نظام کہاں رکتا ہے؟ سیاست، طاقت اور غربت کا تعلق
پاکستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات اور آئینی ترامیم کے دوران ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ طاقتور طبقات کس طرح سیاسی فیصلوں کو اپنے مفادات کے تابع کر لیتے ہیں۔ حال ہی میں کی جانے والی 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عوام کو یہ محسوس ہوا جیسے یہ سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہو۔ تاہم، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ مسئلہ صرف پارلیمانی سطح تک محدود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل انتہائی پیچیدہ ہیں، اور ہر شعبہ کسی نہ کسی طریقے سے سماجی نقائص کے باعث زنگ آلود ہو چکا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ دو سالوں میں 90 ملین سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ ایسے حالات میں غریبوں کے لیے مزید برے وقت نہ آنے کی گنجائش کہاں بچتی ہے؟ جب نظام کے اندر ہی سماجی خرابیاں موجود ہوں، تو اس کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ ہمیشہ کمزور اور محروم طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ خرابیاں نہ صرف وسائل اور طاقت کی غیرمنصفانہ تقسیم کی صورت میں نظر آتی ہیں بلکہ ہر شعبے کو زہر آلود کر چکی ہیں، جن میں معیشت، تعلیم، صحت اور پالیسی سازی نمایاں ہیں۔ یہی نظامی خرابیاں معیشت میں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ حال ہی میں پنجاب میں طاقتور زمینداروں اور مافیاز کی جانب سے گندم کی بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی نے مصنوعی قلت اور آٹے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کو جنم دیا۔ حکومتی سبسڈی اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام رہیں، کیونکہ مافیاز نے ذاتی مفادات کو ترجیح دی، جس سے عوام کو مہنگائی اور قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس دوران عام کسانوں کو مناسب قیمت پر اپنی پیداوار بیچنے کے مواقع نہ مل سکے، اور وہ مجبوراً کم نرخوں پر گندم فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ طاقتور طبقات کس طرح معیشت کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر غریب افراد پر پڑتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف مادی نقصان پہنچاتا ہے بلکہ غریب طبقات میں مایوسی اور بے بسی کے احساس کو بھی مزید گہرا کرتا ہے۔ یہ صورتحال صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ علم اور پالیسی سازی پر بھی طاقتور طبقات کی گرفت میں جھلکتی ہے۔
مائیکل فوکو کے مطابق، طاقت کا اظہار صرف وسائل پر کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں کی تشکیل کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ اشرافیہ کے لیے علاج کی سہولیات ملک سے باہر دستیاب ہیں، جبکہ عوام بنیادی صحت کی خدمات سے بھی محروم ہیں۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں صحت کے مراکز کی کمی اور سہولیات کا فقدان اسی عدم مساوات کا ایک اور مظہر ہے، جہاں معمولی علاج کے لیے بھی لوگوں کو شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی اور سماجی محرومی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
تعلیم کا شعبہ بھی ان نقائص سے بری نہیں ہے۔ پاکستانی سول سروس (CSS) کے امتحانات ایک اہم مثال ہیں، جو بظاہر میرٹ پر مبنی نظر آتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ تعلیم اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کو نمایاں کرتے ہیں۔ اشرافیہ کے طلبا کو کوچنگ سینٹرز، ماہر اساتذہ، اور خصوصی تربیت تک رسائی حاصل ہوتی ہے، جبکہ پسماندہ علاقوں کے نوجوان ان سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ نتیجتاً، سول سروس کے اعلیٰ عہدے انہی افراد کو ملتے ہیں جو پہلے سے سماجی نیٹ ورکس اور تعلیمی وسائل کا فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
اس عمل سے نہ صرف اشرافیہ کی اجارہ داری برقرار رہتی ہے بلکہ ترقی کے مواقع بھی عام شہریوں کے لیے محدود ہو جاتے ہیں۔ تھرپارکر کے قحط زدہ علاقے اس بات کی ایک اور مثال ہیں کہ غربت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ اوسکار لیوس کے ”غربت کے کلچر“ کے نظریے کے مطابق، غربت میں مبتلا افراد ایک مخصوص طرزِ زندگی اپنا لیتے ہیں، جس سے وہ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کی حالت کبھی نہیں بدلے گی۔ یہی مایوسی قبائلی علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں ریاست کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی نے عوام کو ترقی کے عمل سے مایوس کر دیا ہے۔
سماجی نیٹ ورکس بھی ان مسائل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلام آباد پلاٹ اسکینڈل اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح با اثر افراد ترقی کے مواقع اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ با اثر افراد کو سستے داموں قیمتی زمینیں الاٹ کی گئیں، جبکہ عام شہریوں کے لیے گھر کا خواب پورا کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔ بلوچستان میں بھی معدنی وسائل اور زمینوں پر کنٹرول انہی طاقتور حلقوں کے پاس ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی ان وسائل کے فوائد سے محروم رہتی ہے۔
ریاستی ادارے بھی انہی طاقتور طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ مارکس ویبر کے مطابق، بیوروکریسی کا نظام عوامی فلاح کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کی خدمت کرتا ہے۔ با اثر شخصیات کے لیے ملک سے باہر علاج کی سہولیات کی فراہمی اور عوام کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اس بات کی علامت ہیں کہ ریاستی نظام میں عدم مساوات گہری ہو چکی ہے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقوں کے عوام بھی ریاستی اداروں کی ناکامی کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں وہاں بداعتمادی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آخرکار، سوال یہ ہے کہ یہ نظام کہاں رکتا ہے، یا شاید رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ سیاست سے لے کر معیشت تک، طاقت اور مواقع ہمیشہ انھی لوگوں کے گرد گھومتے رہے ہیں جو پہلے سے با اختیار ہیں۔ ہر شعبے میں اشرافیہ کی اجارہ داری نے عوامی ترقی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔ جب تک اس گہرے جڑ پکڑے ہوئے نظام کو چیلنج نہیں کیا جاتا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی نہیں بنائی جاتی، غربت کا دائرہ وسیع تر ہوتا رہے گا اور عوام کا خواب حقیقت بننے سے دور رہے گا۔ لیکن یہ تبدیلی صرف نیت اور اصلاحات سے ممکن نہیں، بلکہ ایک اجتماعی شعور اور عوامی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے جو اس سوال کا جواب ڈھونڈے : یہ نظام کہاں رکتا ہے، اور اسے رکنا کب چاہیے؟

