گر دوزخ بر روئے زمیں است!
تصور کریں کہ آپ اپنے آبائی وطن کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہے ہیں، ہجرت پر مجبور ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ پناہ کہاں ملے گی۔ آپ کے دل میں مایوسی اور خوف بھرا ہوا ہے۔ جب آپ اپنے گھر کے دروازے سے آخری بار باہر قدم رکھتے ہیں، تو آپ ایک بار پلٹ کر پیچھے دیکھتے ہیں۔ وہی سرسبز وادی، جو کبھی زندگی اور خوبصورتی کی علامت تھی، اب موت اور ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہے۔
دریا اور جھیلیں خشک ہو چکے ہیں اور جنگلات جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔ جانوروں کی بھی، اور انسانوں کی بھی۔ جو کبھی یہیں جیتے جاگتے تھے، اب تعفن اور زہر آلود ہوا میں گل سڑ رہے ہیں۔ آپ کے کانوں میں سوائے آگ کے شعلوں کی چٹخنے کی آواز کے کچھ نہیں آتا۔ یہ آگ ہوا میں نمی کی ضروری مقدار کی کمی کی وجہ سے خود بخود بھڑک اٹھتی ہے، آپ کے ارد گرد کا ہر منظر موت کی آغوش میں ہے، جیسے فطرت کا نزع کے عالم میں آخری سانس چل رہا ہو۔
یہ محض تخیل نہیں، بلکہ ایک تلخ سچائی بننے کے قریب ہے۔ شدید ماحولیاتی تبدیلیاں اب کوئی دور کی بات نہیں رہی، بلکہ وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جب یہ خوفناک منظر حقیقت کا روپ دھار لے گا!
آزاد کشمیر کے باسی شاید کبھی یہ نہ سوچیں کہ ان کا مستقبل کسی گنجان آباد شہر کی طرح ہو سکتا ہے۔ ان کی سرسبز وادیاں بھی ایک دن صنعتی علاقوں کی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا باعث بن سکتی ہیں۔ مگر یہ ہو رہا ہے۔ فضا میں ضروری نمی کی کمی سے جنگلات مسلسل آگ کی لپیٹ میں آ ہی رہے، مگر اس پر ظلم یہ کہ بے دریغ کٹائی کے باعث یہاں کی زمین اپنی سبز چادر کھو رہی ہے۔ 2001 سے 2023 تک، آزاد کشمیر کے جنگلات کا سینکڑوں ہیکٹر رقبہ تباہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے میں، آگ نے 119 ہیکٹر درخت جلا دیے جبکہ دیگر عوامل نے سینکڑوں مزید ہیکٹرز کا صفایا کر دیا۔ 2004 میں درختوں کے آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ صرف اُس سال 23 ہیکٹر جنگلات آگ کی نذر ہو گئے، جو اُس سال کی کُل کمی کا 31 فیصد تھا۔
اسی پر بس نہیں، ماحول کو تباہ کرنے میں کچھ شعوری کارستانیاں بھی ہیں۔ دریاؤں کو گٹر لائنوں اور اور کچرے نے زہر آلود کر دیا ہے۔ جو پانی کبھی زندگی بخشا کرتا تھا، وہ اب موت کی علامت بن چکا ہے۔ شہر اور دیہات کچرے کے ڈھیروں میں بدل چکے ہیں، اور ہم میں سے بہت سے لوگ اس آلودگی اور بربادی کو نظر انداز کر کے اپنے گھروں میں دیودار کی لکڑی سے دروازے اور پینلنگ کروا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ کیا یہ ہماری سنگین بے حسی کی علامت نہیں؟
اور سیاحت کے نام پر تو ہم نے کشمیر کی وادیوں کو گندگی کے ڈھیروں میں بدل دیا ہے۔ رتی گلی جیسی جگہ، جو کبھی جنت کی طرح پاکیزہ تھی، اب پلاسٹک کی بوتلوں اور کچرے سے بھری ہوئی ہے۔ اور ماحول دشمن نام نہاد سیاحوں کی رہنمائی کے لیے کوئی نظام موجود نہیں، جو انہیں یہ سمجھا سکے کہ منرل واٹر قدرتی چشموں میں ملتا ہے، نہ کہ نیسلے کی بوتل میں، جسے وہ مظفرآباد سے تاؤ بٹ تک پھینکتے چلے جاتے ہیں۔
یہ سادہ سی سائنس کہ قدرت کے اس نظام میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق کا اس زمین کے ماحولیاتی نظام میں ایک مخصوص کردار ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ جب ہم ایک چھوٹے جاندار، جیسے مکھیوں یا دیگر کیڑوں کی نسل کو ختم کر دیتے ہیں، تو اس کے اثرات پورے ماحول پر پڑتے ہیں۔ ان کیڑوں کا کام صرف ہمیں تنگ کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ زمین پر زندگی کے اہم پہلوؤں میں شامل ہیں۔ مکھیوں کی مثال لیجیے، جو کئی پھولوں اور فصلوں کی زرخیزی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اگر مکھیوں کی تعداد کم ہو جائے یا یہ ختم ہو جائیں، تو کئی پھول دار پودوں کی افزائش کا سلسلہ بھی رُک جائے گا، اور آہستہ آہستہ اس کا اثر درختوں اور سبزے پر پڑے گا۔ جب سبزہ کم ہو جائے گا، تو اس پر پلنے والے جانور، جیسے گھاس کھانے والے جانور، بھوک کی وجہ سے مرنے لگیں گے۔ پھر ان جانوروں پر انحصار کرنے والے درندے بھی خوراک کی کمی کا شکار ہو کر ختم ہو جائیں گے۔ یوں، یہ زنجیر ٹوٹتی جائے گی اور آخر میں ہمیں ایک بے جان اور ویران زمین ملے گی۔ اگر کیڑوں اور دیگر چھوٹے جانداروں کی نسل ختم ہو جائے، تو ہماری فصلیں بھی ختم ہو جائیں گی، اور نتیجہ بھوک، قحط، اور خوراک کی کمی کی صورت میں نکلے گا۔ حضرت انسان کے علاوہ قدرت کی بنائی کسی بھی چیز کو نکال کے دیکھ لیجیے نتیجہ محض تباہی ہو گا۔
”کشمیر جنت نظیر“ کا راگ الاپنے والوں سے گزارش ہے کہ خطرات کو حقیقت کی نظر سے دیکھیں۔ ناروے کی طرح سنجیدہ ہو کر ماحولیاتی انصاف کرتے ہوئے جنگلات کے کٹاؤ پر پابندی لگائیں اور ان کی طرح جنت بنا کر دکھائیں۔ نیپال کی طرح پلاسٹک بیگ ختم کرنے کے لیے کوئی اقدامات کریں۔ بنگلہ دیش سے کچھ سیکھ لیں اور اس کی طرح ان ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی کوئی سنجیدہ کوشش کریں جنہوں نے سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی لگا دی ہے۔ اور اگر کچھ نہیں تو بھارت کی طرح پلاسٹک کی پیداوار پر پابندی کے قوانین بنانے اور ان کے نفاذ کی کوئی کوشش کریں۔
میونسپل کارپوریشنز میں ہمارے منتخب نمائندے اپنی ماحولیاتی ذمہ داریوں سے یکسر غافل نظر ہیں، اور ان کا زیادہ تر وقت اور توانائی سیاسی مفادات کے حصول، ووٹرز کو خوش کرنے، اور سفارشی بھرتیوں اور تبادلوں میں صرف ہو رہا ہے۔ صفائی، کوڑا کرکٹ، اور فضائی و آبی آلودگی جیسے اہم ماحولیاتی مسائل ان کی ذمہ داریوں کی فہرست میں کہیں نہیں ہیں۔ گندگی کے ڈھیر، بند نالیاں، اور بڑھتی ہوئی آلودگی روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں اور ہمیں ان سے کوئی پریشانی نہیں ہو رہی۔
ماحول اور صحت دونوں بری طرح متاثر ہو رہے ہیں مگر مجال ہم ٹیکس دینے کے بعد بھی کوئی سوال کرتے ہوں یا ہمیں کرنے دیا جاتا ہو۔ اور اب محض سوال اٹھانے یا توجہ دلانے سے یہ تباہی رکنے والی بھی نہیں۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ماحولیات سے متعلق تعلیم کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ان کے روزمرہ کے اعمال ماحول پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب تک عوام کو یہ شعور نہیں ہو گا کہ صفائی اور وسائل کا صحیح استعمال کیوں ضروری ہے، ماحول کی تباہی کو روکنا ممکن نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو جنت سے نکالے ہوؤں کو اب شاید کہیں اور جگہ نہ ملے اور وہ وقت دور نہیں جب آپ ہم چیخ چیخ کے کہہ رہے ہوں گے
گر ’دوزخ‘ بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است


