نجیبہ عارف کے لیے


”راگنی کی کھوج میں“ تخلیقی نثر میں لکھی گئی ایسی کتاب ہے کہ میں نے اسے بار بار پڑھا ہے اور ہر بار ایک نیا لطف اٹھایا ہے۔ میں اسے نجیبہ عارف کی بہترین کتب میں سب سے اوپر رکھتا ہوں۔ ایک کتاب؛ جسے میں فکشن کی کتاب کے طور پر پڑھتا رہا ہوں حالاں کہ یہ فکشن کی کتاب نہیں ہے، یقیناً نہیں ہے اور نجیبہ نے بھی اسے فکشن کہہ کر پیش نہیں کیا مگر اس میں، جس دلنشیں اسلوب میں انہوں نے اپنے باطنی وجود اور محسوسات کو اپنے مرشد کی حیات اور تاہنگ میں بہم کر کے متن کیا ہے اور سطر سطر میں عجیب طرح کے بھید، متحرک سائے، روشنی کی لکیریں اور انسانی باطن میں رواں لہروں اور جنبشوں کو گوندھ کر متن کو جادو اثر بنا لیا ہے ؛ ایسا تو فکشن ہی میں ہوا کرتا ہے۔

ایک سفر کی روداد، جو باہر کم وجود کے اندر زیادہ ہوتا ہے۔ محمد عبیداللہ درانی سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی مگر کئی منازل طے ہو گئیں۔ یہ جستجو کا سفر، تہہ بہ تہہ زندگی کے بھیدوں تک پہنچنے کا سفر بلکہ سفر در سفر جس صاف ستھری اور معرفت کے رموز سجھاتی نثر میں ہوا ہے اس نے اس کتاب کو بہت اہم اور مختلف بنا دیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے عبیداللہ درانی کی ایک تمثیل انگریزی سے ترجمہ کر کے شامل کر دی ہے، عنوان ہے ”کہاں چلے سادھورے“ جس کا بہ قول ان کے ہر حصہ ایک خاص معنویت میں دوسرے حصے سے جڑا ہوا ہے کسی عظیم سمفنی کی طرح جس کی سب آوازیں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجودمل جل کر ایک دھن میں ڈھل جاتی ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ نجیبہ عارف کا مضطرب وجود بھی اس سمفنی جیسا ہے ؛ کئی آوازیں ہیں، الگ الگ پہچان والی مگر ایک وجود کی عطا اور ایک قوی تر شناخت میں ڈھل رہی ہیں۔

ان کی تصانیف کی فہرست طویل ہے اور ان کی توفیقات کا علاقہ وسیع، وہ استاد ہیں، عمدہ مقرر اور نثار ہیں، منتظم اور قومی ادبی ادارے کی سربراہ ہیں، ادیب اور شاعر ہیں اور مترجم بھی۔ کہہ لیجیے کہ کون سا ایسا شعبہ ہے جو دھیان میں آتا ہو اور وہ ادھر نہ گئی ہوں ؛ تنقید و تحقیق، ادارت و تدوین، فکر و نظر، نظم و غزل، تعبیر و تفہیم، تصوف و حکمت، تعلیم و تعلم، قدیم اور نایاب مخطوطات کی دریافت، تجمیع و تدوین۔ یوں نہیں ہے کہ وہ سرسری ہر جہاں سے گزری ہیں انہوں نے ہر کہیں اپنی دانش و حکمت اور لیاقت و ہنرمندی کا نقش جمایا ہے۔ کئی شعبوں میں تو انہیں اولیت کا شرف حاصل ہے جیسے وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اردو ریسرچ جرنلز کے لیے انڈیکسیشن ایجنسی کی بنیاد گزار ہیں اور اکادمی ادبیات پاکستان کی پہلی خاتون صدر نشین۔

ایک استاد میں اگر ذوق تحقیق و تفتیش نہ ہو تو اسے استاد کیوں کہیں؟ نجیبہ عارف حقیقی معنوں میں معلِم ہیں ایسی معلِم جو اپنے شاگردوں اور ہمکاروں کے لیے بھی روشن چراغ ہے۔ انہوں نے محض ڈگری کے حصول یا کچھ ترقی پا لینے کے لیے مقالات نہیں لکھے ؛ ایسے مقالات بعد ازاں سامنے نہیں آتے، کہیں مجبوراً چھپ جائیں تو مصنفین انہیں چھپائے چھپائے رکھتے ہیں۔ پتہ نہیں یہاں نجیبہ ہی کا ایک شعر کیوں یاد آ گیا ہے۔ شاید اس کا یہاں محل نہ ہو مگر یاد آ گیا ہے تو درج کیے دیتا ہوں :

خیال اپنا کمال اپنا عروج اپنا زوال اپنا
یہ کن بھلیوں میں ڈال رکھا ہے کیسی لیلا رچی ہوئی ہے

جن بھول بھلیوں میں ہم ہیں، اسی میں سے نجیبہ عارف نے اپنا راستہ نکالا ہے اور ان کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے جو لکھا اس نے ان کی توقیر اور علمی و ادبی قامت میں اضافہ کیا۔ جو بھی لکھا وہ ان کے کڑھے ہوئے اور شائستہ تہذیبی ذوق کی عطا ہے ؛ اس جستجو کی دین ہے جو انہیں بے کل رکھتی ہے۔ افسانے کی کتاب ہو یا ناول، اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے درجن بھر مسودات کی دریافت، تدوین اور اشاعت ہو یا ریسرچ جرنلز کا اجرا اور ادارت، تنقید میں پاکستانی اردو افسانے پر نائن الیون کے اثرات کا جائزہ ہو یا رفتہ و آئندہ کے اردو ادب کا محاکمہ، شاعری میں معنی سے زیادہ کہنے اور سجھانے کی للک ہو یا تصوف کے مضامین میں دلچسپی اور اس علاقے کے بھید بھنوروں کی ایک پریکٹسنگ صوفی جیسی کھوج۔

قصیدہ بردہ شریف کے منظوم ترجمے تک چلے آئیں ؛یہ سب ان کے اعلیٰ ذوق کے نقوش ہیں ؛ ایسی شخصیت کے نقوش جسے اپنے مسلمان ہونے، ایشیائی ہونے، پاکستانی ہونے اور عورت ہو نے پر فخر ہے۔ وہ ان شناختوں کو اپنی کمزوری نہیں طاقت سمجھتی ہیں اور اسی شناخت سے ان کی توقیر میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ میں نے نجیبہ عارف کے افسانوں پر اپنی تحریر کے آخر میں ایک جملہ لکھا تھا اسی کو کچھ بدل کر کہتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں۔ نجیبہ عارف اپنے وجود میں قومی اور تہذیبی وجود کے مراتب کی مشکوٰۃ ہیں۔ جی، ایسا طاقچہ جس پر ہمہ جہت زندگی کا روشن چراغ رکھا ہوا ہے۔ خدا کرے اس چراغ کی روشنی ہمارے تخیل سے بھی فزوں تر ہوتی چلی جائے۔

شعبہ اردو، کلیہ زبان و ادب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سربراہ اور ان کے رفقاء کے لیے حرف تحسین کہ وہ ایک قابل قدر روایت کے امین ہیں۔ نقد و تفہیم ادب کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی، ادبی اور تدریسی خدمات کے اعتراف اور تحسین، اس لیے بھی بہت اہم اور سراہے جانے کے لائق ہے کہ علمی و ادبی اداروں میں اس کی توفیق کم کم اور مسابقت کا جذبہ زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ خدا کرے چراغ سے چراغ جلے اور یہ چلن عام ہو۔

(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی ’نقد و فہم ادب کانفرنس‘ منعقدہ 25 اکتوبر 2024 ء میں پڑھی گئی تحریر)

۔

Facebook Comments HS