یہ کار محبت ہے، یہ ہوتا ہی رہے گا


کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ کوئی شخص آپ کو بعد میں کہیں جاکر ملا ہو مگر پہلے سے اس کی محبت آپ کے دل میں ڈال دی گئی ہو، اور یوں لگے جیسے ہم تو ازل سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ کسی اور کے ساتھ ایسا ہوا ہو، نہ ہوا ہو، میرے ساتھ ہو چکا۔ میں لائلپور کی زرعی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا اور گاہے گاہے لاہور گھوم آتا تھا۔ وہیں لاہور کی کسی ادبی نشست میں آفتاب حسین اور امجد طفیل کے ساتھ ضیاء الحسن کو دیکھا اور ابتدائی تعارف ہوا تھا۔ آفتاب حسین کا شعری مجموعہ ’طلوع‘ ، امجد طفیل کے افسانوں کا مجموعہ ’مچھلیاں شکار کرتی ہیں‘ اور خود ضیاء الحسن کی غزلیات کا مجموعہ ’بارِ مسلسل‘ بہت بعد میں شائع ہوئے تھے۔ تو یوں ہے کہ ضیاء الحسن وہ شخص ہیں جن کی محبت کا بیج میرے دل کی وتر والی زرخیز زمین میں پہلے سے دستِ غیب نے کاشت کر دِیا تھا۔ پہلی بار وہ ملے اور کچھ ایسی محبت بھری ادا سے ملے کہ دِل کی زمین سے بیخچہ اور راس جنین نکالتا بیج، رسیلے اور خوش رنگ اثمار سے لدے پھندے ہرے بھرے شجر سا میرے سامنے آ موجود ہوا تھا۔ سو، یوں ہے کہ تب سے اب تک وہ میرے سامنے ہی ہیں۔ وہ بھی اور اُن کا کام بھی جو اُن کی توقیر میں اضافہ اور میری محبت اور اعتراف کو جواز بخشتا رہا ہے۔

ضیاء الحسن پہلے سے شعر کہہ رہے تھے اور سب اُن کی طرف متوجہ بھی تھے مگر ان کی غزلیات کا پہلا مجموعہ ’بارِ مسلسل‘ 1996 ء میں شائع ہوا تھا۔ مجھے وہ ملا، تو میں نے یونہی اسے کھول لیا اور جو صفحہ میرے سامنے تھا، اس پر ایک ایسی غزل میرا استقبال کر رہی تھی جسے پڑھ کر مجھ پر کھُلا تھا کہ وہ شوق میں، یا شاعر کہلوانے کو شعر نہیں کہتے، شاعری کے ذریعے اپنے وجود کی کنہ میں اترنا اُن کا مسئلہ ہے۔ اس کتاب کی وہ غزل جو سب سے پہلے پڑھی وہ میری محبوب ترین غزلوں میں سے ایک ہو گئی۔

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں
یہ زیست ہے تو زیست کا مفہوم کچھ نہیں
منظر حجاب اور ہی کچھ منظروں کے ہیں
معلوم ہم کو یہ ہے کہ معلوم کچھ نہیں
خواب و خیال سمجھیں تو موجود ہے جہاں
کچھ بھی سوائے نقطہ موہوم کچھ نہیں
حرف و بیاں نظارے ستارے دل و نظر
ہر شے میں انتشار ہے منظوم کچھ نہیں
جو مل گیا ہے، جس کی ہمیں آرزو رہی
اور جس سے خود کو رکھا ہے محروم کچھ نہیں
جس کے بغیر جی نہیں سکتے تھے جیتے ہیں
پس طے ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیں

موجود کو خواب و خیال کی سطح پر پٹخ دینے اور اسے سوائے نقطہ موہوم کے کچھ نہ سمجھ کر بھی اس کی معنویت کو نچوڑ لینے کی تاہنگ رکھنے والے ضیاء الحسن کے شعر کے باطن میں بے شک پیچیدہ، گہرے اور انسانی حیات سے جڑے ہوئے مضامین ہوتے ہیں مگر وہ شعری متن میں جس قرینے سے رکھے ہوتے ہیں وہ ایک لسانی آہنگ میں ڈھل کر ہم تک پہنچتے ہیں ؛ کہہ لیجیے شعر کی ساری تہوں، پرتوں کے اندر جذب ہو کر۔ کچھ معروف ہو جانے والے شاعروں کے ہاں ہم نے دیکھ رکھا ہے کہ ان کا لہجہ ہی ان کے شعر کی شناخت بنتا ہے ؛ شعر کھولیں اور معنی کریدیں تو ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ بیشتر نئے شاعروں کے ہاں عصری سانحات اور مباحث کی گونج زیادہ ہوتی ہے۔ لسانی سطح پر بلند آہنگ اور بولتے ہوئے اشعار کے سبب وہ فوری توجہ ضرور پاتے ہیں مگر ان کا کل کلام اٹھا کر دیکھیں تو مجموعی فکر میں سو طرح کے تضادات نکل آتے ہیں۔ ضیاء الحسن کی غزل ان عیوب سے پاک ہے۔ ان کے پاس اپنا لہجہ ہے اور ایسا فکری دھارا اور عصری شعور بھی جس میں ان کا ورلڈ ویو جذب ہونے کے بعد نتھر کر اور نکھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ توفیقات کا ایسا علاقہ ہے جو کم کم لکھنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ پھر ایسا بھی ہے کہ ان کا شعر حد درجہ رواں ہوتا ہے اور پڑھنے میں سہل لگتا ہے مگر غور کریں تو اس کا معنیاتی علاقہ پھیلتا چلا جاتا ہے، یوں جیسے آپ جھیل کے ٹھہرے پانی پر انگلی کی پور رکھیں تو دائرے بنتے اور دور تک پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ ایسا ان کی چھوٹی بحر والی غزلوں میں کچھ زیادہ ہوتا ہے جو ان کے ہاں نسبتاً زیادہ ہیں۔ وہاں ایسے اشعار تواتر سے ملیں گے جو سہل ممتنع کی مثال ہو گئے ہیں :

سمجھ کس کے آیا ہے
جسے سب نے سمجھا ہے
نہ دیکھیں تو کیا ہے یاں
جو دیکھیں تو کیا کیا ہے

یا پھر ایک اور غزل کے یہ اشعار دیکھیے :

میں بھی تجھ کو دیکھ سکوں
پردے سے تو باہر آ
ساری رونق دل میں ہے
باہر کیا ہے اندر آ

’بار مسلسل‘ مجموعے کا نام ایسا ہے کہ ایک کیفیت میں لے جاتا ہے ؛ اُس کیفیت میں جو غزلیات کے اس مجموعے کا عمومی مزاج ہو کر سامنے آتی ہے۔ ’بار مسلسل‘ میں کوئی نظم نہیں ہے مگر ضیاء کے دوسرے مجموعے کا نام بھی عجیب ہے اور اس میں غزلوں کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی ہیں۔ جب مجھے یہ کتاب ملی تو اس کا نام پڑھ کر میں چونکا تھا۔ نام تھا ’آدھی بھوک اور پوری گالیاں‘ ؛شاعری کی کتاب کا ایسا نام، اور وہ بھی ضیاء الحسن جیسے میٹھے اور گہرے شاعر کی کتاب کا ؛ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ سچ پوچھیں تو پہلے میں ایک صدمے سے گزرا تھا مگر کتاب کھول لی اور غزلوں کے حصے سے گزرا اور لطف لیتا رہا۔ :

سانس لینے کو کوئی جا ہے ہی نہیں
زندگی سے کوئی گلہ ہے ہی نہیں

اور۔

لکھ رہی ہے زیست تحریرِ ثبات
اور زبانی کہہ رہی ہے رائگاں

اس کتاب کی تخلیقات کے چار حصے ہیں۔ پہلا ’رنج رائگانی‘ غزلیات پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ ’وجود‘ ؛ جس میں وجود سے مکالمہ کرتی نظمیں ہیں اور تیسرا بھی نظموں مشتمل ہے ؛ ’عبدالکریم نامہ‘ ۔ چوتھا حصہ دیگر نظموں کا ہے ؛ ہر حصے کو الگ الگ پڑھنے کا اپنا لطف ہے مگر میں ’عبدالکریم نامہ‘ پر رُکا تو دیر تک رُکا رہا۔ ایک عنوان تلے کئی نظمیں ؛ یا پھر کہہ لیجیے تیرہ نظموں کا گچھا جو ایک نظم ہو گیا تھا۔ میں پڑھتا چلا گیا، پلٹ پلٹ کر پڑھتا رہا۔ وہ آزردگی اور طیش جس نے شاعر سے اسی حصے کی ایک لائن سے کتاب کا یہ چبھتا ہوا نام رکھوا لیا تھا، مجھ پر چڑھ دوڑا تھا۔ عبدالکریم کا کردار ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس گوں کے اشخاص سے مل کر یہ قوم بنتی ہے ؛ بھوکی اور ننگی قوم۔ جس کی عزت نفس کو قدم قدم پر کچلا جاتا ہے۔ عبدالکریم جیسے لوگ گندم کاشت کرتے اور بھوک برداشت کرتے ہیں ؛ کپاس پیدا کرتے اور ننگے جیتے اور مرتے ہیں۔

’عبدالکریم!
تم گندم اگاتے ہو
پالتے ہو تم اسے اپنے خون سے
بیوی کا زیور بیچ کر
اور بچوں کی بھوک سے
کاٹتے ہو تپتی دوپہروں میں
اور کھاتے ہو نوالے گن گن کر
کھاتے ہو ادھوری بھوک اور گالیاں ’

نظم چلتی رہتی ہے، عنوان بدل بدل کر اور پڑھنے والے دُکھ کے چرکے سہتے اور خون کے آنسو روتے آگے بڑھتے ہیں۔ عبدالکریم کے بچوں کو بھوک لگتی ہے اور وہ پوچھتا ہے ’جنرل صاحب! میرے بچے کیا کھائیں گے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل؟ غیر جانبدار اور شفاف احتساب۔ یا قومی یکجہتی؟‘ نظم تلخ سے تلخ تر ہوتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ پڑھنے والے ’اخ تھو‘ ، ’اخ تھو‘ کرتے اس نظام پر تھوک دیتے ہیں، بالکل وہاں جہاں عبد الکریم کا بچہ مر جاتا ہے اور وہ درانتی اٹھا لیتا ہے اور کھیت کو دِیا سلائی دِکھا دیتا ہے۔

ایک شاعر کی حیثیت سے ضیاء کی شناخت ان کے تنقیدی کام کے سبب کچھ دب گئی تھی کہ اس عرصے میں انہوں نے شاعری اور فکشن پر کئی مضامین لکھے جو کتابی صورت میں سامنے آئے اور اس باب میں ان کی شناخت کو مستحکم کر گئے۔ شعر سنانے اور خود کو شاعر ثابت کرنے کے لیے مشاعرے پڑھنے کو ہمہ وقت تیار رہنے والوں میں سے وہ نہ تھے۔ کانفرنسوں اور ادبی میلوں میں جہاں انہیں دیکھا بطور ناقد گفتگو کرتے پایا مگر جب ان کی شاعری کا تیسرا مجموعہ ’ازل سے‘ آیا تو سب نے جھرجھری لے کر انہیں ایک شاعر کے طور پر دیکھا۔ اب ادبی حلقے بھی پھر سے ایک شاعر کی طرف متوجہ تھے۔ :

یہ کارِ محبت ہے، یہ ہوتا ہی رہے گا
اک بار کیا ہے تو دوبارہ بھی کریں گے

ضیاء الحسن محض شاعر یا نقاد نہیں ہیں ؛ وہ اپنی دانش کی سطح پر اپنے تہذیبی علمی اثاثے سے جڑے ہوئے بہت قیمتی شخص ہیں۔ وہ اپنی زمین سے اُچٹے ہوئے اور اپنی ادبی روایات سے کٹے ہوئے جتھوں سے بہت فاصلے پر رہ کر اپنی بات کہتے سنائی دیتے ہیں۔ ادب کی تخلیق اور تنقید کو کار محبت گرداننے والے ضیاء الحسن کے پاس اپنا ورلڈ ویو ہے، اپنی سوچ اور اپنا قبلہ ہے۔ کہہ لیجیے ان کے وجود کا ایک آہنگ ہے جو ان کی تخلیقات میں بھی جھلک دے جاتا ہے۔ یہ ورلڈ ویو ایسا پارس ہے جوان کے ہاں تخلیقی لمحوں میں لفظوں کو چھوتا ہے تو وہ سونے کے سے فن پارے ہو جاتے ہیں ؛ محض شعر یا کوئی مضمون نہیں ؛ اس سے کہیں زیادہ۔ یہی خاص ادا ان کی شاعری اور تنقید کو منفرد اور بامعنی بناتی ہے۔

جتنا نظر آتا ہوں میں کچھ اِس سے سوا ہوں
موجود میں اک رنگ ہے امکانی زیادہ

(الحمد اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے زیر اہتمام ڈاکٹر ضیاء الحسن کی علمی ادبی خدمات کے اعتراف میں منعقدہ تقریب مورخہ 27 اکتوبر 2024 ء میں پڑھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS