پردہ بکارت کی سلامتی مرد کی ترجیح ہوتی ہے اور خاتون کی؟


کیا کوئی باشعور لڑکی بھی ”نیک اور پاکباز“ شوہر کی تلاش کا اشتہار دے سکتی ہے؟ کیا وہ بھی کوئی معقول یا قابل شوہر کی تلاش کے لیے بائیو ڈیٹا طلب کر سکتی ہے؟ اگر مرد کی نظر میں کسی بھی خاتون کے نیک و باکردار ہونے کا معیار ہائمن ”پردہ بکارت“ کی سلامتی اور تحفظ ہے تو ایک خاتون بھی تو اپنی ترجیحات کا اظہار کر سکتی ہے کہ ”اسے ایک ایسے باکردار شوہر کی تلاش ہے جس کے عضو تناسل کی نقاب کشائی شادی سے پہلے کسی کے سامنے نہ ہوئی ہو اور اس کی جوانی پر بچپن کی غلط کاریوں کا کوئی دھبہ نا ہو“ وہ مطالبہ کر سکتی ہے نا کہ اس کا ہونے والا شوہر ایسا ہو کہ جس نے کبھی کسی غیر خاتون کو چھوا تک نہ ہو۔

یہ چھونے والی بات کا حوالہ دینے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہمارے ایک جنونی قسم کے مذہبی دوست تھے، جن کا شادی سے پہلے تک یہ ٹریڈ مارک تھا ”بچی وہ لینی ہے جو ‘بچی’ ہوئی ہو“ اور ساتھ ہی انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے وضاحت بھی کر دیا کرتا تھا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بچی ‘سیل پیک’ ہو یعنی اس کا ہائمن ٹوٹا ہوا نہ ہو۔ اور خود کی عصمت کا یہ حال تھا کہ اس کے گھر چھوٹی عمر کی بچیاں قرآن مجید پڑھنے آتی تھیں ان میں سے ایک پر جھپٹ پڑے تھے، مقدمہ کے اندراج کی وجہ سے منہ چھپاتے پھر رہے تھے۔

کوئی بھی مذہبی انسان جب کسی خاتون کے متعلق باکردار یا نیک ہونے کا صیغہ جوڑتا ہے تو اس کی نظر خاتون کی دو ٹانگوں کے درمیان ٹکی ہوتی ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ ٹانگوں کے بیچ ”وجائنا“ کی حفاظت ایک خاتون کی جان سے بھی زیادہ قیمتی یا اہم ہوتی ہے، خود بھلے جو مرضی گل کھلائے ہوں کیا فرق پڑتا ہے؟
مرد تو مرد ہوتا ہے نا اس کی مردانگی تو جگہ جگہ منہ مارنے میں پنہاں ہوتی ہے، اس سے کوئی سوال نہیں کر سکتا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک مرد کو سیل پیک خاتون درکار ہوتی ہے تو خاتون بھی تو مطالبہ کر سکتی ہے کہ اسے بھی ایک ایسا باکردار شوہر چاہیے جس نے کسی خاتون کو چھونا تو درکنار کبھی بری نگاہ بھی نہ ڈالی ہو۔ مرد چاہتا ہے کہ اس کی بیوی ہر لحاظ سے پرفیکٹ یعنی ایک مثالی طرز کی ”نیک پروین ماڈل“ ہو اور ایک طرح سے ان ٹچ اور شوہر کے علاوہ ناقابل رسائی ہو تو پھر خاتون بھی تو کچھ ایسی ہی ترجیحات کا مطالبہ کر سکتی ہے، کیا سماج اسے اس قدر بے باکی کی اجازت دے گا؟

یہ مضمون لکھنے کا محرک ڈاکٹر نائیک کے بیٹے کا وہ انٹرویو ہے جس میں موصوف بڑے فخر سے فرما رہے ہیں کہ والد محترم نے میرے رشتے کا اشتہار اپنی فیس بک وال پر ڈالا تھا جس کے ریسپانس میں لگ بھگ 800 خواتین نے میرے ساتھ رشتے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے بائیو ڈیٹا ارسال کیا تھا اور ہم نے 10 رشتے شارٹ لسٹ کیے اور انٹرویو کے مرحلے کے بعد ایک رشتہِ منتخب کر لیا۔

بھائی آپ کون ہوتے ہیں مسترد کرنے والے اور آپ کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ آپ باکردار خاتون چھانٹی کر کے باقیوں کو مسترد کر دیں اور انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ انٹرویوز میں بتاتے پھریں؟

پارسائی کا زعم ایک مذہبی انسان کو انا اور خود پسندی کے بلند ترین پائیدان تک کیوں لے جاتا ہے؟ پارسائی کا نشہ اس قدر سر چڑھ کر کیوں بولنے لگ پڑتا ہے کہ آپ اسی زعم میں مبتلا ہو کر نیک اور باکردار خواتین کی تلاش کے اشتہار دینے لگ جاتے ہیں؟ کیا پاکیزہ بندھن کے لیے صرف خاتون کا باکردار ہونا ضروری ہوتا ہے یا مرد کا بھی صاحب کردار ہونا ضروری ہوتا ہے؟ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرد کے باکردار اور نیک ہونے کا کھوج کیسے لگایا جا سکتا ہے، کیا خاتون کھوج لگا سکتی ہے اور اس بنیاد پر کوئی حد جاری کر سکتی ہے؟

جب آپ حضرت عالی مقام کی رشتہ والی ایڈ کا مطالعہ فرمائیں گے تو اس میں جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کہ ”ہمیں ورچواس ‘نیک’ اور گڈ کریکٹر والی مذہبی خاتون درکار ہے۔“

کسی کے نیک یا باکردار ہونے کا پیمانہ کیا ہوتا ہے؟ کیا باکردار اور نیک صرف ایک مذہبی انسان ہی ہو سکتا ہے یا کوئی لامذہب بھی ہو سکتا ہے؟ یا باکردار و نیک ہونے کے حتمی حقوق صرف اور صرف ایک مذہبی انسان خاص طور پر مسلمان کو حاصل ہیں؟

کیا آپ فقط انٹرویو کر کے یا بائیو ڈیٹا طلب کر کے کسی بھی خاتون کو کریکٹر سرٹیفکیٹ یا نیک ہونے کے لائسنس کا اجراء کر سکتے ہیں؟ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ جو آپ کی نظر میں متقی و پرہیز گار ہے وہ ایک اچھا انسان بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ خواتین سے تو بائیو ڈیٹا طلب کر لیا کیا کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے خواتین سے رائے طلب کرنے کی جسارت کی ہے؟ سوچتا ہوں اگر یہ رسم چل نکلی تو مرد حضرات کا کیا بنے گا؟

یہ تو خواتین کا ہی حوصلہ ہوتا ہے ان کو جیسے تیسے بھی مل جاتے ہیں کبھی شکوہ زبان پر نہیں لاتیں، ظاہر ہے سماجی جبر اور ماں باپ کے منت ترلوں کے علاوہ رخصتی کے وقت کان میں انڈیلی جانے والی دھمکی کہ یہاں تمہارا جنازہ تو آ سکتا ہے لیکن شوہر سے ناراض ہو کر تم اس دہلیز پر قدم نہیں رکھ سکتیں کے سامنے وہ بے بس ہوتی ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “پردہ بکارت کی سلامتی مرد کی ترجیح ہوتی ہے اور خاتون کی؟

  • 29/10/2024 at 6:29 صبح
    Permalink

    تمھیں کسی اور چیز پر لکھنا نھی آتا۔ تمہاری تحریر پڑھ کر الٹی آتی ہے۔ شکل سے بھی منحوس لگتے ہو۔

Comments are closed.