می لارڈ! پھول ایک رنگ کے نہیں ہوتے
آج بحیثیت چیف جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کا آخری دن ہے۔ کل نئے چیف جسٹس حلف اٹھائیں گے۔ اور اس کے ساتھ پاکستان کی سپریم کورٹ کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ مکرمی سید مجاہد علی صاحب کا ایک عمدہ کالم ’ہم سب‘ پر شائع ہوا۔ اس کالم میں انہوں نے مکرم جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کے دور کا جامع خلاصہ پیش فرمایا ہے۔ اس کالم میں انہوں نے تحریر فرمایا ہے :
’ سیاسی فیصلوں کی بنیاد پر پرکھنے کے علاوہ مبارک ثانی کیس میں ان کی پسپائی اور مذہبی جماعتوں کے دباؤ پر حتمی عدالتی فیصلہ کو تبدیل کرنے کی افسوسناک روایت جج کے طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دامن پر بدنما داغ کے طور پر موجود رہے گی۔‘
خاکسار اس کیس کی بعض کارروائیوں میں موجود تھا۔ یہ ایک احمدی کی درخواست ضمانت کا کیس تھا۔ جیسا کہ سید مجاہد علی صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ نظر ثانی کا فیصلہ آنے کے بعد اس مقدمہ کی کارروائی مکمل ہو چکی تھی لیکن تمام روایات کے برعکس اس کے بعد تصحیح کے نام پر کارروائی چلائی گئی اور سابقہ فیصلہ کو تبدیل کر دیا گیا۔ یہ المیہ قابل غور ہے کہ اس روز کی کارروائی اور نظر ثانی کا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے نہ احمدی فریق کو نوٹس دیا گیا اور نہ ہی ان کا موقف سنا گیا۔ گویا اس روز صرف علماء کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
اس سے پہلے 29 مئی کو اس مقدمہ کی نظر ثانی کی کارروائی ہوئی تھی۔ اس روز تین گھنٹے سے زائد وقت کے لئے ان مذہبی مدرسوں اور اداروں کی آراء پڑھی گئی تھیں جن سے سپریم کورٹ نے رائے طلب کی تھی۔ ان میں سے ایک ادارہ المورد بھی تھا۔ جب چیف جسٹس صاحب نے ان سے وابستہ ڈاکٹر عمار خان ناصر صاحب کو ان کی رائے پڑھنے کا کہا تو عدالت عالیہ میں موجود علماء نے شور برپا کر دیا کہ ان کی رائے نہ سنی جائے۔ اور اس دباؤ کی وجہ سے ان کی رائے کو سپریم کورٹ میں نہیں سنا گیا تھا۔
اس طرح اس وقت ہی شدت پسند طبقہ کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ ہم سپریم کورٹ پر دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی کارروائی میں نہ احمدی فریق کو نوٹس دیا گیا اور نہ ہی ان کا موقف سنا گیا بلکہ آخر میں تو فضل الرحمن صاحب جو ایک فریق کی حیثیت رکھتے تھے کو بلا کر چیمبر میں ان سے ملاقات کی گئی اور پھر فیصلہ سنا دیا گیا۔ کیا اس طرح آئین کے آرٹیکل 10۔ اے کے مطابق منصفانہ سماعت کے تقاضے پورے ہوتے ہیں؟ اس کا فیصلہ پڑھنے والے خود کر سکتے ہیں۔
اس کالم میں مبارک ثانی کیس کے آخری فیصلہ کے ان فقروں کا تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے پیراگراف 23 (ب) میں لکھا ہے۔
” اس لیے قادیانیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ آئین میں طے شدہ اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کریں، تو اس کے دائر کار میں رہتے ہوئے ان کے حقوق کا تعین بھی ہو سکے گا اور تحفظ بھی ہو سکے گا۔“
اس سے تین نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔
1۔ آئین کی رو سے احمدیوں پر لازم ہے کہ نہ صرف وہ سرکاری کاغذوں میں اپنے کو مسلمان نہیں لکھ سکتے بلکہ ان پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے دل میں بھی خود اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کریں اور سمجھیں۔
2۔ جب تک وہ خود کو غیر مسلم نہیں سمجھتے، اس وقت تک پاکستان میں ان کے حقوق کا تعین تک نہیں کیا جا سکتا ہے یعنی ان کے بنیادی حقوق سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔
3۔ اگر پہلے دو مفروضوں کو تسلیم کر لیا جائے تو تیسرا نتیجہ خود بخود نکل آئے گا کہ جب پاکستان میں احمدیوں کے کوئی حقوق موجود ہی نہیں تو ان کے تحفظ کا سوال کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے؟
کسی تجزیہ کو شروع کرنے سے قبل ضروری ہے کہ آئین کی اس شق کا کم از کم آغاز پڑھ لیا جائے، جس کی بنیاد پر یہ مفروضے قائم کیے جا رہے ہیں۔ آئین شق 260 ( 3 ) یہ ہے :
”آئین میں اور تمام قوانین اور قانونی دستاویزات میں، جب تک موضوع یا سیاق میں اس کے برعکس مفہوم نہ ہو:
(ا) ”مسلمان“ سے مراد وہ شخص ہے۔ ”
اس میں تو صرف یہ ذکر ہے کہ آئین، قوانین اور قانونی دستاویزات میں احمدیوں کا اندراج بطور غیر مسلم کے کیا جائے گا اور ان میں بھی ”مسلمان“ اور ”غیر مسلم“ کی اس تعریف کا اطلاق اس وقت تک ہی ہو گا جب تک سیاق سباق یا موضوع میں اس کے برعکس مفہوم نہ پایا جائے۔ اس میں ہر گز احمدیوں کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو بھی غیر مسلم سمجھنا شروع کر دیں۔ اس طرح احمدیوں سے اس مطالبے کی بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے۔
اگر کوئی شخص یا گروہ کسی ایک آئینی ترمیم یا آئین کی شق سے اختلاف رکھتا ہے اور اسے اپنے بنیادی حقوق خلاف سمجھتا ہے تو اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آئین کا غدار ہے اور اب اس کے بنیادی حقوق پر کوئی بات بھی نہیں کی جا سکتی۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے چھبیسویں آئینی ترمیم منظور ہوئی اور اس ترمیم کے مندرجات آئین کا حصہ بن گئے۔ 22 اکتوبر 2024 دو بجے ٹی وی پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ یہ اعلان کر رہے تھے کہ ہم اس آئینی ترمیم کو نہیں مانتے۔ ان کا یہ تازہ بیان اس سائٹ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم آئینی ترمیم کو نہیں مانتے اور اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ پورے پاکستان سے لوگ اسلام آباد کی طرف بڑھیں۔
کوئی اس بیان کی حمایت کرے یا مخالفت، یہ دعویٰ تو کوئی نہیں کر سکتا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بنیادی حقوق اس بیان کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ اب اگر وہ زندگی کے تحفظ یا گھر کی خلوت یا آزادی اظہار کے حق کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے انہیں یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ میں اس ترمیم کو تسلیم کرتا ہوں۔
ایکسپریس ٹریبیون کی یہ سرخی ملاحظہ ہو
Karachi Bar rejects 26th amendment, warns of risks to judiciary ’s Independence
ترجمہ : کراچی بار نے چھبیسویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا، عدلیہ کی آزادی کو خطرے کے متعلق انتباہ
کوئی اس بیان سے متفق ہو یا اختلاف کرے لیکن یہ کہنے کا حق تو کسی کو نہیں کہ اب کراچی بار کے وکلا کے بنیادی حقوق کا تعین بھی اس وقت ہو گا جب وہ اس ترمیم کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ اسی طرح کوئٹہ کی لائرز ایکشن کمیٹی نے بھی اس آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا ہے۔ کیا اس سے ان کے بنیادی حقوق ختم ہو گئے ہیں؟
اگر چھبیسویں آئینی ترمیم کو تسلیم نہ کرنے سے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے تو دوسری آئینی ترمیم سے اختلاف کرنے سے یہ حقوق کس طرح ختم ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں ایسے تشدد پسند گروہ بھی موجود ہیں جو کہ برملا طور پر آئین کی ایک دو شقوں کو ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے آئین کو ہی مسترد کرتے ہیں۔ لال مسجد کے مولوی عبد العزیز صاحب نے پاکستان کے پورے طرز حکومت کو ہی کفر قرار دے دیا تھا۔ اور عملی طور پر ان کی قیادت میں لال مسجد اسلام آباد سے حکومت کے خلاف بغاوت کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ آج ان کے بارے میں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ ان کے حقوق کا تعین اس وقت ہو گا جب وہ اس فتوے کو واپس لیں گے یا ان سے بات چیت اسی وقت ہو گی جب وہ پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں گے۔ وہ آج بھی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ بلکہ ایک موقع پر ایک وفاقی وزیر نے ان کے پاؤں پکڑ کر انہیں منانے کی کوشش بھی کی تھی۔
(Inside Al-Qaeda and Taliban by Syed Saleem Shehzad p 162 -163)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بنیادی حقوق ہر انسان کا حق ہیں۔ یہ کوئی خیرات نہیں کہ جب جی چاہا تو بطور احسان عطا کر دیے اور جب جی چاہا تو یہ شرط لگا دی کہ تم یہ تسلیم کرو گے تو ہم ان میں سے کچھ حقوق عطا کر دیں گے۔ یہ حقوق نا قابل تنسیخ ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 8 ملاحظہ فرمائیں ان کو سلب یا کم کرنے کا حق پارلیمنٹ کے پاس بھی نہیں ہے۔ مجھے اس مطالبہ پر کافی حیرانی ہوئی ہے کہ جب احمدی دوسری آئینی ترمیم کو تسلیم کریں گے تو ان کے حقوق کا تعین کیا جائے گا۔ جناب من! آئین کا وہ حصہ ملاحظہ فرمائیں جو کہ آرٹیکل 8 سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں تمام پاکستانیوں کے بنیادی حقوق معین طور پر درج ہیں۔ ان شقوں میں یہ نہیں لکھا کہ فلاں عقیدہ کے شخص کو یہ حقوق ملیں گے اور فلاں مسلک کے شخص کو یہ حقوق نہیں ملیں گے۔
اس قسم کی سوچ کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہو گا کہ احمدیوں کے حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ ہر اختلاف رائے کا گلا گھونٹا جائے گا اور کسی کے بھی حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔ کوئی اختلاف رائے کسی کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کر سکتا کیونکہ یہ حقوق کسی کے حکم نامے کے کے محتاج نہیں ہوتے۔ مگر بعض کی خواہش ہے :
کسی کا حکم ہے
اس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گے
کچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گے
گلستاں کس طرح بننا ہے کل کا
یقیناً پھول تو یک رنگیں ہوں گے
مگر یہ رنگ ہو گا کتنا گہرا کتنا ہلکا
یہ افسر طے کریں گے
کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے
گلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگیں نہیں ہوتے
کبھی ہو ہی نہیں سکتے
کہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں

