نئے چیف جسٹس کی تقرری: حق بحق دار رسید


کہتے ہیں ”تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ“ انسان تدبیر کر رہا ہوتا ہے اور تقدیر ہنس رہی ہوتی ہے۔ سو موجودہ چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی تقرری ”حق بحق دار رسید“ کے مصداق ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس 2 سال میں ہائی کورٹ کے ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتیوں میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے پلان کے تحت جونئیر جسٹس منیب اختر کی جسٹس یحیی آفریدی سے پہلے سپریم کورٹ میں تقرری کی۔

انہوں نے 8 مئی 2018 کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کے بجائے چوتھے نمبر کے جسٹس منیب اختر کو سپریم کورٹ کا جج لگایا۔ جسٹس دوست محمد 20 مارچ 2018 کو ریٹائر ہوئے ان کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا ان کی جگہ فوراً یحیی آفریدی کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا جانا تھا، خیبر پختونخوا کی سیٹ کو 20 مارچ 2018 سے 28 جون 2018 ( 3 ماہ دس دن ) تک خالی رکھا گیا 28 جون 2018 کو جسٹس یحیی آفریدی کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کر کے جونئیر بنایا گیا تاکہ وہ زیادہ عرصہ تک چیف جسٹس نہ رہ سکیں۔ منیب اختر کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ سپریم کورٹ میں چار سال میں 7 ججز کا تقرر ہوا، ان 7 میں سے 5 جونیئر تھے جبکہ دو جج سنیارٹی کی بنیاد پر تعینات ہوئے، ان میں جسٹس آفریدی اور جمال مندوخیل شامل تھے۔

ثاقب نثار کے ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں بھی ہائی کورٹ سے دو جونیئر جج تعینات ہوئے، سنیارٹی لسٹ میں 26 ویں نمبر کے جسٹس قاضی امین کو ( ریٹائرمنٹ کے ایک ماہ بعد ) سپریم کورٹ کا جج لگایا گیا۔ اسی طرح سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر کے جسٹس امین الدین بھی سپریم کورٹ کے جج بنے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے 4 ججز تعینات کیے، ان میں سے تین جونیئر تھے یعنی جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی تیسرے، جسٹس محمد علی مظہر پانچویں، جبکہ عائشہ ملک چوتھے نمبر پر تھے۔

چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی کی مختصر پروفائل یہ ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم ایچیسن کالج لاہور سے حاصل کی۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا۔ قانون کی ڈگری کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ سے حاصل کی۔ 1990 میں بطور وکیل ہائی کورٹ پریکٹس شروع کی جبکہ 2004 میں سپریم کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا۔ اس دوران وہ خیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔

2010 میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج تعینات ہونے سے پہلے وہ ’آفریدی، شاہ اور من اللہ‘ لاء فرم کا حصہ تھے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کے دیگر دو شراکت دار منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ بھی جسٹس آفریدی کی طرح سپریم کورٹ کے جج بنے۔ 2012 میں جب جسٹس آفریدی پشاور ہائیکورٹ کے مستقل جج بنے تو وہ اس فرم سے علیحدہ ہو گئے۔ 30 دسمبر 2016 کو جسٹس آفریدی پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور 28 جون 2018 کو سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا لیگل کیریر بہت شاندار ہے۔ انہوں نے ایسے فیصلے دیے ہیں جن کو وکلاء کمیونٹی میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کسی بھی معاملے میں خود کو متنازع نہیں بنایا۔ وہ آئین اور قانون کے مطابق ہی فیصلہ دیتے رہے۔ ان کے چند فیصلوں کا یہاں تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

• مسلم لیگ نون نے جب صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کرایا تو جسٹس آفریدی بحیثیت پشاور ہائی کورٹ جج اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہ تھے۔ انھوں نے پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کروا دیے تھے تاکہ اس مقدمے کے فیصلے تک وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔ تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس فیصلے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے عدالت کے حکم کو معطل کر کے سابق فوجی صدر کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

• 2018 میں جب جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تو اگلے ہی روز چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک واقعے پر از خود نوٹس لیا اور اس تین رکنی بینچ کا جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی حصہ بنا دیا تاہم انہوں نے یہ کہہ کر اس بینچ میں شمولیت سے انکار کر دیا کہ ان کا از خود نوٹس سے متعلق اپنا نقطہ نظر ہے۔

•جسٹس یحیی آفریدی نے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو مسترد کیا تھا۔

•سابق وزیر اعظم عمران خان کو 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے بعد مئی 2022 میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا اور عمران خان نے اپنے وکلاء کے ذریعے سپریم کورٹ کو ضلعی انتظامیہ سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن وہ ایسا نہیں کر سکی تھی۔ حکمران اتحاد یہ معاملہ لے کر سپریم کورٹ گیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل تھے۔ چیف جسٹس سمیت چار ججز نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، تاہم جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کے باوجود وعدہ خلافی کی، اس لیے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

•جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس سات رکنی بینچ سے خود کو الگ کر لیا تھا جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سات ججز کی جانب سے لکھے گئے خطوط کی بنیاد پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تشکیل دیا تھا۔ جنہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ خفیہ اداروں کے اہلکار عدالتی معاملات میں مداخلت اور مرضی کے فیصلوں کے لیے ججز پر دباؤ ڈالتے ہیں۔

• جسٹس آفریدی مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو الاٹ کرنے کے فیصلے کی مخالفت میں چیف جسٹس قاضی فائز کے ساتھ چار ججوں میں شامل تھے۔

•جسٹس یحییٰ آفریدی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے علاوہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کا بھی حصہ تھے۔

پاکستان کی مختلف بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز نے ان کی تقرری کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا تعلق سندھ، لاہور، خیبر پختونخوا، بہاولپور اور اسلام آباد سے ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی کی تعیناتی سے عدلیہ اور قوم دونوں کو فائدہ ہو گا کیوں کہ ان کی قانونی فہم و فراست انہیں اس اہم عہدے کا حق دار بناتی ہے۔

بار کونسل پشاور کے سیکرٹری نے کہا کہ یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ وہ قانون کی پاسداری، آئین کی عملداری، انصاف کے تقاضوں کو پروان چڑھانے اور عدلیہ کی عظمت کو بڑھانے میں ماضی کی روایات کو برقرار رکھیں گے۔ فی الوقت سپریم کورٹ میں گروپنگ ان کا پہلا امتحان ہو گا خدا کرے وہ اس میں سرخرو ہوں اور ملک میں آئین کی بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

Facebook Comments HS