پاکستان کے آتش فشاں پہاڑ، ہائیڈروجن اور امونیا نئے ایندھن اور آغا وقار کی واٹر کٹ کا راز (3)


بات اللہ اللہ کر کے اوزون شگاف سے ہوتے ہوئے عربوں کی تیل پر ختم ہوتی ممکنہ بالادستی پر پہنچی۔ پھر گلوبل وارمنگ اور زیرو کاربن کی کمائی سے سید خورشید شاہ کے چہیتے ”بقلم خود انجینئر“ ، آغا وقار کی واٹر کٹ تک جا پہنچی۔ مگر مستقبل میں توانائی کی بدلتی صورت حال کی کچھ پکچر ابھی بھی باقی ہے۔
پہلے دو تین بنیادی باتیں جو شاید سائنس سے ناواقف لوگوں کے علم میں اضافہ کریں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ لکڑی، مٹی کے تیل اور گیس کے بعد کس طرح مستقبل میں کھانا پکانے کے لئے دستیاب ایندھن ہماری زندگیوں کو تبدیل کرنے والا ہے۔

ہمارے ارد گرد قدرت کی طرف سے دو چیزیں لگ بھگ مفت اور بکثرت موجود ہیں اور دونوں کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ پانی اور ہوا۔ پانی، دو گیسوں سے مل کر بنتا ہے۔ دو تہائی یعنی 67 ٪ فیصد ”ہائیڈروجن“ اور ایک تہائی یعنی 33 فیصد ”آکسیجن“ ۔ جبکہ ہوا میں بھی 99 فیصد حصہ صرف دو گیسوں کا ہے۔ 78 فیصد ”نائٹروجن“ اور 21 فیصد ”آکسیجن“ ۔ جب کہ باقی ایک فیصد میں بھی اکثریت ایک تیسری کم مشہور گیس ”آرگان“ ہے، جو ایک زمانے میں ”روشنی کے بلب“ میں استعمال ہوتی تھی۔ ہائیڈروجن ہو یا کاربن ڈائی آکسائیڈ، ان دونوں کی ہوا میں موجودگی ہر جاء کہ ہے مگر نہ ہونے کے برابر۔

یہ بات اس لئے لکھی تاکہ ہمیں ذہن نشین رہے کہ جہاں کہیں ”آکسیجن“ کی ضرورت ہو۔ سب سے پہلے پانی یا ہوا کا خیال آنا چاہیے کہ کبھی نہ کبھی سائنسدان کسی نہ کسی جگاڑ سے پانی یا ہوا سے آکسیجن نکال ہی لیں گے۔ سستی یا مہنگی یہ الگ بات ہے۔ ویسے اللہ میاں نے ہمیں مفت کی مشین بشکل پھیپھڑا بھی دے رکھی ہے جو فضا سے آکسیجن علیحدہ کر کے ہمیں زندہ رکھتا ہے۔ اسی طرح جب کبھی ”نائٹروجن“ کی ضرورت ہو ہمیں سب سے پہلے ہوا کا خیال آنا چاہیے۔ کیوں کہ قدرت نے ہوا میں سب سے زیادہ ”نائٹروجن“ رکھی ہے تو اس کی کوئی وجہ بھی ہوگی۔

تیسری چیز جو قدرت نے ہمیں عطا کی ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے وہ زمین کی تہہ سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس، کوئلہ اور خام تیل ہے۔ اور ان تمام چیزوں میں جو دو کیمیائی عناصر مختلف تناسب میں لازماً موجود ہوتے ہیں وہ ”کاربن اور ہائیڈروجن“ ہیں، اسی لئے انہیں ”ہائیڈرو کاربن“ بھی کہا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ الکحل، اسپرٹ اور چینی میں بھی یہ دونوں عناصر موجود ہوتے ہیں، بس بعض میں ہائیڈرو کاربن کے علاوہ ”نائٹروجن یا آکسیجن“ بھی شامل ہوتی ہے۔

آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے تک فضا میں بہت بڑی آلودگی کا تعلق کبھی کبھار پھٹنے والے آتش فشاں سے ہوتا تھا (اور اب بھی ہے ) ۔ اتنا کہ کئی ممالک کے اوپر گرد و غبار کی ایسی تہہ آسمان کی جگہ لے لیتی تھیں کہ دھوپ کا زمین پر آنا مشکل ہوجاتا تھا۔ ایسے اندھیروں کا طویل دورانیہ بعض اوقات ایک دو سال ہی نہیں بعض اوقات بیس تیس سال تک بھی گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بیماریاں بالخصوص طاعون کی وبا، سانس اور جلدی امراض اور شدید قحط بھی پیدا ہوجاتا تھا اور دھوپ کی عدم موجودگی میں فصل نہیں پک سکتی تھی۔

برسبیل تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی پیدائش سے کچھ دہائیاں پہلے پورے یورپ میں تین آتش فشاں پہاڑ سن 536 عیسوی میں پھٹے۔ ان کی وجہ سے آسمان پر اتنا گرد و غبار جمع ہو گیا کہ عین دو پہر میں بھی محض سورج کا ہیولہ نظر آتا تھا۔ اگر کسی مقام پر سورج کی روشنی نظر بھی آتی تو سفید کی بجائے دھوپ کا رنگ نیلا ہوتا تھا۔ کئی سال تک یورپ کے کچھ علاقوں میں لوگوں نے رات کو چاند نہیں دیکھا (ویسے تو دن بھی ان کے لئے رات جیسا ہی ہوتا تھا) ۔ شدید گرمیوں کے دنوں میں بھی درجہ حرارت چند سینٹی گریڈ (یعنی شدید سردی) پایا گیا۔ نتیجہ کچھ سالوں تک کئی ممالک میں فصل نہ اگ سکی، چوہوں اور اس طرح کے حشرات اور جانداروں کی موجیں ہو گئیں اور یوں جو لوگ قحط سے بچے وہ طاعون (پلیگ) میں مارے گئے۔ یہ تباہی ان تین آتش فشاں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ چند اور آتش فشاں 539 عیسوی اور دوسرا 547 عیسوی میں مزید پھٹے۔ اور یورپ میں موجود لوگوں نے تاریخ کی آج تک کی سب سے بڑی آزمائش کا سامنا کیا۔ یہ آزمائش 24 سال تک چلی اور 560 عیسوی میں آ کر یورپ کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ کچھ جذباتی مسلمان (جیسے جاوید چوہدری) اس دور کو کھینچ تان کر 570 عیسوی تک لے آتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ نبی اکرم کی پیدائش سے 571 عیسوی میں اہل یورپ کی یہ آزمائش ایک معجزے کے طور پر ختم ہوئی۔

اپریل 1815 میں انڈونیشیا کے آتش فشاں ”کوہ تمبورا“ کے پھٹنے کو تاریخ کا سب سے بھیانک واقعہ (آتش فشاں سے متعلق) قرار دیا جاتا ہے۔ ایک لمحے میں 35 سے 40 کلومیٹر کا علاقہ لاوے اور گرم مٹی میں دب گیا جس نے ہزاروں انسانوں کو فنا کر دیا۔ ڈھائی تین ہزار کلومیٹر دور واقع علاقوں تک میں کوہ تمبورا کی گونج اور شور کو سنا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین سے چار سال تک ایشیا کے متعدد ممالک میں گرمی کا موسم نہیں آیا۔ فصلیں پک نہیں سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ غبار ہوا کے ساتھ برصغیر اور پھر افریقہ سے ہوتے ہوئے یورپ بھی پہنچ گیا۔ جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کو نوٹ تو کیا گیا لیکن ظاہر ہے وجوہات ان کے لئے نامعلوم تھیں۔ اسی آتش فشاں کے زیر اثر بنگال میں 1816 عیسوی میں بھی شدید قحط پڑا جس سے لاکھوں انسان مزید ہلاک ہوئے۔ یہاں یہ باتیں لکھنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم انسان متعدد جگہ بے بس ہو جاتے ہیں اور ہمیں قدرت کے اس تحفے یعنی زمین کی قدر کرنی چاہیے۔

حالیہ دنوں میں بھی کرونا کی وبا سے دس سال پہلے 15 اپریل سے 17 مئی 2010 کے دوران آئس لینڈ کے ایک آتش فشاں کے راکھ اگلنے کی وجہ سے پورے یورپ کی فضا میں اتنی راکھ جمع ہو گئی تھی کہ یورپ کے مختلف ممالک کے اوپر ہوائی جہازوں کی پروازیں روک دی گئی تھیں۔ وجہ یہ نہیں کہ پائلٹ کو کچھ نظر نہیں آتا تھا کیوں کہ جہاز تو آٹو پائلٹ پر بھی اپنی منزل تک پہنچ سکتے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ آتش فشانی راکھ جہاز کے انجنوں میں جاکر ان کو بہ آسانی تباہ کر سکتی تھی۔

بلوچستان میں متعدد پہاڑ ایسے موجود ہیں جن کا شمار نیم مردہ یا خوابیدہ آتش فشاں میں ہوتا ہے۔ یہ وقتاً فوقتاً مٹی اگلتے رہتے ہیں۔ ان میں دو پہاڑ ”چندرا گپت“ اور ”جبلِ غراب“ زیادہ مشہور ہیں۔ اس سے زیادہ حیران کن بات اسی سن 2010 میں ہوئی جب آئس لینڈ میں آتش فشاں ابلا تھا۔ شہر کوئٹہ سے محض 75 کلومیٹر دور زیارت کے علاقے میں واقع ایک گمنام پہاڑ ”طور زوار“ جنوری 2010 میں سوتے سے جاگا۔ جس سے کچھ معدنیاتی لاوا بھی ابلا۔ مگر زیادہ فاصلے تک نہیں جا سکا۔

بہت کم لوگوں کے علم میں ہے کہ صوبہ سندھ میں بھی ایسے پہاڑ موجود ہیں جو خوابیدہ آتش فشاں ہیں اور قدرت جب چاہے ان کے ذریعہ لوگوں کو جگا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم عوام اور انتظامیہ ان ہنگامی معاملات سے نبٹنے کے لئے تیار ہیں؟ (بے شک کاغذ پر ہی سہی) ۔

بہرحال دوسری جنگ عظیم کے کئی سال بعد تک انسان لا علم تھا کہ زمین سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ فٹ اوپر ہوا کا دباؤ کیسا ہے؟ وہاں موسم کیسے بدلتے ہیں؟ اور ایسے متعدد سوالات سائنس دانوں کے لئے ایک راز ہی تھے پھر 4 اکتوبر 1957 کو سویت یونین نے پہلا مصنوعی سیارہ ”اسپتنک اول“ فضا میں بھیجا۔ ہرجا کہ اس کی زندگی محض تین ہفتے رہی جس کے بعد اس کی بیٹریاں ختم ہو گئیں۔ لیکن اس سے امریکہ اور روس کے درمیان ایک خلائی دوڑ شروع ہو گئی۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک اپنے مصنوعی سیارچوں کو مزید بہتر بناتے گئے جس کی وجہ سے سائنس دانوں کو زمین کی اوپری فضاء سے متعلق بہتر معلومات ملنے لگیں۔ مصنوعی سیاروں سے پہلے یہ معلومات صرف ایسے موسمی غباروں سے حاصل کی جاتی تھیں جو آسمان میں چھوڑ دیے جاتے اور وہاں سے ایک مخصوص علاقہ سے متعلق محدود معلومات ہی فراہم کر سکتے تھے۔ آنے والے وقت میں مصنوعی سیارے دراصل زمین پر سی سی ٹی وی کیمرے کی طرح نظر رکھنے لگے۔

اٹھارہویں صدی کے وسط سے یورپ اور امریکہ میں صنعتی ترقی شروع ہو چکی تھی۔ چمنیوں سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا تھا۔ انسان نت نئی ایجادات متعارف کرا رہا تھا۔ کیمیا دان نت نئے اجزاء اور لیبارٹری میں ہر طرح کے نت نئے کیمیائی مادے اور گیسیں بنا رہے تھے۔

صنعتی ترقی شروع ہوئی تو پہلی جنگ عظیم کے بعد سے (جنگ کے دوران ضرورت محسوس ہونے پر ) نت نئی ایجادات سامنے آئیں (یا ان میں نمایاں تبدیلی آئی) جیسے ٹینک، ہوائی جہاز، آب دوز وغیرہ۔ اسی دوران (سرد ممالک کے فوجیوں کو ) صحرائی علاقوں کے لئے ریفریجریٹر اور ائرکنڈیشنرز کی زبردست ضرورت پیش آئی۔ ان دنوں ان مشینوں میں ٹھنڈک پیدا کرنے کے لئے امونیا گیس، پروپین اور سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسے مادے استعمال ہوتے تھے۔ جن کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ یہ آتش گیر مادے تھے اور ذرا سی بھی غفلت، دھماکے اور جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر سائنس داں رابرٹ مجلے جونیئر نے ”فریان گیس“ دریافت کی۔ جو نہ صرف محفوظ تھی بلکہ اس کی تیاری بھی مشکل نہیں تھی۔ اس دریافت پر اسے امریکہ میں کیمسٹری کا سب بڑا انعام ملا۔ فریان گیس (اور اس کی ذیلی گیسوں ) نے ٹھنڈی مشینوں کی تیاری کو اتنا بڑھا دیا کہ 1970 کے آنے تک یہ گیسیں بمقدار ”ایک ملین ٹن سالانہ“ تیار ہو رہی تھیں۔ ”فریان“ کے بارے میں سائنس دانوں کا یہ دعویٰ تھا کہ یہ کسی دوسری گیس یا کیمیائی مادے سے بہ آسانی ملاپ نہیں کرتی اس لئے اس کے امونیا یا سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسے آتش گیر مادہ یا نقصان دہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

دوسری طرف ”اوزون“ ، ایک خاص قسم کی خالص آکسیجن گیس کا نام ہے۔ جس میں دو کی بجائے آکسیجن کے تین ایٹم ہوتے ہیں یعنی ”او 2“ کی بجائے ”او 3“ ۔ زمین کی سطح سے دس کلو میٹر اوپر تک اوزون کی موجودگی ”نقصان دہ“ اور اسموگ یا آلودگی بڑھاتی ہے۔ مگر زمین کی سطح سے دس کلو میٹر اوپر کے بعد 50 کلومیٹر تک اوزون کی موجودگی فائدہ مند شمار ہوتی ہے کیوں کہ یہ سورج سے آنے والی نقصان دہ شعاعوں کو یا تو روک لیتی ہے یا کسی اور طرف بھیج دیتی ہے۔ قدرت نے ہمیں اوزون کی ایک شاندار حفاظتی جھلی یا غلاف زمین کے اردگرد دیا ہوا ہے جو ہمیں ہمیشہ سے سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچا رہا ہے۔

1970 کی دہائی تک انسان شان دار صنعتی ترقی کر رہا تھا۔ نت نئی ایجادات سامنے آ رہی تھیں۔ لیکن صنعتی ترقی کی خود انسان اور زمین کو کیا قیمت چکانی پڑی اس کا پہلا بڑا اندازہ ”زمین کی اوپری اوزون کے غلاف میں شگاف کی صورت میں سامنے آیا“ ۔

1972 میں سائنس داں ”رولینڈ“ نے اپنی تحقیق سے ایک بم گرایا کہ انسان نے جنگ عظیم اول کے بعد سے اس وقت تک جتنی بھی فریان (اور اس قسم کی گیسیں ) بنائی ہیں وہ تمام کی تمام فضا میں ”اب بھی موجود ہیں یعنی زندہ ہیں“ ۔ اندازہ کریں کئی سال سے یہ گیسیں ایک ملین ٹن کی مقدار میں ہر سال یورپ اور امریکہ میں استعمال ہو رہی تھیں۔ کچھ عرصے بعد سائنس دانوں نے مزید انکشاف کیا کہ یہ تمام گیسیں (جنہیں سی ایف ایل، یا ”کلورین فلورین“ کی گیسیں کہہ سکتے ہیں ) آہستہ آہستہ بالائی فضاء میں موجود اچھی اوزون (آکسیجن) سے ملاپ کر کے ”کلورین اور فلورین“ کو ان گیسوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔ جو بعد میں آبی بخارات (یعنی پانی یا بارش) سے انتہائی تیز دھوپ کی موجودگی میں ”پانی سے ہائیڈروجن نکال کر اُس کے ساتھ مل کر“ ، نمک کا تیزاب (ہائیڈرو کلورک ایسڈ) بنا دیتی ہیں۔ یہ تیزاب بعد میں تیزابی بارش کی صورت میں زمین پر (بالخصوص سمندر میں ) آن گرتا ہے۔ اور اس طرح کبھی بے ضرر قرار دی گئی یہ گیسیں، کئی طرح کے نقصانات پہنچا رہی تھیں زمین کی حفاظتی جھلی اوزون کو تباہ کرنے کے ساتھ تیزابی بارش کی شکل میں سمندری پانی کا درجہ حرارت بڑھا دینا (جو سمندری آبی حیات کو تباہ کر رہا تھا) ۔ دنیا نے بہر حال دس بارہ سال تک اس پر بحث کی لیکن کسی معقول اور سستے حل کی عدم موجودگی اور ”متعلقہ صنعتوں کے مالکان کے دباؤ“ کے تحت ”گاڑی کھینچتے رہے“ یعنی، اس معاملے پر مٹی پاتے رہے۔

1985 میں انٹارٹیکا میں کام کرنے والے سائنس دانوں نے اپنے علاقے کے اوپر ”اوزون“ کی اوپری تہہ میں ایک بہت بڑے شگاف کی موجودگی کا دنیا کو بتایا۔ جو جلدی امراض اور جلد کے کینسر کی وجہ بن رہے تھے۔ انہوں نے دنیا کو مزید یہ کہہ کر بھی ڈرایا کہ اگر اس مسئلہ کا حل تلاش نہ کیا گیا تو بحیرہ منجمد شمالی اور دوسرے مقامات پر گلیشیئر پگھلنے کی شرح بھی بڑھ جائے گی جو سمندروں کی سطح کو بلند کرنے کے علاوہ سیلاب جیسے مسائل کا بھی سبب بنے گا۔ جس کا پہلا نشانہ امریکہ اور یورپی ممالک ہی ہوں گے۔ یوں 1985 کے بعد سے ٹھنڈک پیدا کرنے والی مشینوں، ہیٹر پمپ، باڈی اسپرے اور دمے کے اسپرے جیسی اشیا میں یہ گیسیں ممنوع قرار پا گئیں۔ پاکستان میں بھی فریان اور متعدد گیسوں پر پابندی ہے (لیکن پھر بھی استعمال ہو رہی ہیں ) ۔

یہ پابندی چلتی رہی۔ لیکن سن 2000 کے بعد سے سائنس دانوں نے آگاہ کرنا شروع کیا کہ دنیا کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ جسے ہم اب گلوبل وارمنگ کے نام سے جانتے ہیں (یعنی زمین کے اطراف کا درجہ حرارت بڑھنا) ۔ یعنی ہمارے ارد گرد مزید گرمی۔

سن 2010 کے آس پاس سائنس دانوں نے اس گلوبل وارمنگ کی وجہ ”گرین ہاؤس گیسوں“ کو قرار دیا جو گرمی ”چوس گیسیں“ ہیں۔ اور فضاء میں جانے کے بعد دن میں سورج سے آنے والی دھوپ کی تپش کو خود میں جذب کر لیتیں اور رات کو جب زمین ٹھنڈی ہوجاتی تو یہ دن میں جذب کی گئی گرمی کو زمین کی طرف ٹرانسفر کر دیتیں۔ یوں موسموں میں تبدیلیاں آنی شروع ہو گئیں۔ یاد رہے گرین ہاؤس گیسیں گلوبل وارمنگ کے حوالے سے نقصان دہ گیسیں ہیں۔

گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے بڑا حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہے۔ جو کوئلہ، ڈیزل، پٹرول اور قدرتی گیس کے ”صنعتی“ استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ ویسے تو تمام انسان اور جانور ہر لمحے سانس کے ذریعے اسے خارج کر رہے ہیں لیکن قدرت نے ان سے زیادہ بڑی مقدار میں پودوں اور درختوں کو پیدا کر کے اس کو بے اثر کیا ہوا ہے۔ پودے اور درخت ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے سورج کی روشنی کے ذریعہ ہوا میں آکسیجن واپس کر دیتے ہیں۔ کچھ کاربن ڈائی آکسائیڈ یہ درخت خود میں جذب کرلیتے ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ذخیرہ ان درختوں کے مرنے کے بعد زمین میں جاکر آہستہ آہستہ کاربن ڈائی آکسائیڈ واپس خارج کرتا رہتا ہے اور لاکھوں کروڑوں سال بعد مردہ درخت کی لکڑی کوئلہ اور پیٹرو کیمیکل میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ نقصان دہ مقدار قدرت کے بنائے نظام میں ”صفر“ ہی رہتی ہے۔

ٹھنڈی مشینوں میں استعمال ہونے والی پرانی گیسیں یعنی فریان وغیرہ پر پابندی لگی تو نئی طرح کی گیسیں بنائی گئیں جن میں فلورین گیس کا زیادہ استعمال ہوا، اسی لئے ان نئی گیسوں کو ”ایف گیسیں“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بھی فریان کی طرح زمین پر کسی بھی دوسرے کیمیائی مادے سے نہیں ملتی تھیں اور اچھی بات تھی کہ اوزون کی تہہ کو بھی نقصان نہیں پہنچاتی تھیں۔ لیکن 2010 میں معلوم ہوا کہ یہ ایف گیسیں بھی ہر سال بڑی تعداد میں زمین کی اوپری فضا میں جا کر بہر حال جمع ہو رہی ہیں اور ان کا شمار ”گرمی چوس گیس“ میں ہوتا ہے۔ اور یہ گیسیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ گرین ہاؤس ہیں یعنی دھوپ جذب کر لیتی ہیں۔ بہرحال ان کا فی الوقت کوئی متبادل موجود نہیں۔

میتھین، قدرتی گیس کا اہم جز ہے اور کوئلہ، قدرتی گیس، تیل کے زمین سے حصول اور اس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل کے دوران فضا میں خارج ہوتی رہتی ہیں۔ ڈیری فارم کے مویشیوں اور جنگلی جانوروں کی ڈکار اور ان کے گوبر سے بھی یہ گیس خارج ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں کوڑے کرکٹ کے بڑے بڑے ڈھیر میں جب کوڑا گلتا سڑتا ہے تب بھی ان میں سے میتھین گیس خارج ہوتی رہتی ہے۔ مچھلیاں اور دوسرے مردہ آبی جاندار بھی گلنے سڑنے پر یہ گیس خارج کرتے رہتے ہیں۔ میتھین کا شمار بھی گرین ہاؤس گیس میں ہوتا ہے۔

انسان نے اچھی فصل کے لئے طرح طرح کی کھاد بھی تیار کیں۔ ان سب کی تیاری میں امونیا گیس لگ بھگ لازمی استعمال ہوتی ہے (جس میں ایک حصہ نائٹروجن اور تین حصے ہائیڈروجن ہوتے ہیں ) ۔ ان صنعتی کھادوں کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ زمین کھاد سے جتنی نائٹروجن نہیں لیتی اسے پانی اور ہوا سے آکسیجن لے کر ”نائٹرس آکسائیڈ“ میں تبدیل کر کے ہوا میں واپس خارج کر دیتی ہے۔ نائٹرس آکسائیڈ بھی کاربن ڈائی اکسائیڈ کے مقابلے میں 265 گنا زیادہ گرمی چوس گیس ہے اور فضا میں 121 سال تک موجود رہتی ہے۔

دوسری طرف ان کھادوں کو تیار کرنے کے لئے جس امونیا کی صنعتی اور بڑے پیمانے پر ضرورت ہوتی ہے۔ اس کو حاصل کرنے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ یہ نہیں کہ نائٹروجن، ”ہوا سے مانگیں اور ہائیڈروجن کو پانی سے“ ۔

پانی سے ہائیڈروجن کا حصول، ممکن ضرور ہے مگر یہ ہمیشہ ایک مہنگا عمل رہا ہے اور آج تک سائنس داں کوئی ایسا سستا ترین طریقہ دریافت نہیں کرپائے، جس سے صنعتی پیمانے پر پانی سے سستی ہائیڈروجن نکالی جا سکے۔ پانی سے سستی ترین ہائیڈروجن نکالنا، آج بھی کیمیا دانوں کے لئے ویسا ہی خواب ہے جیسا سینکڑوں سال پہلے لوہے کو سونے میں بدلنے کا خواب ہوتا تھا۔ یاد رہے پانی سے ہائیڈروجن نکالنا کوئی مشکل نہیں لیکن اس کی قیمت اتنی پڑ جاتی ہے کہ دوسرے طریقے اس سے دو سے تین گنا سستے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ میں لوہے کو سونے میں تبدیل کرنے کا طریقہ دریافت کرلوں مگر اس کی قیمت بازار میں بکنے والے سونے سے دو تین گنا زیادہ ہو تو لوگ مجھ پر محض ہنسیں گے۔ (واٹر کٹ کی کہانی بھی یہی تھی، آگے آئے گی) ۔

بہر حال کھاد کے لئے امونیا ہر صورت میں چاہیے۔ اور امونیا (نائٹروجن جمع ہائیڈروجن) کے لئے پہلے ہائیڈروجن کی ضرورت پڑے گی۔

صنعتی پیمانے پر امونیا بنانے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ قدرتی گیس کو مانا جاتا ہے۔ ”ہیبر پراسیس“ کے ذریعہ قدرتی گیس کو جب ہوا سے بلند درجہ حرارت پر بھاپ سے ملایا جاتا ہے۔ تو قدرتی گیس سے ”ہائیڈروجن“ اور ہوا سے ”نائٹروجن“ مل کر امونیا گیس تیار کر دیتے ہیں۔ مگر قدرتی گیس کا کاربن جل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کر دیتا ہے۔ اگر پانی سے ہائیڈروجن نکالنا اتنا آسان ہوتا تو دنیا بھر میں گاڑیوں سے زیادہ ”کھاد“ کی تیاری میں اس کو استعمال کر لیا جاتا۔ بہرحال قدرتی گیس سے امونیا تیار کرنا سستا اور آسان ضرور ہے۔ لیکن اس کے دو بڑے نقصانات بھی ہیں۔ ایک تو اس دوران قدرتی گیس کی توانائی کا بیشتر حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ دوسرا قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بننے کا سبب بھی بنتا ہے۔ وہی گرین ہاؤس گیس۔ کہا جاتا ہے کہ فضا میں جانے والی دو فی صد کاربن ڈائی آکسائیڈ، امونیا گیس کی تیاری کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ اور قدرتی گیس یا میتھین تو ویسے بھی ضائع ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ زیرو کاربن سے صرف گاڑیاں اور بھٹیوں میں گیس یا پٹرول کا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا بلکہ مستقبل میں تیار ہونے والی کھاد کی تیاری بھی ظاہر ہے متاثر ہوگی۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ امونیا کو کسی ایسے طریقے سے تیار کیا جائے جس میں قدرتی گیس کا استعمال نہ کرنا پڑے۔ اچھی امونیا ہو یا اچھی ہائیڈروجن (یعنی ایسی امونیا یا ہائیڈروجن جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیدائش کا سبب نہ بنے ) ، پیار سے انہیں ”گرین امونیا اور گرین ہائیڈروجن“ کہا جاتا ہے۔ یہاں گرین کا لفظ ”اچھے“ معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ( طریقہ آگے آئے گا) ۔

اب جب کہ 2015 سے ترقی یافتہ ممالک بالخصوص یورپ اور امریکہ نے عہد کر لیا کہ ہم نے آہستہ آہستہ تیل، گیس اور کوئلے سے 2050 تک جان چھڑا لینی ہے۔ تو سوال اٹھا کہ مگر کیسے؟ کھانا کیسے پکے گا۔ چولہا کیسے جلے گا۔ بھٹیاں کیسے دھواں دیں گی؟ متبادل ایندھن جو بھی ہو اس کا شمار ظاہر ہے آتش گیر مادوں میں ہونا ہے۔ جیسے لکڑی، مٹی کا تیل، پٹرول، ایل پی جی وغیرہ یعنی ”ادھر ماچس دکھائی اور ادھر ایندھن نے آگ پکڑی؟“ ۔ کیا پانی ماچس دکھانے سے آگ پکڑتا ہے؟ نہیں۔ تو یہ کبھی بھی براہ راست ایندھن نہیں بن سکتا۔

سائنس دانوں نے لکڑی، مٹی کا تیل، پٹرول اور قدرتی گیس کے دو متبادل پیش کیے، جن کو صنعتی پیمانے پر تیار کرنا ممکن تھا۔ ایک ”ہائیڈروجن“ اور دوسرا، ”امونیا“ ۔
پچھلے دس بارہ سال میں ان دونوں گیسوں کے استعمال میں اتنی ترقی ہو چکی کہ عام پاکستانی سوچ نہیں سکتا۔ امونیا کے مقابلے میں ہائیڈروجن بہر حال بہت آگے جا چکی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ”امونیا“ اور اس سے بنی مختلف کھادیں کئی یورپی ممالک میں ”بم بنانے“ یعنی دہشت گردی میں استعمال ہو چکی ہیں (حالیہ ترکی اور اسپین) ۔ جب کہ یہ کھاد ان علاقوں میں اتنی سستی ہیں کہ ایک ڈالر میں کئی کلوگرام بہ آسانی خریدی جا سکتی ہیں۔ بہر حال فی الوقت سائنس دانوں کا یہ حال ہے کہ ہر وہ نیا طریقہ جو ہائیڈروجن پیدا کرسکے یا امونیا، اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔

اس وقت گاڑیوں کو امونیا سے چلایا جانا بھی ممکن ہے اور ہائیڈروجن سے بھی۔
اب ایک بہت اہم سوال کہ ہائیڈروجن سے گاڑیاں کیسے چلتی ہیں؟

اس سے بھی پہلے ایک مثال سمجھ لیں۔ جنریٹر کا عام مفہوم ہے (بجلی پیدا کرنے والا) ۔ بجلی کی بھی دو قسمیں ہیں اے سی اور ڈی سی۔

جنریٹر ہمیشہ ”اے سی (آلٹرنیٹنگ کرنٹ)“ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ ڈیزل جنریٹر یعنی ڈیزل کو جلا کر بجلی بنانے والا اور گیس جنریٹر کا مطلب گیس سے اے سی بجلی بنانے والا۔ جنریٹر کی ایک قسم آلٹرنیٹر بھی ہوتی ہے جو میکانیکل انرجی (گھومتی شے کی توانائی) کو اے سی بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔ جیسے گاڑیوں میں یا کسی بھی ٹربائن کے گھومتے ”پر“ کی توانائی کو اے سی بجلی میں بدلنا۔

دوسری طرف ”سیل“ ہمیشہ ”ڈی سی“ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ چاہے وہ ڈیڑھ وولٹ والا سیل ہو، یا سولر پینل کا سیل۔ یا کوئی بھی سیلوں کا مجموعہ جن کو ”بیٹری“ کہا جاتا ہے۔ یہ سب ڈی سی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اگر کوئی آلہ یا سیل کسی ایندھن یعنی فیول کو لے کر اس کی توانائی کو ڈی سی بجلی میں تبدیل کرے تو اسے ”فیول سیل“ کہا جاتا ہے۔

مارکیٹ میں پچاس ساٹھ سال سے ایسے فیول سیل موجود ہیں جو کسی خاص ایندھن کو لے کر اسے ڈی سی بجلی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ پہلے روسی خلائی سیارے اسپتنک میں بھی ایک فیول سیل ہی استعمال کیا گیا تھا۔ آج بہر حال ایسے فیول سیل مارکیٹ میں عام برائے فروخت ہیں جو ہائیڈروجن، الکحل، یا امونیا کو ڈی سی بجلی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی پاکستانی زبان میں ہائیڈروجن فیول سیل کو ”ہائیڈروجن جنریٹر یا ایچ ٹو جنریٹر“ بھی کہہ سکتے ہیں تاکہ بات سمجھ میں آ جائے۔

ترقی یافتہ ممالک میں دور افتادہ علاقے جہاں بجلی موجود نہ ہو، موبائل فون کی تنصیبات کو اب ڈیزل جنریٹر کی بجائے امونیا یا ہائیڈروجن فیول سیل کے ذریعے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جو نا صرف ماحول دوست ہیں بلکہ جیب پر سستے بھی۔

تو جناب عالی، ہائیڈروجن سے گاڑیاں چلانے کا سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ ایک عدد ”الیکٹرک وہیکل“ یعنی، ”ای وی“ لی جائے۔ جو پٹرول / ڈیزل انجن کی بجائے ”ڈی سی موٹر“ سے چلتی ہیں۔ اور ڈی سی موٹر کو گھمانے کے لئے ڈی سی بجلی یعنی بیٹری چاہیے۔ اس کے ساتھ ہائیڈروجن کو ذخیرہ کرنے کا سلنڈر لیا جائے۔ ساتھ ایک مناسب ”فیول سیل“ لیا جائے وہی ہائیڈروجن گاڑی کے لئے ”ایچ ٹو جنریٹر یا ماضی کی سی این جی کٹ جیسا“ ۔ اس فیول سیل کو (مع ہائیدروجن سلنڈر) الیکٹرک گاڑی کی موٹر سے جوڑ دیا جائے۔

لیجیے کاغذ پر ہماری ”ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل“ سامنے آ گئی (ایسی گاڑیوں کو ”ایف سی ای وی“ کہا جاتا ہے، فیول سیل الیکٹرک وہیکل) ۔ یہ ہائبرڈ گاڑی براہ راست بیٹری سے بھی چل سکتی ہے اور ہائیڈروجن سے بھی (مگر براستہ فیول سیل) ۔ چونکہ یہ گاڑیاں اصل میں الیکٹرک وہیکل ہوتی ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ ڈی سی بجلی سولر پینلوں سے آتی ہے۔ 12 وولٹ کی تیزاب والی بیٹری سے یا لیتھیئم بیٹری کے پیک سے۔ اور یا پھر کسی ڈی سی جنریٹر یعنی فیول سیل سے۔

فیول سیل اگر ہائیڈروجن سے بجلی بناتا ہے تو بظاہر ہماری گاڑی ہائیڈروجن وہیکل ہو گئی۔ ویسے اس وقت مارکیٹ میں ایسے فیول سیل موجود ہیں جو الکحل، امونیا، قدرتی گیس، مختلف تیزاب یا ہائیڈروجن کے ذریعے ڈی سی بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔ براہ راست پانی سے بجلی بنانے والا کوئی فیول سیل موجود نہیں البتہ کچھ لوگ گاڑی کی بیٹری کو پانی سے منسلک کر کے ایک کٹ کے ذریعے الیکٹرو لائسس پر لگا دیتے ہیں اور پانی سے معمولی مقدار میں حاصل ہونے والی ہائیڈروجن کو سلنڈر میں جمع کر کے کسی ہلکی 800 یا 600 سی سی کی گاڑی میں الیکٹرک موٹر لگا کر ایک ایسی گاڑی کی موجودگی کا لوگوں کو یقین دلاتے ہیں جو پانی سے چلتی ہے۔ فیول سیل سے منسلک سلنڈر میں کتنی ہائیڈروجن پہلے سے موجود ہے اور کتنی پانی سے پیدا ہو رہی ہے یہ کون چیک کر سکتا ہے؟ اور یاد رہے محض ایک کلو گرام ہائیڈروجن کئی سو کلو میٹر تک بڑی گاڑی کھینچ سکتی ہے جب کہ گاڑی اگر چھوٹی ہو تو فاصلہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے پڑوس انڈیا میں ہائیڈروجن تین سو انڈین روپے فی کلوگرام کے حساب سے بہ آسانی دستیاب ہے۔

”آغا وقار“ نے جس واٹر کٹ کی کہانی پیش کر کے پاکستانیوں کے دل موہ لئے تھے۔ اور جس کو اس زمانے میں صرف دو لوگ فراڈ قرار دیتے تھے اور باقی پاکستان ان دو لوگوں کو برا بھلا کہتا تھا۔ ان کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ایک ڈاکٹر عطا الرحمٰن اور دوسرے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی۔ مرحوم ڈاکٹر قدیر بھی وقار کے مداح تھے اور انہوں نے وقار کو صحیح قرار دیا تھا (وجہ ان کو ہی معلوم ہوگی) ۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی ان دنوں ”ہاں ہاں“ کرتے تھے۔ حامد میر اور مرحوم ارشد شریف، آغا وقار کے ساتھ ایسے گھومتے تھے جیسے امریکہ اور یورپی ممالک اسے اغوا کر لیں گے۔ جب کہ بچارے آغا وقار کا قصور یہ تھا کہ اس نے (شاید) علی ایکسپریس (یا علی بابا) سے ایک فیول سیل منگوا کر (جو اُن دنوں بھی چند لاکھ کا بہ آسانی مل جاتا تھا) ایک چھوٹی سوزوکی کار میں فٹ کر دیا تھا۔ پٹرول انجن تھا یا نہیں اس سے کوئی فرق اس لئے نہیں پڑتا کہ اسے کھینچے کے لئے ڈی سی موٹر استعمال ہوئی ہوگی۔ مجھے یاد ہے اس میں ایک فیول سیل کا وہ خود بتاتا تھا۔ در اصل وہ گاڑی ایک الیکٹرک وہیکل بن گئی تھی جس نے بجلی سے چلنا تھا۔ اور بجلی بیٹری یا فیول سیل کسی سے بھی چل سکتی تھی۔ چین سے درآمد شدہ فیول سیل کو اصل میں ہائیڈروجن، ایک سلنڈر سے فراہم کی گئی تھی جس کے ساتھ دکھانے کے لئے ایک پانی کی بوتل بھی موجود تھی جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ گاڑی پانی سے چل رہی ہے۔ جب کہ وہ سوزوکی کار ایک الیکٹرک وہیکل تھی جس کی موٹر فیول سیل کی ڈی سی بجلی سے چل رہی تھی۔ جس کو ہائیڈروجن ایک سلنڈر سے مل رہی تھی۔ اور سلنڈر میں موجود ہائیڈروجن کتنی مہنگی تھی یا اسے بھرنے کی کیا قیمت ادا کرنی پڑتی ہے یہ ہر عقل مند اس وقت بھی پوچھ رہا تھا۔

شاید لوگوں کے لئے یہ ایک دل چسپ بات ہو کہ آج بھی ”دس کلو واٹ“ کا ہائیڈروجن فیول سیل یا جنریٹر (علی ایکسپریس پر ) آٹھ نو لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا میں اس وقت ہائیڈروجن بہ آسانی 300 روپے فی کلوگرام مہیا ہے۔

آغا وقار (بہر حال جھوٹا نہیں تھا) اس کی گاڑی میں بھی یہی بنیادی چیزیں تھیں۔ چارجڈ بیٹریاں جن کو ڈیڑھ لٹر کی کولڈ ڈرنک کی بوتل میں موجود پانی سے جوڑ کر الیکٹرو لائسس پر (دکھانے کے لئے ) لگادیا گیا تھا۔ اس انتہائی مہنگی ہائیڈروجن کو (کیوں کہ بعد میں بیٹری کو چارج بھی کرنا ہوتا تھا) سلنڈر میں جمع کر کے ”فیول سیل“ سے گزارا جاتا جو الیکٹرک موٹر کو گھمانے کا سبب بنتی۔ اور بس!

پاکستانیوں کی اکثریت چونکہ ہائیڈروجن گاڑیوں اور فیول سیل سے نابلد تھی تو انہوں نے ایسی گاڑی کو اسی طرح دیکھا جیسے پاکستانی گاؤں کا بوڑھا یک دم امریکہ یا جاپان پہنچ جائے۔

اصل سوال اس وقت بھی یہ نہیں تھا کہ یہ ممکن ہے یا نہیں بلکہ یہ تھا کہ یہ نسخہ کتنا مہنگا پڑے گا۔ فرض کریں اُس وقت ہزار روپے کے پٹرول سے گاڑی سو کلومیٹر چلتی تو پانی کی ایک بوتل، ساتھ پانچ ہزار کی بجلی یا ہائیڈروجن اور نئی بیٹری اگر اتنا ہی فاصلہ طے کرائے تو ایسی واٹر کٹ کون سی عقل مندی کی نشانی ہوگی؟
(جاری ہے )

Facebook Comments HS