پاکستانی طلبہ سائنس سے بیزار کیوں ہیں؟

اگرچہ سائنس سکولوں کے نصاب میں لازمی مضمون ہے لیکن بہت کم پاکستانی نوجوان سائنس سیکھنا چاہتے ہیں اور سائنس دان بننے کے خواہشمند نہ ہونے کے برابر ہی ہیں۔ عرصہ دراز سے سائنس کو اتنا کراہت انگیز اور خشک مضمون گردانا جاتا ہے کہ اب لوگ سائنس جو کہ انسان کی سمجھ اور اس کی ترقی کی ضامن ہے سے نہ صرف بیزار ہوچکے ہیں بلکہ سائنس کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے ذہین طلبہ یقیناً سائنس سے

Read more

ٹیکسٹ بک کا استبداد

کوئی ایک عشرہ قبل لاہور میں ایک پرائیو یٹ یونیورسٹی نے مجھے کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کو فلسفے کا ایک ابتدائی کورس پڑھانے کی دعوت دی۔ کورس آؤٹ لائن پر گفتگو کرنے کے لیے جب میں ڈین صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں کون سی ٹیکسٹ بک استعمال کروں گا۔ میرا جواب تھا کہ فلسفے میں ٹیکسٹ بک نہیں ہوتی۔ یہ جواب ان کے لیے کسی حد تک صدمہ انگیز تھا۔ کہنے لگے

Read more

تاریخ کی آخری کتاب

پیارے بچو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ برصغیر میں محمد بن قاسم کے حملے سے پہلے انسانوں نے قدم نہیں رکھے تھے اور اسی وجہ سے ہماری درسی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے۔ آپ سب کی سہولت کے لیے ”تاریخ کی آخری کتاب“ پیش کی جا رہی ہے جو برصغیر میں نسل انسانی کی پہلی آباد کاری کے بارے میں آپ کو جانکاری دے گی۔ امید ہے کہ ملک بھر کے ٹیکسٹ بک بورڈ اسے نصاب میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور انہوں نے جو کوتاہی ”اردو کی آخری کتاب“ نصاب میں شامل نہ کرتے ہوئے کی ہے، اس کا ازالہ کر دیں گے۔

یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ محمد بن قاسم سے پہلے برصغیر میں انسان نہیں رہتے تھے۔ اس کتاب کو پڑھ کر بلاوجہ کی بچکانہ تنقید کرنے والے کچھ گمراہ لوگ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات کی طرف اشارہ کر کے آپ کو کہیں گے کہ یہ اس علاقے میں زمانہ قدیم سے انسانوں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ لیکن خدارا گمراہ مت ہوں۔ ان آثار کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ تحریک پاکستان کے مخالف چالاک ہندو بنیوں نے ان آثار کو بنا کر مٹی کے نیچے دبا دیا تھا تاکہ بعد میں ٹی وی کیمروں کے سامنے انہیں کھود نکال کر بھولے بھالے بچوں کو یہ دھوکہ دیا جا سکے کہ محمد بن قاسم سے پہلے بھی اس خطے کی کوئی تاریخ ہوا کرتی تھی۔

دوسری طرف یہ بحث بھی کی جانے لگی ہے کہ کیا بچوں کو نظریاتی تعلیم دے کر اچھا روبوٹ بنایا جائے یا پھر ان کو حقیقت بتا کر خود اچھے برے کی تمیز کرنی سکھائی جائے۔ جس شخص نے بھی آرنلڈ شوارزنیگز کی ٹرمینیٹر نامی فلمیں دیکھی ہیں، وہ بخوبی جانتا ہے کہ دنیا پر جلد ہی روبوٹوں کی حکومت قائم ہونے والی ہے، اس لیے نظریاتی تعلیم دینا ہماری قوم کو وہ عروج دے گا کہ دنیا ہماری مثال دیا کرے گی اور کرہ ارض پر کوئی بھی دھماکہ خیز بات ہو تو ہمارا نام ہی لیا جائے گا۔ دور جدید کی ضروریات جانتے ہوئے اس جدید تاریخی ریڈر میں اس بات کا پورا خیال رکھا گیا ہے کہ بچوں کی نظریاتی بنیاد خوب مستحکم ہو جائے اور وہ صرف خود کو ہی انسان سمجھیں۔ بلاوجہ بچوں کو سچ بولنا سننا سکھا دیا، تو وہ فسادی بن جائیں گے اور اپنا دماغ استعمال کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔

Read more