داستان بابت سفر از لکسمبرگ تا اوسلو اور نیازی بس سروس
جب میں پاکستان سے لکسمبرگ پہنچا تو ناروے سے ڈاکٹر افضل سعید کا فون آیا کہ آپ ناروے میرے پاس کب آرہے ہیں۔ میں نے حسبِ عادت ہوں ہاں کر کے بات کو ٹالنے کی کوشش کی جب مجھے یہاں آئے ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا تو اس نے دوبارہ رابطہ کیا بلکہ مجھے لکسمبرگ سے ناروے کے لیے لکسمبرگ ائر لائن کا ٹکٹ بھجوا دیا تاکہ میرے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اب وہاں جانے کے سوا میرے لیے کوئی دوسرا چارہ کار موجود نہیں تھا۔
3 اکتوبر کو صبح 9 بج کر 50 منٹ پر فلائٹ لکسمبرگ ائرپورٹ سے روانہ ہونا تھی اور 12 بج کر 20 منٹ پر ناروے کے دارالحکومت اوسلو پہنچنا تھی میں نے آمنہ اور عمیر کو اس بارے میں بتا دیا۔ آمنہ نے میرے لیے ایک چھوٹا سا بیگ تیار کر دیا جس میں میرے کپڑے وغیرہ تھے اور عمیر نے بورڈنگ کارڈ ڈاؤن لوڈ کر کے مجھے واٹس ایپ کر دیا گویا کہ جانے کے تمام انتظامات مکمل تھے۔
عمیر جب بھی اپنی بائی ائر روانگی یا آمد کے واقعات سنایا کرتا تو اُن سب میں قدرے مشترک بات یہ تھی کہ وہ عین آخری وقت پر جہاز میں داخل ہوا کرتا تھا۔
پابندی وقت کے بارے میں میرا اپنا ٹریک ریکارڈ بھی کچھ ایسا اچھا نہیں تھا لیکن بہر حال مجھے فکر نہیں تھی کیوں کہ مجھے وقت پر ائر پورٹ پہنچانا عمیر کی ذمہ داری تھی۔ اس لیے اس معاملے میں مداخلت کو نامناسب سمجھتے ہوئے میں نے تمام معاملات عمیر پر ہی چھوڑ دیے۔
اتوار کو 9 بج کر 50 منٹ پر ہماری فلائٹ تھی اور ہم 8 بجے ابھی گھر پر ہی موجود تھے۔ اس وقت وہ ضوحا کو سکول چھوڑنے گیا ہوا تھا جب واپس آیا تو آمنہ نے بھی ہمارے ساتھ جانے کا عندیہ ظاہر کیا اور اس معاملے میں اظہارِ رضا مندی کے بعد اس نے بھی ہمارے ساتھ جانے کے لیے اپنی تیاری شروع کر دی۔
قصہ مختصر یہ کہ ساڑھے آٹھ بجے ہم لوگ ابھی گھر پر ہی تھے اور یہاں سے ائر پورٹ تک آدھ پون گھنٹے کا سفر بھی تھا۔ لیکن میں تو اس ذمہ داری کو عمیر کے کندھوں پر ڈال کر خود کو ریلیکس محسوس کر رہا تھا۔ بہرحال خدا خدا کر کے ہم ائر پورٹ جانے کے لیے گھر سے آخر کار نکل ہی پڑے۔
جونہی ہم مین روڈ پر ٹریفک کے اژدہام میں شامل ہوئے تو اس بات کا احساس ہوا کہ آفس ٹائم ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کا خاصا دباؤ ہے اور ائر پورٹ پہنچنے کے لیے ہمارے اندازے سے تقریباً دوگنا زیادہ وقت درکار ہو گا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ ہم ٹریفک میں پھنسے ہوئے نہایت سست روی سے ائر پورٹ کی طرف گامزن تھے۔ تقریباً ساڑھے نو بجے ہم مین روڈ سے ائر پورٹ کی طرف جانے والی سڑک پر مڑے۔ یہاں سے ائر پورٹ بس ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہی تھا لیکن جو نہی ہم آگے بڑھے تو دو تین عجیب الخلقت قسم کی گاڑیاں سڑک کے عین درمیان میں براجمان تھیں۔ جو یہاں پر گول گول چکروں میں نہایت سست روی اور بے نیازی سے گھوم رہی تھیں۔
بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گاڑیاں ہماری تنگی وقت سے بے نیاز ہو کر سڑک کی مرمت کرنے میں مصروف ہیں۔ ہر گاڑی کا اپنا اپنا ڈرائیور تھا جو اس کو چلا رہا تھا اور اس کے علاوہ ایک اور ایکسپرٹ وردی میں موجود انہیں ہدایات جاری کر رہا تھا۔ اب یہاں سے آگے گزرنے کے لیے بظاہر تو کوئی راستہ موجود نہیں تھا لیکن اگر وہ ہماری مجبوری کو محسوس کر لیتے تو گاڑیوں کو تھوڑا بہت آگے پیچھے کر کے ہماری گاڑی گزرنے کے لیے راستہ بنایا جاسکتا تھا۔
حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر عمیر نے آہستہ آہستہ گاڑی آگے بڑھانا شروع کر دی تاکہ محکمہ درستگی سڑک سے وابستہ یہ لوگ اپنی اپنی گاڑیوں کو ایک لائن میں لا کر ہمیں آگے نکلنے کا موقع فراہم کر دیں اور ہم جلد از جلد ائر پورٹ پہنچ سکیں لیکن جلدی تو ہمیں تھی انہیں تو کوئی جلدی نہیں تھی بلکہ وہ گاڑیاں تو جوں کی رفتار سے حرکت کر رہی تھیں۔ بہرحال جیسے ہی ہم لوگ اُن کے قریب پہنچے تو اُن کا وہ افسر اعلیٰ جو زمین پر کھڑا انہیں ہدایات جاری کر رہا تھا، اس نے غور سے ہماری طرف دیکھا اپنے ہاتھ کو بلند کیا اور شہادت کی انگلی اُوپر اٹھاتے ہوئے اسے نفی میں حرکت دی اور اس کے ساتھ ہی ہمیں واپس پیچھے مڑنے کا نہایت ہی بے دردی سے اشارہ کر کے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
ہمیں درپیش مسئلے سے اس کی بے نیازی، بے اعتنائی اور بے پرواہی کو دیکھتے ہوئے اس سے درخواست کرنے کا حوصلہ بھی نہ ہوا اور چار و ناچار واپسی کی ہی ٹھان لی لیکن اتنی دیر میں کچھ گاڑیاں ہمارے پیچھے بھی لگ چکی تھیں۔ بہرحال نہایت آہستہ روی سے گاڑی کو واپس موڑا اور اس ظالمانہ تیور رکھنے والے سرکاری اہل کار کی بجائے گوگل بی بی سے درخواست گزاری کہ ہمیں کسی متبادل راستے سے ائر پورٹ پہنچانے کے انتظامات کو حتمی شکل دے کر اپنی شکر گزاری کا موقع فراہم کرے۔
حسبِ معمول اس موقع پر بھی گوگل بی بی نے ہمیں متبادل راستہ دکھا دیا جب کہ اس راستے کو طے کرنے کے لیے پندرہ منٹ مزید در کار تھے۔ ہمارے پاس وقت کی بہت تنگی تھی لیکن کیا کیا جاسکتا تھا۔ چار و ناچار گوگل بی بی کی انگلی پکڑ کر نئے راستے پر ائر پورٹ کی طرف ہو لیے۔ لیکن جونہی ہم مین روڈ میں ایک بار پھر ٹریفک کے سمندر میں شامل ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے آگے آگے ایک ٹرک نہایت سست روی سے محوِ حرکت ہے۔ اس کے نازو انداز سے لگتا تھا کہ اُسے کہیں پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ بلکہ وہ اٹہلاتا ہوا، نخرے دکھاتا ہوا خراماں خراماں چلا جا رہا تھا۔
مجھے تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ اس کی کسی نے ڈیوٹی لگائی ہو کہ ان لوگوں کو وقت پر ائر پورٹ نہیں پہنچنے دینا۔ میں نے وقت پر نظر دوڑائی تو فلائٹ جانے میں صرف پندرہ بیس منٹ باقی تھے اور ائر پورٹ کا دور دور تک نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ گاڑی میں مکمل خاموشی اور گمبھیرتا چھائی ہوئی تھی۔
آمنہ اور عمیر کو فلائٹ نکل جانے کا تقریباً یقین ہو چکا تھا اور اس سلسلے میں وہ دونوں ہی اپنے آپ کو قصور وار محسوس کرتے ہوئے پریشان تھے اور خاموش بھی۔ گاڑی کے اندر موجود ماحول میں چھائی ہوئی پریشانی اور پشیمانی کو کم کرنے کے لیے میں نے اس گمبھیر خاموشی کو توڑتے ہوئے نہایت ہی ہلکے پھلکے انداز میں انہیں مخاطب کیا آپ لوگ پریشان مت ہوں میں نے جہاز والوں کو مطلع کر دیا ہے کہ میں لیٹ ہو گیا ہوں اور جب تک میں پہنچ نہ جاؤں آپ نے فلائٹ کو نہیں اُڑانا بلکہ میر انتظار کرنا ہے اور میرے پہنچنے پرہی ائر پورٹ سے روانہ ہونا ہے۔ اس لیے آپ لوگ بالکل بے فکر ہو کر چلتے جائیں لیکن اس کے باوجود بھی ماحول میں چھائے ہوئے جمود پر کوئی خاص اثر نہ پڑا بلکہ آمنہ نے کچھ بے زاری اور اکتاہٹ سے تبصرہ کیا کہ ابو یہ بوریوالا کا نیازی بس سٹینڈ نہیں ہے کہ آپ فون کر کے بس کو لیٹ کروا دیں گے۔ یہ لکسمبرگ کا ائر پورٹ ہے میں نے سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تم اپنے ابے کو انڈر اسٹیمیٹ کر رہی ہو۔ کوئی بات نہیں ابھی حقیقت حال کھل کر آپ لوگوں کے سامنے آ جائے گی۔ بہرحال اس گفتگو کا نتیجہ یہ ضرور ہوا کہ ماحول میں چھائی ہوئی سنجیدگی کچھ کم ہو گئی۔
اب ہم ائر پورٹ پہنچ چکے تھے گاڑی پارک کرنے کے بعد بھاگم بھاگ اندر پہنچے تو یہاں پر لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ یوں لگتا تھا کہ آج لکسمبرگ کی ساری کی ساری آبادی ہی یہاں ائر پورٹ پر لائنوں میں لگی ہوئی تھی۔ ہم نے ایک بار کاؤنٹروں کے آگے لگی ہوئی لائنوں کا بنظر غائر جائزہ لیا تاکہ چھوٹی لائن میں ہم بھی لگ جائیں لیکن اسی اثنا میں ہماری قریبی لائن میں آٹھ دس لوگ اور آ کر پیچھے کھڑے ہو گئے۔ اس وقت ہم اس قدر جلدی میں تھے کہ ہمیں وقت دیکھنے کا ہوش بھی نہیں تھا لیکن غالباً پونے دس بج چکے تھے اور فلائٹ کا ٹائم نو پچپن تھا۔ گویاکہ صرف پانچ منٹ باقی تھے لیکن اب ہم وقت کی اس فضول قسم کی حدود و قیود سے اپنے آپ کو آزاد محسوس کر رہے تھے لیکن عمیر ابھی بھاگ دوڑ کر رہا تھا میں یہاں پر لگی ہوئی لائنوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں عمیر تقریباً بھاگتا ہوا ہی میرے پاس آیا اور وہاں پر موجود ایک لمبی لائن اور اس لائن کے ساتھ دیوار کے درمیان پیدا ہو جانے والی ایک تنگ سی دراڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا کہ انکل آپ اس راستے پر گزر کر وہ سامنے کھڑکی پر پہنچ جائیں اور میں نے ایسا ہی کیا۔
کھڑکی میں کاؤنٹر پر بیٹھا ہوا بھی کوئی بھلا آدمی ہی تھا اس نے بھی میری اس نازیبا حرکت پر کوئی اعتراض کرنے کی بجائے میرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پاسپورٹ کو لے کر اُسے چیک کیا اور اپنی مقامی زبان میں کچھ گُڑ گُڑ سی کی۔ اس نازک موقع پر میں نے اپنی عقل سلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے سوچا کہ پاسپورٹ کے علاوہ یہاں پر ٹکٹ کی ہی ضرورت ہو سکتی ہے۔ میں نے ٹکٹ تلاش کرنے کے لیے اپنی جیکٹ کی ایک جیب کو ٹٹولا پھر دوسری میں اس کو ڈھونڈا وہاں بھی یہ جنس نایاب موجود نہیں تھی۔
اس کے بعد بدحواسی میں اپنے ٹراؤزر کی دونوں جیبیں ٹٹولیں لیکن اُن کو بھی بھوکے پیٹ کی طرح خالی پایا۔ اب میں نے تلاش کے اس سفر کو جیکٹوں کی جیبوں سے دوبارہ شروع کیا لیکن غالباً وہ ٹکٹ ہم کہیں کھو چکے تھے۔ اب آپ لوگ میری بے بسی کا اندازہ لگائیں کہ فلائٹ کا ٹائم بس ختم ہی ہونے والا ہے اور میں کاؤنٹر پر بغیر ٹکٹ کھڑا اسی فلائٹ پر سفر کرنے کا خواہش مند ہوں اور کاؤنٹر پر بیٹھا ہوا دفتری مکمل طور پر میری طرف متوجہ ہو کر مجھ سے ٹکٹ دکھانے کا تقاضا کر رہا ہے جو میں کہیں گم کر چکا ہوں۔
ان دگرگوں حالات کی نزاکت اور پریشانی کے عالم میں اچانک میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ٹکٹ تو میرے فون میں واٹس ایپ کی شکل میں موجود ہے میں نے فوراً ٹیلی فون نکالا اس کو کھولنے کے لیے مطلوبہ کوڈ فیڈ کیا تو فون نے بھی اس نازک وقت میں کھلنے سے انکار کر دیا۔ دوبارہ کوڈ لگایا تو نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ دو تین بار اور ناکام کوششوں کے بعد میں نے کوڈ کو الٹ کر کے لگایا تو فون کھل گیا۔
اب مجھ پر حقیقت عیاں ہوئی کہ اپنی ان ناکام کوششوں کے دوران میں فون کے کوڈ چون چورانوے کی بجائے چورانوے چون لگا رہا تھا۔ اسی وجہ سے فون کھلنے سے انکاری رہا۔ بہرحال اب میں نے وٹس ایپ میں عمیر کا نمبر نکالا اور وہاں پر پڑا ہوا ٹکٹ بلکہ بورڈنگ پاس بھی اس کو دکھا دیا جو عمیر نے آن لائن نکال کر مجھے بھیجا ہوا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ ہم اشاروں کی زبان میں ہی ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے کیوں کہ ہمارے ساتھ بھی زبان یار من ترکی من ترکی نمی دانم والا معاملہ تھا۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی زبان سمجھنے سے قاصر تھے۔ میں نے پھر فون کو کھولا تو وہیں پر ہی ایک بار کوڈ والا میسج پڑا ہوا تھا میں نے وہ اس کے آگے کر دیا۔ اس نے وہ میسج اپنی مشین کو دکھایا مشین نے اُسے دیکھتے ہی ایک ہلکی سی ٹیں کی آواز کے ساتھ اپنی منظوری بلکہ پسندیدگی کا اظہار کر دیا اور اس طرح ہم اس کاؤنٹر سے بخیر و عافیت فراغت پاکر اگلے مرحلے میں جا شامل ہوئے۔
یہاں پر سامان سکین ہو رہا تھا میرے پاس ایک چھوٹا سا ہینڈ کیری تھا اُسے میں نے بیلٹ کے اُوپر رکھا اپنا کراس باڈی اور موبائل ایک ٹرے میں رکھا بلکہ اپنی پہنی ہوئی جیکٹ اُتار کر بھی اس بیلٹ پر رکھ دی کیوں کہ مجھ سے پہلے والے بھی ایسے ہی کر رہے تھے اور میرا سامان آہستہ آہستہ مشین کی طرف حرکت کرنے لگا۔ مجھے جتنی جلدی تھی سامان اسی قدر آہستگی سے حرکت کر رہا تھا۔ جونہی سامان سکینر کے پاس پہنچا تو وہاں پر کھڑے ہوئے ایک شخص نے ہاتھ کے ساتھ میرے سامان کو مشین تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا اور میری طرف متوجہ ہو کر مجھ سے کچھ پوچھا۔ جو ظاہر ہے کہ زبان سے ناآشنائی کی وجہ سے میرے اُوپر سے ہی گزر گیا۔ اس نے پھر کچھ پوچھا تو میں نے اشارے سے اُسے بتایا کہ مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ اس نے انگلش میں پھر پوچھا، میں نے کہا یس۔ پھر اس نے میرے بیگ کی طرف اشارہ کر کے کہا ڈرنک مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا پوچھ رہا تھا بہرحال میں نے اس موقع پر وہی تیر بہدف نسخہ استعمال کیا جو میں اکثر ایسے حالات میں استعمال کیا کرتا ہوں۔ میں نے اپنے سر کو نفی میں ہلا دیا اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ کو پیچھے ہٹا کر میرے سامان کو آگے چلا دیا۔ میں بھی واک تھرو گیٹ میں سے گزر کر اپنا سامان وصول کرنے کے لیے مشین کے آگے جا کر کھڑا ہو گیا۔
ایک بار جی میں آئی کہ موبائل نکال کر وقت دیکھ لوں لیکن پھر میں نے اپنے آپ کو زمان و مکان کی حدود قیود سے آزاد ہی رہنے دیا۔ کیونکہ مجھے اس بات کا تو سو فی صد یقین تھا کہ فلائٹ کا وقت تو گزر چکا ہے لیکن بہر حال میں نے ہمت نہیں ہاری۔ جونہی سامان میرے پاس پہنچا میں اُسے اُٹھا کر تیزی سے باقی لوگوں کے ساتھ ساتھ چل دیا۔ جو سیڑھیاں چڑھ کر اُوپر جا رہے تھے۔ اوپر جا کر میں نے اپنے آپ کو ایک ریستوران میں پایا لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے بڑی بے فکری سے کھا پی رہے تھے۔ جب کہ ہمیں تو اپنے سفر کا مشکل ترین مرحلہ ابھی درپیش تھا کہ ہم نے اپنی فلائٹ کا گیٹ B۔ 09 تلاش کر کے وہاں پر پہنچنا تھا۔
یہاں پر میں نے اپنا سامان اٹھا کر چلتے ہوئے دو تین مسافروں سے گیٹ کی بابت دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن ہر کوئی مجھے اپنی ہی طرح افراتفری کا شکار نظر آیا۔ اب یہاں پر میں نے اپنی اعلیٰ تعلیم اور عقل سعید کو بروئے کار لاتے ہوئے چھت اور دیواروں پر ادھر ادھر جھانکا تو مجھے ایک جگہ پر B 01۔ B 10 لکھا ہوا دکھائی دیا۔ میرے لیے تو یہ بھی ایک بجھارت ہی تھی لیکن میں نے اس کے ساتھ دیے ہوئے تیر کے مطابق تیزی تیزی سے چلنا شروع کر دیا۔ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ میں ایک دوراہے پر آ کر رُک گیا کہ اب کون سی راہ اختیار کروں۔ بس اندازے سے ہی ایک طرف چل پڑتا اور تھوڑی دیر کے بعد میری ملاقات پھر B 01۔ B 10 سے ہوجاتی۔
کافی دیر چلنے کے بعد سیڑھیاں آ گئیں اور نشان راہ سیڑھیوں سے نیچے جانے کو کہہ رہا تھا۔ جب میں سیڑھیاں اُتر کر نیچے پہنچا تو یہاں پر B 01 سے لے کر B 08 تک تو گیٹ دکھائی دے رہے تھے لیکن B 09 اور B 10 کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ پاس سے گزرتے ہوئے ایک کالے سے اس کے بارے میں اس خیال کے پیش ِ نظر دریافت کیا کہ گورے تو شاید اپنے نسلی تفاخر کی وجہ سے ہمیں بتانے سے گریز کریں لیکن اس کالے سے تو بہر حال ہماری نسل برتر ہے۔ اس لیے اسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور ہوا بھی ایسے ہی اس نے بورڈنگ کارڈ دیکھتے ہی دور بنے ہوئے چوکور ستون کی طرف اشارہ کیا جس کے پیچھے ایک خاتون چھپی کھڑی تھی اور یہی گیٹ نمبرB 09 تھا۔ میں تیزی سے اس خاتون کی طرف بڑھا۔ اُسے اپنا پاسپورٹ اور موبائل پر موجود بورڈنگ کارڈ دکھایا۔ اس نے ان دونوں پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالتے آگے جانے کا اشارہ کیا اور میں ایک کوریڈور میں سے گزرتے ہوئے ایک دروازے میں کھڑا تھا۔ جس کے سامنے پورا ائر پورٹ پھیلا ہوا تھا اور جگہ جگہ ہوائی جہاز کھڑے ہوئے تھے۔
اب یہاں پر مجھے ایک اور مشکل مرحلہ درپیش تھا میں دو تین بار ہوائی جہاز پر سفر کر چکا تھا لیکن ایسا تو پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔ اپنے گیٹ سے جہاز تک ہمیشہ ٹنل کے ذریعے ہی پہنچا کرتے تھے لیکن یہاں صورتِ حال مختلف تھی یوں لگتا تھا کہ نیازی بس سٹینڈ پر کھڑے ہیں اور یہاں سے لاہور کی بس تلاش کر کے اس میں بیٹھنا ہے۔ گویا کہ اب ہمیں سامنے کھڑے ہوئے جہازوں میں سے اس جہاز کو تلاش کرنا ہے جو اوسلو جا رہا ہے اور اگر کسی غلط جہاز میں بیٹھ گئے تو پتہ نہیں کہاں جا اُتریں گے۔
ایسے دگرگوں اور پریشان کن حالات میں بھی مجھے ملک صاحب کا سنایا ہوا ایک واقعہ یاد آ رہا تھا جب وہ کراچی سے لاہور جا رہے تھے جونہی جہاز ہوا میں بلند ہوا تو ائر ہوسٹس نے بتایا کہ ہمارا جہاز اتنی بلندی پر لاہور کی طرف محوِ پرواز ہے اور ہم دس بجے لاہور پہنچیں گے تو یہ سنتے ہی اُن کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ہوا ایک لڑکا سیٹ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے شور مچا دیا کہ روکو، روکو، میں نے تو ملتان جانا ہے۔
مجھے یوں لگا کہ میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہونے والا ہے۔ بہرحال اسی تذبذب میں میں سامنے کھڑے ہوئے ہوائی جہاز کے ساتھ لگی ہوئی سیڑھی چڑھ کر جہاز کے اندر داخل ہو گیا۔ گیٹ پر جہاز کے عملے کی ایک بوڑھی سی خاتون نام نہاد ائر ہوسٹس کی صورت میں موجود تھی۔ میں نے مزید تاکید کے طور پر اُسے اپنا ٹکٹ دکھایا تاکہ میری تسلی ہو جائے کہ میں درست جہاز میں ہی سوار ہوا ہوں لیکن اس نے ٹکٹ پر نظر ڈالے بغیر ہی آگے جانے کا اشارہ کر دیا۔ اس نے شاید ٹکٹ دیکھ ہی لیا ہو لیکن مجھے سو فیصد یقین تھا کہ اس نے ٹکٹ نہیں دیکھا اور غلط جہاز میں سوار ہونے کے خدشات حسبِ سابق ہی بھڑوں کی طرح میرے دماغ میں بھوں بھوں کرتے پھر رہے تھے۔ بہرحال ہم نے ہرچہ بادا باد کا نعرہ لگایا اور آگے بڑھ کر اپنی سیٹ تلاش کر کے اس پر بیٹھ گئے۔
اتنی دیر میں فون کی گھنٹی بجی دیکھا تو آمنہ تھی اس کے دو تین بار پہلے بھی فون آ چکے تھے لیکن میں اپنی الجھنوں کی وجہ سے اُسے سن نہیں پایا تھا۔ میں نے فون اٹینڈ کیا تو آگے سے آواز آئی ابو آپ کہاں ہیں یہ آواز سنتے ہی میری روایتی لاپرواہی لوٹ آئی اور میں نے اُسے کہا کہ میں نے تم لوگوں کو بتایا نہیں تھا کہ میں نے جہاز کے ڈرائیور کو فون کر دیا ہے کہ میں لیٹ ہو گیا ہوں اس لیے میرے آنے کا انتظار کرے اور اب میں جہاز میں پہنچ گیا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی شور کے ساتھ جہاز کا انجن سٹارٹ ہوا تو میں نے بتایا کہ تمہیں آواز آ رہی ہے میں بس آ کر بیٹھا ہی ہوں اور جہاز سٹارٹ ہو گیا ہے اور جہاز واقعی آدھ گھنٹہ کی تاخیر سے اڑان بھر رہا تھا۔ آمنہ بولی شکر ہے۔
ویسے ہم ابھی ائر پورٹ پر ہی موجود ہیں اور ہمارا خیال تھا کہ آپ بھی واپس ہمارے پاس ہی آ رہے ہوں گے اور آپ کو ساتھ لے کر ہی واپس گھر چلیں گے۔ چلو بہرحال ٹھیک ہو گیا اب ہم بھی بے فکری سے واپس جا رہے ہیں۔ ویسے اوسلو پہنچنے تک دماغ کے کسی نہ کسی گوشے میں بار بار یہی خدشہ سر اٹھاتا رہا کہ اگر یہ جہاز کوئی اور ہوا تو کیا ہو گا۔ بہرحال تقریباً بارہ بجے کے قریب ہم لوگ اوسلو پہنچ گئے۔ وہاں ائر پورٹ پر ڈاکٹر افضل سعید میرے منتظر تھے میں اُن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر اُن کے فلیٹ میں پہنچ گیا اور بخیر و عافیت صحیح جگہ پہنچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔


