دل و ذہن کے دریچے وا کیجیے اور سوچیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرض کریں آپ ایک ایسے کمرے میں موجود ہیں جہاں باہر جانے کے لیے بہت سے راستے ہیں لیکن کمرے میں تاریکی ہے اور روشنی صرف ایک دروازے پہ پے۔ اگر آپ کو باہر جانا ہے تو ذہن میں صرف ایک ہی راستہ آئے گا وہ راستہ جس پہ روشنی پڑ رہی ہے۔ باقی روشنی کی طرف جانے کے راستوں کا تصور ذہن میں اپنی جگہ نہیں بنا پائے گا۔ اس صور تحال کے دو پہلو ایک پہلو ہے ارتکاز توجہ کا ہے کہ صرف ایک ہی جانب توجہ رہے دوسرا پہلو خیال کو محدود کرنے کا ہے کہ کسی اور امکان پہ غور ہی نہ کیا جاسکے۔ گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو دونوں باتیں ایک ہی ہیں ارتکاز توجہ امکانات کے جائزے کو محدود کر سکتا ہے خاص طور پہ اس صورت میں جب سوچنے اور انسپائریشن لینے کے لیے کوئی اور راستہ موجود نہ ہو جو ممکنہ متبادل کو سمجھنے میں مدد دے سکے۔ سوچ کے لیے نئے راستے کھول سکے۔ تو ایسی صورت میں ایک ہی راستے کو اپنایا جا سکتا ہے اور اس کا اختیار اتنا حتمی ہو سکتا ہے کہ کثیر جہت سوچ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ روشنی کا سفر صرف اسی سمت میں نظر آتا ہے جس پہ توجہ مرکوزکی جائے۔

ایسی ہی صورتحال ہمارے تعلیمی نصاب کی ہے۔ نصاب کی تدوین میں ایک خاص حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ اس میں ایک طرف خفیہ مقاصد ہوتے ہیں جو کسی خاص مکتب فکر کو مد نظر رکھ کے ترتیب دیے جاتے ہیں اس کا مقصر اس نظریے کا پرچار کرنا ہوتا ہے۔ جس کے لیے نصاب کو ترتیب دیا جا رہا ہو۔ اگلے مرحلے میں وہ نصاب ترتیب دیا جاتا ہے جو کتابی صورت یا آن لائین طلبا، اساتزہ اور والدین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ جو مخصوص مضامین کی صورت میں ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں پیش کیے جانے والے تمام انصاب انیس بیس کیے فرق سے دیکھنے میں ایک سے ہی لگتے ہیں ان میں پیش کیا جانے والا مواد بی تقریبا ایک سا ہی لگتا ہے لیکن حیققت اس کے برعکس ہے۔ مختلف اداروں میں پڑھنے والے طلبا کے رویوں اور انداز سوچ کا فرق کہاں پر وان چڑھتا ہے؟ وہ کیسے دیکھنے اور زندگی کے معاملات میں ایک دوسرے کے متضاد کیوں لگتے ہیں؟ یہ تربیت کا معاملہ ہے۔ نصاب کا مقصد محض لفظ پڑھانا نہیں ہوتا اس کا مقصد ایک خاص انداز فکر کی ترویج ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے۔ تعلیم کے مختلف مدارج میں بتدریج آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے ذہن نشین کروایا جاتا ہے کہ یہ لا شعوری طور پہ عادات اور سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ خیالات کی ترویج کی جائے لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اس عمل میں سوچ کے دروازوں کو بند کیا جاتا ہے۔ اور ایسے بند کیا جاتا ہے کہ نئی سوچ کا امکان معدوم ہونے لگتا ہے۔

اصولی طور پہ تعلیم کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کیا سوچا جائے بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کیسے سوچا جائے۔ لیکن نصاب کی تدوین میں ساری طاقتیں کیا سوچا جائے پہ صرف کر دی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پہ بلومز ٹیکسانومی یا سولو ٹیکسانومی کو مد نظر رکھتے ہوئے نصاب ترتیب دیا جاتا ہے۔

بلوم ٹیکسانومی میں ادراکی طریقہ سے بتدریج اطلاقی دائرہ کار تک سفر ہوتا ہے جس میں جاننا، پرکھنا، تجزیہ کرنا، مطابقت پیدا کرنا، موازنہ کرنا، اصول و حقائق سمجھنا، متبادل تلاشنا، ترتیب دینا، جانچنا، پیش گوئی کرانا اور اطلاق کرتے ہوئے کہاں، کب، کیوں اور کیسے کے سوالات کو مد نظر رکھنا شامل ہے۔ سولو ٹیکسانومی میں سیکھنے کے عمل کو چار مدارج تقسیم کیا گیا ہے۔ سادہ سے مشکل کی طرف کا سیکھنے کے عمل کو نسبتا واضح اور کم پیچیدہ انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ دونوں طریقہ استعمال میں ہیں لیکن اصل نتائج نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف زندگی کی 35 مہارتوں کی تربیت بھی تعلیم کا اہم مقصد ہے جسے، ذہن یعنی ذہنی استعداد کی مہارتوں کو بڑھانے کی سرگرمیاں، دل یعنی اخلاق و اقدار کی ترویج، ہاتھوں کی سرگرمیاں یعنی وہ سرگرمیاں جن میں عملی شمولیت ضروری ہے اور صحت یعنی صحت و صفائی اور ذرائع کا بہتر استعمال کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اچھے اداروں میں ان کو خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور ان کے لیے، نصانی، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے طلبا کی تربیت بھی کی جاتی ہے۔

تعلیم کے لیے حکمت عملی اپنانا اس کا اطلاق سب اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اس کے ذریعے خاموش دیر اثر زہر کے انداز میں مخصوص مکتب فکر کو طلبا کے ذہن و دل میں شامل کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ایک مخصوص نقطہ نظر سے ہٹ کر نہیں سوچ سکتے انتہائی غلط ہے۔ اپنے مشاہدے، مفروضے، تجزیے اور نتیجے پہ پہچنا اور نتیجہ بھی وہ جس پہ ہمیشہ بحث کی گنجائش باقی ہو جسے حتمی نہ مانا جائے اس کی بجائے ایک بند کمرے میں موجود اس شخص کی مثال بنتے ہیں جس کے لیے اپنے سامنے نظر آنے والا راستہ ہی حتمی اور نا قابل تبدیل ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی بات خواہ کتنی ہی روشن اور سچ کیوں نہ ہو بے معنی اور جھوٹ ہوتی ہے۔

بات یہ نہیں کہ اپنے نظریے کا پرچار کرنا اس کو اپنانے والے افراد پیدا کرنا غلط ہے۔ غلط بات اندھے اور بہرے مقلدین پیدا کرنا ہے جو اپنی بات کی سوا کسی کی بات نہ سمجھ سکیں نہ اپنے نظریے کو بدلنے کی یا اس پہ نظر ثانی کرنے کی کوشش کریں۔ جو زندگی جینے کے ہنر سے نا واقف ہوں جنہیں زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات سے لے کر سنجیدہ مسائل تک کو حل کرنا ایک عذاب نظر آتا ہو۔ ایسے ہدایات کی اندھا دھند پیروی کرنے والے ربورٹ مسائل ختم تو نہیں کر سکتے ان میں اضافے کا باعث ضرور بن سکتے ہیں۔ سوچنے کی خواہش، معاملات کو اپنے انداز سے دیکھ کر ماحول کو سمجھ کر ان کے حل کی کوشش، ذرائع کا عقلمندانہ استعمال، صحیح اور بر وقت فیصلہ کرنے کے لیے آنکھوں کو کھلا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے اس تربیت کی ضرورت جو اپنے مفاد سے زیادہ یہ سمجھے کہ اس کا واسطہ انسانوں سے ہے عام منڈی کی اشیا سے نہیں کہ جسے محض اپنے فائدے، نقصان کے تناظر میں دیکھا جائے بلکہ اسے انسان کی تربیت کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اسے سنجیدگی سے سمجھا جائے تو اس سے ملنے والا فائدے بہت پائیدار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •