ڈی آئی سی یا سی آئی ڈی؟


کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں؟ فیمنزم پہ لکھنے بیٹھیں تو گائنی پیچھے رہ جاتی ہے۔ گائنی پہ قلم اُٹھائیں تو فکشن اور تنقیدی مضامین روٹھ جاتے ہیں۔

کیی کراں؟ منجی کتھے ڈھاواں؟

پچھلے دنوں طوفان برد و باراں نے لوگوں کو گھروں میں دبک جانے پہ مجبور کیا۔ ہم وہ بھی نہ کر سکے کہ طوفان اور بارش مریض کا لحاظ تو کرتا نہیں۔

کال آئی کہ قریبی ہسپتال سے ایک مریضہ آ رہی ہے سی ٹی جی انتہائی خراب ہے۔ بچے کے دل کی دھڑکن ڈوب رہی ہے، سیزیرین کی ضرورت ہے۔ ہماری ٹیم الرٹ ہوئی اور آپریشن تھیٹر، انیستھیٹسٹ، نرسنگ اور نرسری کو بھی اطلاع دے دی گئی۔ مریضہ پہنچی، اور پہنچا دی گئی فوراً آپریشن تھیٹر۔ مریضہ کی رنگت ایسی تھی کہ مانو خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا گیا ہو۔ انیستھیٹسٹ نے خون کا سیمپل لیب بھجوایا اور ساتھ میں دو بوتل خون کی عرضی ڈال دی۔

انتظار کرنے کا وقت تو تھا نہیں کہ بچے کی حالت نازک تھی مگر مریضہ کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اس کا حال بھی بچے سے کم نہیں۔ سیزیرین شروع ہوا، جونہی پیٹ کھلا، پیٹ میں خون بھرا نظر آیا۔ یہ کیا؟ کیا بچے دانی پھٹ گئی؟ سیزیرین کرنے والی ڈاکٹر نے سوچا۔ خیر۔ بعد میں دیکھتے ہیں۔ بچہ تو نکالوں پہلے۔ بچے دانی کھولتے ہوئے ڈاکٹر نے سوچا۔ بچے دانی بھی اچھی حالت میں نہیں تھی، جگہ جگہ نیلے کالے رنگ کے بڑے بڑے نیل نظر آ رہے تھے۔ بچے دانی جونہی کھلی، بچہ اور آنول ساتھ ساتھ باہر آئے۔ آنول اپنے وقت سے پہلے اکھڑ چکی تھی اور بچے دانی خون کے لوتھڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہ سب دیکھتے ہی ڈاکٹر چلائیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کو بلائیے فوراً۔

ہم حسب معمول بستر پہ دراز آئی پیڈ ہاتھ میں تھامے فلم دیکھ رہے تھے جب فون کی گھنٹی بجی۔ سنتے ہی ہم نے چابی پکڑی اور گاڑی کی طرف دوڑ لگائی۔
انتہائی تیزی سے گاڑی چلاتے، موڑ کاٹتے، اوور ٹیک کرتے، بچتے بچاتے اور ہانپتے کانپتے ہم آپریشن تھیٹر پہنچے تو سب چونک گئے۔ اتنی جلدی؟ ہائیں تو کیا تب آتے جب بات اور بگڑ جاتی؟ ہم نے سوچا۔

کپڑے بدل، دستانے پہن کر ہم جا کھڑے ہوئے مریض کے سرہانے۔ جس کے دونوں ہاتھوں میں خون کی نالیاں لگی تھیں۔ کیا خون کی رپورٹ آئی؟ ہم نے پوچھا
جی۔ ہیموگلوبن ہے پانچ اور پلیٹلیٹس ہیں 41۔ انتہائی مری ہوئی آواز میں جواب ملا۔ ہمارے ہاتھ سے اوزار چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ اوہ۔ تو یہ وجہ تھی پیٹ میں خون موجود ہونے کی۔ مریضہ ہمارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی ڈی آئی سی میں تھی۔

ڈی آئی سی۔ جسے الٹ کر پڑھیں تو بنے گا سی آئی ڈی۔ جس کا ہم سے دور دور تک تعلق تو نہیں مگر اہلیت میں پورے ہیں اور متعدد بار ثبوت پیش کر چکے ہیں۔ خیر چھوڑیے اس بات کو۔ تو ہم کہہ رہے تھے ڈی آئی سی۔ یہ مخفف ہے Disseminated intravascular coagulation۔ ایک ایسی صورت حال جس میں شریانوں، وریدوں اور اعضا میں پہلے خون جم کر کلاٹ بناتا ہے اور پھر اتنا پتلا ہو جاتا ہے کہ ہر طرف سے بہنا شروع ہوجاتا ہے۔ ڈی آئی سی کے مریض کو اگر کینولا بھی لگائیں تو خون ورید / شریان سے بہتا رہے گا۔ اور اگر بہتا ہوا خون رکنے میں ناکام ہو جائے تو بالآخر مریض کی موت واقع ہو جائے گی۔

خون کو بہنے سے روکنے کے لئے پلیٹلیٹس انتہائی ضروری ہیں جو خون میں پائے جانے والے بہت سے سیلز میں سے ایک ہیں۔ ہر کسی کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ تک ہوتی ہے۔ جب پلیٹلیٹس ڈیڑھ لاکھ اور لاکھ کے بیچ ہوں تب تک بات بہت زیادہ خطرے کی نہیں ہوتی۔ لاکھ اور پچاس ہزار پہ ہر کوئی الرٹ ہوتا ہے، سرجری کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے اور پلیٹلیٹس کی ڈرپ لگائی جاتی ہے۔ پچاس ہزار سے اگر پلیٹلیٹس کم ہوں تو سمجھیے کہ مریض سرحد پہ کھڑا ہے۔ ابھی گیا کہ گیا۔ اور تب ڈی آئی سی کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔

ہماری مریضہ کا بنیادی مسئلہ حمل میں ہونے والا ہائی بلڈ پریشر تھا۔ بلڈ پریشر کنٹرول میں نہ ہونے کی وجہ سے آنول اپنی جگہ سے اکھڑ گئی اور اس کے اکھڑنے سے ایسے کیمیائی مادے شریانوں میں داخل ہوئے جنہوں نے سب پلیٹلیٹس کھا لیے۔ پلیٹلیٹس کا خاتمہ ہوا تو ہر طرف سے خون بہنے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ جب پیٹ کھولا تو پیٹ خون سے بھرا پڑا تھا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ مریضہ کا پیٹ کھلا پڑا تھا، بچے دانی نیلو نیل تھی، ہر طرف سے خون بہہ رہا تھا اور پلیٹلیٹس صرف اکتالیس۔ آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔ اب کیا کرو گی طاہرہ کاظمی۔ اندر سے کسی نے چٹکی بھری۔

ہم بچے دانی نکالنے جا رہے ہیں۔ برائے مہربانی لواحقین سے بات کریں کہ کوئی اور راستہ نہیں ہمارے پاس۔ گو کہ یہ راستہ بھی مشکوک ہی ہے کہ جہاں سے کاٹیں پیٹیں گے، خون تو رکے گا نہیں۔ بہر حال کنسینٹ پہ سائن کروائیں۔ پلیز لیب کو بتائیے کہ ہمیں چھ بوتلیں سرخ خون اور چھ بوتلیں سفید خون چاہیے۔ اور اگر پلیٹلیٹس کا بھی انتظام ہو جائے تو کیا کہنے؟ انیستھیٹسٹ صاحب، پلیز اپنے سینئر کو بلا لیں۔ ہسٹرکٹمی کے اوزار کھول لیں پلیز۔ ایسا لگا کہ ہم کسی فلم کے سیٹ پہ موجود ہیں اور ہدایات دے رہے ہیں کہ لائیٹس آن پلیز، کیمرہ ان ایکشن، کوائیٹ۔ گو۔

بہتے ہوئے خون کے سمندر میں چھلانگ لگا دی ہم نے یہ کہتے ہوئے یا اللہ تیرا ہی آسرا۔ اوزار لگاتے، کاٹتے، گرہ لگاتے، خون پونچھتے، دل سنبھالتے ہم نے بچے دانی نکال ہی دی۔ جہاں جہاں سے بچے دانی ہم نے نکالی تھی، وہاں سے خون رس رہا تھا۔ دونوں انیستھیٹسٹ جانفشانی سے خون دیتے جا رہے تھے اور مریض کے بلڈ پریشر اور نبض پر بھی دھیان تھا۔ خیر جناب ہم نے جلدی سے پیٹ بند کیا کہ ایسے آپریشن اگر بہت زیادہ طویل ہو جائیں تو تب بھی مریض کا بچنا مشکل ہوتا ہے۔ اب مریضہ آئی سی یو کے حوالے تھی اور ہم تھکے ماندے گھر کو لوٹ رہے تھے۔

اگلی صبح پلیٹلیٹس اکتالیس ہزار سے بڑھ کر ستر ہزار پہ پہنچ چکے تھے۔ بلڈ پریشر کنٹرول میں تھا۔ خون کا بہاؤ قابو کر لیا گیا تھا۔ ہم نے مریضہ کے سرہانے کھڑے ہو کر اسے مخاطب کیا۔ کیسی ہو؟ الحمد للہ۔ نقاہت بھری آواز۔

ڈی آئی سی DIC کی بازی پلٹی جا چکی تھی۔ وہ سب حاملہ خواتین جو ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ حمل سے گزرتی ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا بھر میں حاملہ عورتیں کی اموات بلڈ پریشر اور اس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

حمل کو مذاق مت سمجھیے اور نہ ہی یہ کہ پچھلے زمانے کی عورتیں تو روٹین میں دس بیس بچے پیدا کرتی تھیں۔ درست فرمایا آپ نے لیکن یہ بتا دیجئے کہ جب سرجری کے طریقے وجود میں نہیں آئے تھے، آنول تو تب بھی اکھڑتی ہو گی۔ تب عورت کو کیسے بچایا جاتا تھا؟

Facebook Comments HS