پاکستانی سیاست میں خواتین کا موثر کردار
عمران خان اور ان کا خاندان وطن اور ہم وطنوں کے ساتھ محبت کا وہ قرض چکا رہا ہے جو انہوں نے لیا بھی نہیں، دوران قید کپتان کے کردار نے انہیں ان کی ہم عصر سیاسی قیادت میں مزید ممتاز کر دیا۔ عمران خان کی طرح ان کی بہنیں بھی نڈر اور بہادر ہوں گی اس کا کسی کو اندازہ تک نہیں تھا۔ عمران خان جس روز سے جیل میں قید ہیں اس دن سے ان کی بہنیں اپنے بھائی کی آزادی کے لئے سرگرم ہیں۔ پی ٹی آئی کے فاؤنڈر عمران خان کی بہنوں علیمہ خانم، عظمیٰ خانم، اہلیہ بشریٰ بی بی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عالیہ حمزہ اور صنم جاوید خان سمیت پارٹی کی خواتین کارکنان نے اپنی قیادت اور اپنے سیاسی کاز کے ساتھ وفا کا امتحان نمایاں نمبروں کے ساتھ پاس کر لیا ہے۔
پی ٹی آئی سے وابستہ خواتین کی سیاسی استقامت اور مزاحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ضمیر کے قیدی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا جیل سے حالیہ رہائی کے بعد بنی گالہ سے اچانک پشاور منتقلی کا اقدام ایک پیچیدہ اور غور طلب فیصلہ ہے، جو ایک طرف ان کی ذاتی زندگی کی حفاظت کے لئے ضروری تھا جبکہ دوسری طرف صوبہ پنجاب کی جانبدار انتظامیہ اور قانون نافذ کر نے والی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ کمٹمنٹ، اہلیت اور قابلیت پر عدم اعتماد ہے۔ اس فیصلے کے سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے تناظر میں کئی پہلو ہیں لہٰذا انہیں سمجھنا ہو گا۔
پنجاب کی موجودہ صورتحال اور خواتین کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب میں ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے، یہ سوال اٹھنا فطری امر ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کیوں پنجاب کی حدود میں خود کو غیر محفوظ سمجھا اور دوسرے صوبے خیبر پختونخوا میں کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبہ پنجاب میں سیاسی حالات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ہرگز تسلی بخش نہیں، خاص طور پر جب پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کی اہلیہ خود کو اپنے صوبے میں محفوظ محسوس نہیں کرے۔ ان کا یہ فیصلہ خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خواتین کی بھرپور شرکت اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ہمیشہ چیلنجز درپیش رہے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں قومی سیاست سمیت معاشرے کے مختلف شعبہ جات میں اہم عہدوں پر براجمان اور متحرک کردار ادا کرنے والی خواتین پر ریاستی جبر اور جنسی تشدد کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ جبر صرف کسی مخصوص فرد یا طبقہ تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جہاں تک انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی جبر کا تعلق ہے تو چند روز قبل عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ آئینی منصب سے سبکدوش اور وطن سے رخصت ہونے والے چیف جسٹس کے دور میں ہماری خواتین کے ساتھ ہونے والی آبروریزی اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کے واقعات میں شدت آئی۔ سیاسی، سماجی اور قانونی دباؤ نے خواتین کے حقوق کو بری طرح متاثر کیا۔ مختلف موضوعات اور معاملات کے تحت ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک خواتین، لیڈیز صحافی اور خواتین سیاسی کارکنان کو بھی ریاستی طاقت اور قید و بندکا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات نے ملک کے عدالتی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اخلاقیات اور صلاحیت پر شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خاص طور پر صوبہ پنجاب جہاں وزیر اعلیٰ، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس اور صوبائی محتسب خواتین ہوں وہاں عورتوں کو جنسی تشدد اور جنسی امتیاز کا سامنا کرنا پڑے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔
بہر کیف بشریٰ بی بی کی پشاور منتقلی نے پنجاب کی انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ بشریٰ بی بی کی پشاور منتقلی ایک علامتی فیصلہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین کس حد تک اپنے حقوق اور حفاظت کے لئے پریشان ہیں۔ یہ فیصلہ صرف ایک خاتون تک محدود نہیں بلکہ اس سے ملکی حالات کی عکاسی ہوتی ہے۔ جب ایک خاتون جو کہ سیاسی حلقوں میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہو وہ اپنی حفاظت کے لئے اپنا آرام دہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔ اس پورے واقعہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت اور پنجاب کی سکیورٹی فورسز کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خواتین کی حفاظت اور انہیں ان کے بنیادی حقوق اور اپنے کام کاج یا روزگار کے سلسلہ میں معاشرتی آزادی کی صورتحال کس قدر تشویشناک ہے۔ ریاست کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف سیاسی حلقوں میں موجود خواتین بلکہ معاشرے کی تمام خواتین کو محفوظ اور برابری کا ماحول میسر آئے اور وہ آزادانہ اپنے روزمرہ کے معمولات انجام دے سکیں۔ بشریٰ بی بی کا یہ قدم ایک فرد کی ذاتی سکیورٹی سے بڑھ کر ایک قومی ایشو ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے مزید اقدامات اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اس دور میں خواتین کو چاردیواری کے اندر قید یا محدود نہیں رکھا جا سکتا ہے اور نہ انہیں دیوار کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے لہٰذا سیاست، صحافت اور تجارت سمیت دوسرے شعبہ جات میں خواتین کے لئے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے اظہار کا راستہ نہ روکا جائے، وہ تحریک قیام پاکستان کی طرح تعمیر پاکستان میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کی ہمشیرہ مادر ملت فاطمہ جناحؒ ہوں یا عمران خان کی بہنیں علیمہ خانم اور عظمیٰ خانم ہوں ہر کامیاب اور باکردار مرد کے پیچھے خواتین کے کلیدی کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔


