امیر المومنین کیسے کیسے بہانے بنائیں گے؟

مشیر اچھے نہیں تھے، وزیر اچھے نہیں تھے، حالات بھی خراب تھے۔
یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی؟ ان کے لیے اچھے سے بہانے سوچو۔
اردشیر عرف آقا ایران اور توران کی مٹی ٹوکروں میں بھر لایا تھا لیکن امیر المومنین نے موسم کی خرابی کی وجہ سے ایران اور توران پر حملہ کر کے انھیں فلاحی ریاست عطا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ان کی حمیت انصاف ایسی پھڑکی کہ انھوں نے میرے پاکستانیوں کو بھی فلاحی ریاست عطا کرنے سے انکار کر دیا کہ اگر پار اتریں گے تو سب ساتھ مل کر پار اتریں گے اور اگر بیڑہ غرق ہو گا تو سب کا ہی ہو گا۔
یوتھیا: امیر کا انصاف، بے ہوش ہیں اسلاف، بے گت ہیں اخلاف۔
امیر نے فیصل مسجد میں شاہ مصر عرف فرعون کو ملنے سے انکار کر دیا کیونکہ مسجد میں کچی مٹی کا قطعہ نہیں تھا جہاں وہ بیٹھ کر غیر ملکی مندوبین سے مل سکیں۔ اس کے نتیجے میں کچھ اہم تجارتی معاہدے نہیں طے پا سکے۔ لیکن امیر کا کہنا ہے کہ سنگ مرمر تو نم نہیں ہو سکتا۔ اور اگر نم نہیں ہو گا تو زرخیز کیسے ہو گا۔ اور مٹی کی کمی پوری کرنے کے لیے ایران اور توران کے مٹی کے ٹوکرے واپس لانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ جونہی وہ مٹی آئے گی، اسے زرخیز کرنے کے لیے کامریڈ شنگ پاؤ کی کمپنی کو ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔ امید ہے جون 2028 میں کشت ویراں زرخیز ہو جائے گی۔
یوتھیا: امیر کی دوربینی، کم بخت کی نکتہ چینی۔
امیر ایک جدید فلاحی رصد گاہ کی تعمیر کے لیے نصیر الدین بے چارے کو طوس سے منگوا رہے ہیں۔ اس کی ہڈیاں تلاش کرنے کی ٹیمیں جیسے ہی کامیاب ہوتی ہیں، اسے جوڑ جاڑ کر رصد گاہ کا چیئرمین بنا دیں گے اور اس کے بعد وہ اپنی پھونک سے ایسی شعاعیں جاری کرے گا جس کے بعد تعلیم، روزگار، صحت، معیشت اور معاشرت کے سارے مسئلے خود بخود حل ہو جائیں گے۔
یوتھیا:ترقی کی مہ لقا، طوس کا خوش ادا۔
باطل کی قوتوں کی للکار کا جواب دیتے ہوئے امیر نے راجا داہر عرف مودی کے مجسمے کو اتنے زور سے بھینچا کہ وہ کم بخت قوت ایمانی کی تاب نہ لا سکا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ بعد میں پتا چلا کہ کسی ڈیزائنر شاپ کے باہر کسی مجسمے سے لپٹ گئے تھے۔ کپڑوں کی دکان والوں نے منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امیر پر ہرجانے کا دعوی کر دیا ہے لیکن اہم ذرائع کہتے ہیں کہ امیرالمومنین کے معانقے کے بعد اس مجسمے میں سے ایسے نوادرات برآمد ہوں گے جن کی تجارت کے بعد سب گھاٹے اور خسارے ختم ہو جائیں۔ لیکن ان نوادرات کو اکٹھا کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔
یوتھیا: کم بختو انتظار کرو، انتظار کرو، دولت کے آنے تک امیر سے پیار کرو۔
افضل کو دربار خلافت میں نہ آنے کی اجازت دے کر امیر نے امت کو فتنہ و فساد سے بچا لیا ہے۔ ہر چند وہ واویلا کرتا رہا کہ میرے پاس کوئی سرکاری عہدہ ہے ہی نہیں مگر امیر نے اسے معزول کر دیا۔ اس کی معزولی کے بعد توقع ہے کہ اشیائے خوردونوش سستی ہو جائیں گی کہ امیر نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے کھانے کو بھی کچھ نہ دیا جائے۔
یوتھیا: امیر تم نے کیسی سوچی؟ بھوکا پیٹو سستی روٹی۔
