آہ! رانا نوشاد قاصر
گزشتہ روز ڈاکٹر اسلم انصاری کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لیے اپنے دفتر سے نکل ہی رہا تھا کہ واٹس ایپ پر ڈاکٹر علی اطہر کا پیغام موصول ہوا کہ رانا نوشاد قاصر دکھوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ دوستوں کو اس خبر سے آگاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے فوری طور پر نوشاد قاصر صاحب کے انتقال کی خبر بنائی اور اسے اے پی پی کو جاری کر دیا اور ساتھ ہی یہ خبر ویب سائٹ گردوپیش پربھی شائع کر دی۔ پھر میں بوجھل قدموں کے ساتھ آرٹس کونسل کی جانب روانہ ہو گیا۔
رانا صاحب کے ساتھ میری زیادہ ملاقاتیں نہیں تھیں وہ شاہین مارکیٹ کے قریب گنا منڈی میں رہتے تھے اور وہیں ان کا پبلشنگ کا دفتر بھی تھا جس کے زیر اہتمام انہوں نے بہت سے دوستوں کی کتابیں بھی شائع کیں۔ گنا منڈی کی نسبت سے ہم ان کی بیٹھک کے شرکاء کو دبستان گنا منڈی کے شاعر بھی کہتے تھے وہاں بیٹھنے والوں میں وسیم قیصر مرحوم، سلیم قیصر، رمزی آثم، نوید عباس اور بہت سے دوسرے دوست شامل ہیں، میں بوجوہ اس بیٹھک میں نہیں جاتا تھا لیکن نوشاد قاصر کے ساتھ بہر حال میرا محبت اور احترام کا رشتہ تھا۔ ہم دونوں چونکہ ہم عمر تھے لہذا جب بھی ملاقات ہوئی ہم نے بہت سے ایسے معاملات پربھی بات کی جن پر نئے لوگوں کے ساتھ گفتگو نہیں ہو سکتی۔ ماضی کی بہت سے کہانیاں، بہت سی تلخیاں اور بہت سے تنازعات زیر بحث آتے۔
جب 2016 ءمیں ان کا شعری مجموعہ طلسم خواب شائع ہوا تو رانا صاحب وہ کتاب دینے کے لیے خود میرے دفتر آئے تھے اس ملاقات میں میں نے ان سے کہا تھا کہ رانا صاحب آپ پہلی بار مجھے ملنے آئے ہیں ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ کہنے لگے ملنے میں کوئی حرج نہیں لیکن شہر کی فضا ایسی ہے کہ میں بہت کم دوستوں سے ملتا ہوں بس اپنی دنیا میں مگن رہتا ہوں مجھے معلوم تھا کہ وہ یہ جملہ محض بات ٹالنے کے لیے کر رہے ہیں وگرنہ میں انہیں ہمیشہ مختلف تقریبات اور محفلوں میں متحرک دیکھتا تھا۔ 26 جنوری 2023 ءکو ملتان آرٹس کونسل میں وسیم قیصر کے انتقال پر جو تقریب منعقد ہوئی اس کی صدارت نوشاد قاصر نے ہی کی تھی۔ میں اس روز شاید ملتان میں نہیں تھا سو اس تقریب میں شریک نہ ہوسکا لیکن نوشاد صاحب اس تقریب میں موجود رہے بلکہ تقریب کے بعد مشاعرے میں بھی شرکت کی جو دوست مختلف محفلوں میں ان سے ملتے رہے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک اپنی بیماری کی کسی کو خبر بھی نہ ہونے دی۔
وہ اردو اور ہریانوی کے خوبصورت شاعر تھے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہوں نے ملتان میں ہریانوی مشاعروں کی بھی داغ بیل ڈالی، ہریانوی زبان کے فروغ کے لیے میلوں کا اہتمام کیا ملتان ٹی ہاؤس میں ان کی دعوت پر ہم بھی ہریانوی مشاعروں اور میلوں میں بطور سامع شریک ہوتے رہے۔ رانا نوشاد نے بہت متحرک زندگی گزاری، شہر کی ہر تقریب میں وہ موجود ہوتے تھے۔ واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے زمانے سے بہت پہلے انہوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے گروپ بنا کر دوستوں تک شاعری پہنچائی۔ اور پھر جب واٹس ایپ کا زمانہ آیا تو رانا صاحب نے واٹس ایپ پر ہریانوی مشاعرے کرانا شروع کر دیے، ان مشاعروں میں دنیا بھر سے ہریانوی زبان کے مختلف شعراء شریک ہوتے تھے۔
اسی طرح ہریانوی ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے رانا نوشاد نے ”نوھرہ“ کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی جس کے عہدیداروں میں رانا تصویر احمد اور ان کے دیگر دوست شامل تھے۔ 2016 ءمیں نوشاد قاصر نے ہمیں جس طلسم خواب کا اسیر کیا تھا 24 اکتوبر 2024 ءکو یہ طلسم ٹوٹا تو معلوم ہوا کہ ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ دوستوں کو ملنے والے اور خود کو تنازعات سے دور رکھنے والے نوشاد قاصر ہم سب کو ناشاد کر گئے ہیں۔ یہاں ہم ان کی ایک غزل کے چند اشعار آپ کی نذر کر رہے ہیں دیکھیں تو وہ کیسے خوبصورت شاعر تھے۔
ہم تھے بے خانماں نکل آئے
تم کہو تم کہاں نکل آئے
اس نے جب شکل کائنات کو دی
ہم سر خاک داں نکل آئے
تم جسے اجنبی سمجھتے ہو
کیا خبر ہم زباں نکل آئے
دھوپ تو اُس طرف زیادہ تھی
ابر پارے کہاں نکل آئے
تیرے ہی ڈر سے ہم تری جانب
وحشت ِبے کراں نکل آئے
کشتِ دل زیر آب ہے قاصر
اب تو وہ برگِ جاں نکل آئے




