سیاسی مخالفین کی تضحیک کا شرمناک کلچر


اگر کوئی شخص پی ٹی آئی کی حمایت یا دوسری سیاسی جماعتوں کی پالیسیز کی مخالفت میں بیان بازی کرتا ہے تو وہ یوتھیا کہلاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص پی پی کی حمایت اور دوسری سیاسی جماعتوں کی مخالفت میں کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے جیالا سمجھا جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا پی ایم ایل ن کے ورکرز کو ہے، اگر وہ کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کی پالیسیز پر منفی رائے دینے کی کوشش کریں تو فوراً انہیں بھی لوگ پٹواری کا لقب دینے پر تلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سیاسی نظریات کی بنیاد پر اس طرح کے الفاظ کی ٹیگنگ کا عنصر کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔ لیکن ہمارے ہاں شاید لوگ اس تفریق کو باعث فخر سمجھتے ہیں جو کہ فوراً دوسروں کے منہ سے الفاظ نکلتے ہی اسے متعصبانہ نظر سے دیکھنا اور پرکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس صاحب الرائے شخص کا نظریہ ایک معاملے میں کسی جماعت کے حق میں ہو اور کسی دوسرے پہلو کے لحاظ سے اس جماعت کی مخالفت میں ہو۔ لیکن، نہیں، ہم لوگوں میں من حیث القوم اتنا صبر کہاں! ہم تو جی پہلی فرصت میں جب تک کسی شخص کو ٹیگ نہ کر دیں، ہمیں چین ہی نہیں آتا۔

شاید ہم لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ مملکت پہلے ہی بہت ساری فالٹ لائنز پر کھڑی ہے۔ کہیں ہم زبان کی بنیاد پر تقسیم ہو جاتے ہیں تو کہیں صوبائیت، لسانیت، علاقائیت اور کہیں مذہب اور فرقہ واریت کی بنیاد پر۔ یہ تعصبات پھر گلی گلی، بازار بازار اور گاؤں گاؤں میں چند اور دوسری بنیادوں پر پائے جاتے ہیں۔ جیسے کہ برادری کی بنیاد پر تعصب، رنگ، نسل، صحت، قد، بال، شکل اور پتا نہیں کیا کیا عجیب و غریب قسم کی بنیادوں پر تعصبانہ رویہ۔ چلیں، ان پڑھ یا ادھ پڑھوں میں تو اس طرح کے توہم پرستانہ خیالات کو کوئی باشعور سمجھنے کی کوشش کر ہی لے، لیکن جہاں پڑھے لکھے لوگ ان نام نہاد بنیادوں کا زیادہ تذکرہ کرتے ہوئے پائے جائیں، وہاں پھر قوم کا اللّٰہ ہی حافظ۔ یہاں تک کہ مملکت خدا داد پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی جامعات اور دوسرے تدریسی ادارے بھی ان خرافات سے بھرے پڑے ہیں۔

قابلیت اور اہلیت کا تو ذکر ہی نہ کیجیے، صرف ان نام نہاد بنیادوں پر ہماری جامعات نوکریاں بانٹنے اور لیکچرار، پروفیسر بھرتی کرنے کے لیے مشہورِ ہیں۔ خاص کر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اس معاملے میں اپنی مثال آپ ہے۔ جہاں ایک خاص برادری اور ٹی سی کرنے والوں کی پچھلی ایک دو دہائیوں سے چاندی ہوئی پڑی تھی۔ بھلا ہو میڈم سی ایم کا جن کی بدولت اب خدا خدا کر کے وہاں کے شاہانہ وی سی صاحب رخصت ہوئے ہیں۔

جامعات تو خیر مغربی تعلیمی نظام کی بنیاد پر قائم کی جاتی ہیں، ہمارے ہاں تو اسلام کے نام پر بننے والے مدرسے بھی ہر گلی کوچے میں تقسیم ہوئے پڑے ہیں۔ بہت سی مساجد کے باہر بڑی سی تختی پر فرقے کا نام بڑی شان و شوکت سے درج کیا گیا ہوتا ہے کہ جیسے اسلام کا ٹھیکیدار بس یہی فرقہ ہے اور باقی سب خوارج۔ کچھ نے تو یہاں تک اپنی باہری تختیوں پر لکھوایا ہوا ہوتا ہے کہ فلاں فرقے والے اس مسجد میں داخل نہ ہوں۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ کسی خاص فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کا کھوتا کسی دوسرے فرقے والی مسجد میں گھس گیا، جس سے علاقے میں جنگ کا سا سماں ہو گیا اور وہاں آپسی لڑائی سے کافی عرصے تک خوف و ہراس پھیلا رہا۔

مزید برآں، صوبائیت تو سنہ 1947 سے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرتی ہوئی آ رہی ہے۔ صوبائی تعصب کی تاریخ پھر کبھی سہی، پچھلے دنوں کی بات ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کے حامیوں نے پنجابی ڈرائیوروں کو چن چن کر سر عام سڑک پر قتل کر دیا۔ آج بھی پنجابی بلوچستان میں کوئٹہ سے گوادر تک سفر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ نہ جانے کس موڑ پر دہشت گرد انہیں آ گھیریں۔ کوئٹہ اور خیبر پختونخوا میں ہزارہ برادری اور شیعہ فرقے کے پیروکار الگ ہی قسم کے خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آئے دن اخبارات انجانی گولی سے شہید ہونے والے شیعہ حضرات کی خبریں دیتے رہتے ہیں، جس کے سنتے ہی سینہ آہوں، سسکیوں اور دکھوں سے بھر جاتا ہے۔ پاکستانی طالبان بھی خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں وقتاً فوقتاً قتل و غارتگری اور فوجی دستوں پر حملوں کی خبروں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں زبان کی بنیاد پر لوگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہیں، یہاں اردو بولنے والے پشتو بولنے والوں کو اور پشتو بولنے والے بلوچی بولنے والوں کو برداشت نہیں کر پاتے۔ ریاست نے بڑی قربانیوں اور مشقت کے بعد کراچی سے بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کی سیاست سے عوام کی جان چھڑائی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ زبان کی بنیاد پر تقسیم اور لڑائی جھگڑوں سے کب نبردآزما ہوتی ہے۔ پنجاب بھی سرائیکی بولنے والوں اور پنجابی بولنے والوں کی بنیاد پر نفرت اور تقسیم کا شکار ہے۔

معاشرہ اور مملکت پہلے ہی اتنی زیادہ بنیادوں پر تقسیم ہے، سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا باعث بنیں، نہ کہ مزید جیالوں، یوتھیوں اور پٹواریوں جیسی متعصبانہ ٹرمینالوجی کو اپنا کر عوام کو تقسیم در تقسیم کرتی رہیں۔ کیا زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر سنہ 1971 میں آدھے پاکستان کی علیحدگی سے اس ملک کی اشرافیہ، سیاستدانوں، مفکروں، دانشوروں اور عوام نے کچھ نہیں سیکھا؟ یہ وقت ہوش کے ناخن لینے کا ہے۔ ملک کے سب اسٹیک ہولڈرز کو مین اسٹریم میں لانے کی ضرورت ہے۔ محروموں اور مظلوموں کی دادرسی بہت ضروری ہے۔ بلوچوں کے ساتھ گفت و شنید کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پختونوں کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ سب کو چاہیے کہ مل جل کر آپسی اختلافات کو فراموش کریں اور صرف ملکی بہتری اور عوامی خوشحالی والے نکات پر غور و فکر کریں۔ یہ عوام کو بھوک و افلاس کی چکی سے نکال کر بلا امتیاز بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کا بہترین موقع ہے۔

مورخ اور تاریخ بڑے ظالم ہیں، یہ سب کچھ نتھار کر سامنے لے آتے ہیں۔ ملک کی بربادی میں کس نے کیا کردار ادا کیا اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کس نے کب پر تولے یہ سب کچھ تاریخ میں اخر امر ہونا ہی ہونا ہے۔ یہ زندگی کی ڈور تو صرف چند سانسوں کی مالا ہے، نہ جانے کس موڑ پر ساتھ چھوڑ جائے۔ لہذا، سب اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ بلا تعصب، بغیر اس حقیقت میں جائے کہ کون جیالا، یوتھیا یا پٹواری ہے، صرف اور صرف قابلیت اور اہلیت کو معیار بناتے ہوئے پاک سر زمین کی ترقی و خوشحالی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments HS