سوشل میڈیا پر افواہ سازی اور سادہ لوح عوام
سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا نے ابلاغ کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ہر طرح کی معلومات کو برق رفتاری سے بے شمار مخاطبین تک پہنچانا سوشل میڈیا کا خاصہ ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت عوام کو حالات حاضرہ سے آگاہی اور رونما ہونے والے واقعات پر اظہار رائے کے بہترین مواقع میسر آئے ہیں۔ متعدد ایسے مسائل جو روایتی میڈیا سے اوجھل رہے لیکن سوشل میڈیا پر اس قدر اجاگر ہوئے کہ متعلقہ ادارے ان کو حل کرنے پر مجبور ہوئے۔ حکومتی ادارے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے اور اس پر عوامی رائے و مطالبات جاننے کے لیے اب سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ جو عوام کو با اختیار بنانے کے لیے انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔
تعلیمی، سماجی اور کاروباری شعبوں میں جہاں سوشل میڈیا سے لاتعداد فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں وہاں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کے عام ہوتے ہی روایتی میڈیا سے عوام نے منہ موڑ لیے ہیں۔ میڈیا چینلز نے خبر کو سنسنی خیز بنانے کے لیے خبریت کے بجائے شور شرابا کا سہارا لے کر عوام کے مزاج کو پہلے ہی قدرے جذباتی بنایا ہوا تھا رہی سہی کسر اب سوشل میڈیا کی دھواں دھار خبروں نے نکال دی ہے۔ نامی گرامی میڈیا ہاؤسز سے وابستہ صحافیوں اور اینکرز نے اپنے سوشل میڈیا چینلز بنا رکھے ہیں۔ ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھ کر خبرنامے اور تجزیے سننے کے بجائے مشہور یوٹیوبرز کی سنسرشپ سے آزاد خبریں سن لینا اور ان کو وائرل کرنا سامعین کے لیے بھی کافی آسان ہے۔ یوٹیوب چینلز پر نشر ہونے والے بے لگام تبصرے اور تجزیے کبھی کبھار اشتعال انگیزی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے سوشل میڈیا کو پروپیگنڈے اور افواہ سازی کے لیے استعمال کرنے کی شرح بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
حال ہی میں چھبیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے اور سننے کو ملا ہر کسی نے اپنی سوچ اور پسند کے مطابق جو جی میں آیا لکھ اور بول دیا۔ جھوٹ، پروپیگنڈے اور افواہ کا بازار گرم رہا۔ کچھ یوٹیوبرز نے شوشہ چھوڑا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 50 ہزار سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ یہ اطلاع فوراً وائرل ہوئی اور سوشل میڈیا صارفین نے خوب تبصرے کیے۔ حتیٰ کہ بعض اخبارات نے بھی یہ خبر شائع کر دی۔ بعد ازاں میڈیا کے ذمہ دار ادارے حقائق سامنے لائے تو یہ خبر محض افواہ ثابت ہوئی۔
گزشتہ دنوں لاہور کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی کے واقعہ کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی۔ جس پر اشتعال پھیلا اور نوبت پر تشدد مظاہروں تک آن پہنچی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں نے ایسا کوئی واقعہ رونما ہونے کی تردید کی اور پیدا شدہ صورت حال کو امن کے لیے سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ چند ہی روز گزرنے کے بعد یہ شور بھی تھم گیا۔
اس قسم کی بے شمار جعلی خبریں پہلے بھی گردش کرتی رہی ہیں جو کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد جھوٹ ثابت ہوئیں۔ 2020 میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی دبئی میں وفات پانے سے متعلق جھوٹی خبر بھی خوب وائرل ہوئی۔ معروف گلوکار عطا اللہ خان عیسی خیلوی کے انتقال کی خبریں تو کئی بار چلائی گئیں۔ لیکن اس کے بعد آصف علی زرداری ملک کے صدر بنے اور عطا اللہ خان بھی اندرون و بیرون ملک کئی میوزیکل شو کر چکے ہیں۔ تاہم جھوٹ پھیلانے والوں کو کسی نے شرم نہیں دلائی اور کوئی قانونی کارروائی بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔
سادہ لوح عوام سوشل میڈیا پر سنی جانے والی بیشتر خبروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے تبصرے کرتے، ردعمل دیتے اور انھیں وائرل کر دیتے ہیں۔ جب معاملہ بڑھتا ہے تو نتیجہ بے چینی اور بے امنی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کا ایسا طریقہ کار متعارف کرے جس سے اشتعال انگیز و نفرت پر مبنی مواد کا سدباب ممکن ہو سکے اور اظہار رائے کی آزادی بھی متاثر نہ ہو، یوٹیوب چینلز پر الیکٹرانک میڈیا والے قوانین لاگو کیے جائیں اور ضرورت کے مطابق مزید قانون سازی کی جائے۔ افواہیں، جھوٹ اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائیاں عمل میں لا کر سزائیں دی جائیں۔
انٹرنیٹ کی فراہمی میں خلل پیدا کرنا یا سماجی رابطوں کی ایپلیکیشنز کو بند کر دینا مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہے اس سے سائبر کرائم پر قابو پانے کے بجائے صارفین کی مثبت سماجی، تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔
عوام اور با الخصوص سوشل میڈیا صارفین کے لیے ضروری ہے کہ اشتعال انگیزی پر مبنی اور غیر اخلاقی مواد کی حوصلہ شکنی کریں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات یا خبروں کو اس وقت قابل اعتماد سمجھیں جب متعلقہ ادارے تصدیق کر دیں یا کسی ذمہ دار میڈیا چینل سے غیر جانبدارانہ رپورٹ نشر ہو جائے۔ سوشل میڈیا کی اطلاعات، خبروں، تجزیوں اور تبصروں پر ہونے والے بحث مباحثوں میں حصہ لیتے وقت تہذیب اور اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑیں۔ حالات حاضرہ کے بارے میں معلومات کو تحقیق اور تصدیق کے بغیر پھیلانے سے اجتناب کریں۔ جس قدر ممکن ہو بذات خود فیکٹ چیک کے لیے مختلف دستیاب ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ ہر صارف سوشل میڈیا پر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دے تو معاشرے میں پھیلی بے امنی، نفرتوں، ذہنی تناؤ اور اشتعال انگیزی میں کمی لانا ممکن ہے۔


