۔ ان تینوں امریکی اہلکاروں کے نزدیک اگر اس وقت کوئی عوامی ووٹوں سے منتخب حکمران پاکستان میں بیٹھا ہوتا تو وہ کسی بھی صورت ان کے کم از کم 7 مطالبات تو سننا بھی گوارا نہ کرتا۔ ماننا تو بہت بڑی بات ہوتی۔

آسی لیے امریکہ اکثر پاکستان میں آمریت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ فردِ واحد سے معاملات طے کرنے میں اسے آسانی رہتی ہے جب کہ جمہوری رہنما بال عوام کے کورٹ یعنی پارلیمنٹ میں پھینک دیتے ہیں اور عوام اپنے منتخب نمائندوں کی مانند امریکی امنگوں کی راہ میں ہمیشہ حائل ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS