آئینی ترمیم، فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو کا کردار


بالآخر حکومت نے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے چار روز قبل 26 ویں آئینی ترمیم منظور کرا لی پارلیمانی تاریخ میں ”ناممکن“ کو ممکن بنا دیا گیا۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کچھ نامعلوم قوتوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے تو آئینی ترمیم کو قبولیت کا درجہ دلانے میں مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو زرداری کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آئینی ترمیم کی منظوری میں نواز شریف کا کردار تو تھا۔ ہی لیکن سینیٹر محمد اسحٰق ڈار اور محسن نقوی نے بھی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالا۔

غروب آفتاب کے بعد آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے پارلیمنٹ بیٹھی اور طلوع آفتاب سے قبل اس عمل کو مکمل کر لیا، صدر آصف علی زرداری نے بھی آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے ”ناشتے“ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ سورج طلوع ہونے سے قبل ہی انہوں نے آئینی ترمیم کی توثیق کے لئے ایوان صدر میں میز سجا رکھی شاید انہوں نے بھی ”رت جگا“ کیا آئینی ترمیم کی توثیق کے بعد یہ خود بخود آئین کا حصہ بن گئی اسی روز نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لئے 12 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی جس نے اسی رات دو تہائی اکثریت سے جسٹس یحییٰ آفریدی کو نیا چیف جسٹس بنانے کی منظوری دے دی اگرچہ حکومت نے نئے چیف جسٹس کی تقرری اتفاق رائے سے عمل میں لانے کی کو شش کی لیکن پی ٹی آئی نے کمیٹی کے لئے اپنے تین نام دینے کے باوجود کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں ایک رکن نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے حق میں ووٹ نہیں دیا کمیٹی کے ارکان نے ووٹنگ کو ظاہر نہ کرنے کا حلف اٹھایا ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام نے اپنا ووٹ حکومتی امیدوار کے حق میں نہیں ڈالا۔

حکومت کو اس آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے کئی دریا عبور کرنا پڑے آئینی ترمیم کا ابتدائی مسودہ 56 شقوں پر مشتمل تھا لیکن منظوری کے مراحل طے کرتے وقت یہ 22 شقوں تک رہ گیا مولانا فضل الرحمنٰ نے سیاسی سودے بازی کر کے اسلامائزیشن سے متعلق اپنی الگ 5 شقیں بھی منظور کرا لیں بلاول بھٹو زرداری نے جس طرح بھاگ دوڑ کی اس پر ان کی تعریف کرنا بنتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے تمام تر دباؤ کے باوجود حکومت کو تگنی کا ناچ نچایا انہوں نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر جہاں حکومت کا ایک بڑی مشکل صورت حال سے نکال لیا وہاں اسلامائزیشن میں اہم پیش رفت کو آئین کا حصہ بنوا کر جہاں اپنی عاقبت سنوار لی وہاں اپنی فیس سیونگ بھی کر لی سارا میلہ مولانا فضل الرحمن نے لوٹ لیا۔

جہاں حکومت مولانا فضل الرحمنٰ کے سامنے بچھی جا رہی ہے۔ وہاں اپوزیشن (پی ٹی آئی ) بھی مولانا فضل الرحمنٰ کی معترف نظر آتی ہے کہ انہوں نے کالے سانپ کے زہر کو ختم کر دیا ہے۔ بظاہر پی ٹی آئی نے اس آئینی ترمیم کی مخالفت میں علامتی طور پر ووٹ ڈال کر اس کی متفقہ منظوری نہیں ہونے دی۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے 8 ارکان قومی اسمبلی اور 5 ارکان سینٹ نے آئینی ترمیم کی منظوری دے دی لیکن کسی جماعت کے ارکان کی غیر حاضری کی صورت میں چیمبرز میں ”منحرفین“ کی خاصی تعداد موجود تھی۔ ان میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 11 ارکان پارلیمنٹ بظاہر روپوش ہو گئے تھے۔ پارلیمنٹ میں صرف ان ہی ارکان سے ووٹ ڈلوائے گئے۔

اگر یہ ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوجاتی تو پی ٹی آئی اور بی این پی کے منحرفین بے نقاب نہیں ہوتے پارٹی پالیسی سے اختلاف کرنے والے اور در پردہ آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل کے دوران پارٹی کی قیادت سے رابطے منقطع کرنے والے ارکان شوکاز نوٹسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ بظاہر پی ٹی آئی کی قیادت مولانا فضل الرحمٰن کے کردار کو سراہا رہی ہے لیکن اس کے میڈیا سیل نے مولانا فضل الرحمٰن کی ٹرولنگ شروع کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کی حالت فارسی زبان کی اس کہاوت ”نیمے درون، نیمے برون“ جیسی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی نے تین سینئر ججوں کے پینل میں تیسرے نمبر پر جج کے سر پر سربراہی کا تاج سجا دیا اس طرح سینئر ترین جج کی بطور چیف جسٹس تقرری کے عمل کو 26 ویں آئینی ترمیم کے تابع کر دیا گیا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی ایک غیر متنازعہ اور غیر سیاسی جج کی شہرت رکھتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے قانونی دماغ حامد علی خان کے گروپ نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک طرف چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کا روز ”یوم نجات“ کے طور پر منایا دوسری طرف نئے چیف جسٹس کی تقرری پر چیں بہ جبیں ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ بار، سندھ بار، لاہور بار سمیت وکلاء کے تمام قابل ذکر فورمز نے یحییٰ آفریدی کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔ حامد علی خان گروپ کی طرف سے جسٹس یحییٰ آفریدی پر چیف جسٹس کا حلف نہ اٹھانے کے لئے دباؤ ڈالا گیا لیکن وہ اس دباؤ کے سامنے ڈٹ گئے اور ملک کے 30 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

بدقسمتی سے پچھلے چند سالوں سے اعلیٰ عدلیہ نہ صرف منقسم ہو گئی بلکہ چیف جسٹس افتخار چوہدری سے لے کر چیف جسٹس فائز عیسیٰ تک اعلیٰ عدلیہ کے اندر گروپ بندی نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نہ صرف پارلیمنٹ پر حاوی ہو گئی تھی۔ منتخب وزرائے اعظم کو گھر اور جیل بھجوانے کا ”ٹھیکہ“ لے لیا تھا۔ پارلیمنٹ نے 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کے سلسلے میں با اختیار بننے کی کوشش کی تو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے 18 ویں ترمیم کو اڑا دینے کی دھمکی دے کر 19 ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ سے اختیار واپس لے لیا۔ 10 اپریل 2022 ء کو عمران خان کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد تو سپریم کورٹ سیاست میں ایسی الجھی کہ اس نے اپنے غیر جانبدار کردار کو مجروح کر دیا۔

پی ٹی آئی چیف جسٹس فائز عیسیٰ سے بوجوہ ناراض تھی کیونکہ ان کو ”بندیالی کورٹ“ سے جو ریلیف مل رہا تھا۔ وہ ”قاضی کورٹ“ سے نہ مل سکا موجودہ حکومت قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے لئے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی مدت 68 سال مقرر کرنا چاہتی تھی لیکن مولانا فضل الرحمنٰ نے نہ صرف حکومتی مسودہ آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا بلکہ اسے آئینی عدالت کے قیام کی تجویز سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ آئینی بنچ بنانے کی حمایت کو اپنے مطالبات ماننے سے مشروط کر دیا۔ حکومت چیف جسٹس فائز عیسیٰ کو مزید تین سال کے لئے اسی منصب پر فائز دیکھنا چاہتی تھی جب اپوزیشن (جے یو آئی ) نے ان کی ایکسٹینشن کی مخالفت کر دی تو حکومت بھی پسپائی پر مجبور ہو گئی۔ مولانا فضل الرحمن کے دباؤ پر 56 نکاتی ترمیم 22 نکاتی رہ گئی حکومت کو کڑوا گھونٹ پی کر دیگر شقوں سے دستبردار ہونا پڑا۔

ملک میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان تصادم نے کئی ججوں کو متنازعہ بنا دیا تھا جسٹس منصور علی شاہ اسی لڑائی کی وجہ سے چیف جسٹس بنتے بنتے رہ گئے عدلیہ نے پارلیمنٹ کو اس حد تک زچ کر دیا کہ سہمی ہوئی پارلیمنٹ اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اپنی بالا دستی قائم کر دی اور بڑی حد تک عدلیہ پر حاوی بھی ہو گئی ہے۔ نئے سیٹ اپ میں مسلم لیگ (ن) کافی ریلیف محسوس کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرائے جانے کا فوری خطرہ ٹل گیا ہے۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی ضمانت پر رہائی کے بارے میں بازار سیاست میں طرح طرح کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ ممکن ہے۔ عمران خان فارم 47 کی حکومت کو قبول کر لیں اور ان کی رہائی کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں۔

Facebook Comments HS