بولنے کی اجازت نہیں
اخبارات، نیوز چینلز یا سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے روزانہ بیسیوں خبریں ہم پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں۔ اکثر اوقات ہم ان خبروں کا نوٹس بھی نہیں لیتے یا ہم اس قدر عادی ہوچکے ہوتے ہیں کہ ہم انھیں نظرانداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ یہ تو معمول کی بات ہے۔ کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ہمارے لیے تو یہ معمول کی بات ہے لیکن جس کے متعلق وہ خبر ہے کیا اس کے لیے بھی معمول کی بات ہے؟ ایسے ہی خبروں کے ڈھیر میں وہ خبر بھی ہمیں معمول کی خبر لگی ہوگی جس کے مطابق ایک شخص اپنی بیمار بیٹی کی دوائی کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بیوی کے زیور بیچنے گیا اور ڈکیتوں کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ کیا یہ خبر ”معمول“ کی خبر ہونی چاہیے؟ کس قدر بھیانک بات ہے کہ ایک شخص جو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہے وہ ڈکیتوں کے ہاتھ قتل ہو کر جان و مال سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ مال بھی کیا ہو گا؟ چند ہزار روپے جو اس نے اپنی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے اپنی بیوی کے زیوروں کے عوض حاصل کیے۔
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اگر مرحوم ساغر صدیقی آج زندہ ہوتے تو اس شعر میں ترمیم ضرور کرتے کہ بھول سلطان سے نہیں بلکہ عوام سے ہوئی ہے۔ سلطان بھی کوئی غلطی کرتے ہیں؟ اور ہمارے ملک کے سلطان تو بالکل بھی غلطی نہیں کرتے۔ وہ تو نپی تلی چالیں چلتے ہیں۔ کس کو خریدنا ہے، کس کے ہاتھوں بکنا ہے، کس سے ڈرنا ہے، کس کو ڈرانا ہے، کس کی حمایت کیسے حاصل کرنی ہے، کس کی حمایت کس عوض کرنی ہے، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کس حد تک جانا ہے، وہ سب جانتے ہیں۔ وہ ان تمام معاملات میں قطعاً بھول نہیں کرتے۔ غلطی یقیناً مرنے والے کی ہے۔ اسے کس نے کہا تھا کہ وہ گھر سے باہر نکلے؟ اسے چاہیے تھا کہ گھر میں رہتا۔ بیٹی مرتی تھی تو مرنے دیتا۔ ویسے بھی ہماری جانوں کی کیا اہمیت ہے؟
شہر قائد میں جہاں ڈکیت دندناتے پھرتے ہیں، جہاں وحشت ناچتی پھرتی ہے، جہاں نہ کسی کی جان محفوظ ہے اور نہ مال، وہاں اپنی جان کو جوکھوں میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اس شہر کے سلطان اعظم کو ابھی فرصت نہیں۔ وہ شطرنج کی بساط میں مصروف ہیں۔ وہ بادشاہ گر ہیں۔ کس کے سر پر اقتدار کی ہما بٹھانی ہے وہ بخوبی جانتے ہیں۔ وہ اس کام میں ماہر ہیں۔ انھیں سیاستدانوں کا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ سب ان کے در پر جھکتے ہیں۔ قبر میں ٹانگیں ہونے کے باوجود وہ اپنے، اپنے برخوردار اور ہم نواؤں کے اقتدار کو دوام بخشنے کی منصوبہ بندیوں میں لگے ہوئے ہیں۔
ہمارے دیس کے ہر سلطان کی خواہش ہوتی ہے کہ صاحب سیف سے لے کر عدل و انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والا تک اس کا ”اپنا آدمی“ ہو تاکہ اس کے اقتدار کو کوئی للکارنے یا کمزور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ لہذا فقیروں (عوام) کو چاہیے کہ ابھی انتظار کریں، گھروں میں چھپ کر رہیں، کوئی مرتا ہے تو اسے مرنے دیں لیکن اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ انصاف ہو گا، ضرور ہو گا، قاتلوں کو پھانسی اور مجرموں کو سزا ملے گی لیکن ابھی کچھ دہائیوں یا شاید صدیوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔ بولنا نہیں اور نہ احتجاج ہی کرنا ہے کیونکہ شور سے سلطانوں کی نیند اور سکون میں خلل پڑتا ہے اور کیا عجب کوئی آئے اور ہم جیسے فقیروں کو ان کی گدڑی سمیت اٹھا کر لے جائے اور ہم مسنگ پرسنز قرار دے دیے جائیں۔ ہم فقیروں کے لیے ہی کہا جاتا ہے کہ خاموشی میں سلامتی ہے۔ ہم اس مرنے والے کے لواحقین کو صبر کی تلقین ہی کر سکتے ہیں کیونکہ اب یہ ”معمول“ کی بات بن چکی ہے۔
سلطانوں سے بس ایک درخواست ہے کہ کہیں سے آب حیات حاصل کر لیں۔ اسے خود بھی پی لیں اور اپنے پسندیدہ افراد کو مختلف عہدوں میں فکس کر کے انھیں بھی پلا دیں۔ کچھ بھی کر لیں۔ یہ وطن ان کا ہے۔ ہم تو اس میں خوامخواہ ہیں۔ اب چونکہ ہم اس میں ہیں تو براہ مہربانی ہماری طرف بھی نظر کی بھیک اور خیرات ڈال دیں۔ ہم تا عمر آپ کے ابدی اقتدار کی دعا کرتے رہیں گے۔ بس ہماری جان و مال کو لٹیروں اور ڈکیتوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ ہمیں روٹی نہیں دے سکتے اور نہ ہمارے بچوں کو روزگار دے سکتے ہیں (کیونکہ آپ چاہتے ہی نہیں ہیں ) لیکن ہماری جانوں کی حفاظت تو کر سکتے ہیں۔

