ڈھاکہ والا گھر اور بھٹو صاحب
ایک کالم (نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟ ) جو ”ہم سب“ پر 06 اکتوبر 2024 کو شائع ہوا، میں نے اپنے مرحوم والد کے ڈھاکہ والے گھر کی بات قلمبند کی تھی۔ کچھ نے پوچھا، ”اب کون رہتا ہے؟“ میں نے کہا، ”مجھے کیا معلوم؟ میں نے تو پتا بھی پوچھ پوچھ کر لکھا تھا۔“ یہ دنیا ایک سرائے ہی تو ہے۔ اس گھر پر اب پروفیسر نظیر صدیقی کا نام نہیں لکھا ہوا ہے، جن کی وجہ سے کبھی ڈھاکہ پہچانا بھی گیا تھا۔ وہ اردو اور انگریزی زبانوں / ادب کے لکھاری تھے اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے پڑھے تھے۔ ان کی نیم پلیٹ وہاں نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنی بیوی اور دو بیٹوں کے ساتھ 22 دسمبر 1969 کو ہی مغربی پاکستان آ گئے تھے۔ انہوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا تھا، اور ان کے خیر خواہ بنگالی بزرگ، گاندھی جی کے پرسنل سیکرٹری محمود قاضی صاحب، نے بھی ممکنہ قتل و غارت کا عندیہ دیا تھا۔ پھر ایک دن، ان کے گھر کی سیڑھیوں تک ایک نوجوان لڑکوں کا جتھا آ گیا تھا۔ امی بتاتی ہیں کہ وہ بنگالی زبان بھی روانی سے بول سکتی تھیں، اور اسی دن فرید پور کی ہماری بنگالن بوا بھی شاید ہماری جان بچانے کا وسیلہ بھی بن گئیں۔ ہر ایک اجنبی سے پوچھیں جو اپنے گھر کا پتہ جانتا تھا۔
میں نے اس کالم میں ڈھاکہ کے محمّد پور کے اس گھر کا پتہ بھی لکھا۔ 69 /سی ایوب ایونیو، نزد ایوب گیٹ سے اسد ایونیو، نزد اسد گیٹ ہونے تک کی کہانی پاکستان سے غیر مشروط اور بے لوث محبّت کرنے والی مشرقی پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والی، بسنے والی، بہاری کمیونٹی کی بربادی سے بنی گئی ہے۔ محب وطن پاکستانی بہاریوں کے دکھوں اور دھوکوں پر ان افراد اور طبقات کی خاموشی اور بے حسی کا رونا میں بارہا رو چکی ہوں، جن کی پاکستان میں سنی جاتی ہے یا اگر وہ کچھ سنائیں تو اس سے ان کو خسارہ نہیں ہو گا۔ تاہم اس المناک باب کے حوالے سے سنجیدہ مکالمے کا آغاز ہو سکتا تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان میں سیاسی، سول اور ملٹری بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ ایلیٹ فیمینسٹ اور انسانی حقوق کے چیمپیئنز، میڈیا اور کئی ایوارڈ یافتہ، ارباب اختیار کے قریبی ایکٹیوسٹ صحافی بھی شامل ہیں۔
مگر میں ناسمجھی کے لینس سے دیکھتی ہوں حالانکہ جانتی ہوں کہ یہاں صرف کاروبار ہوتا ہے۔ منفعت کی کیلکولیشن ہوتی ہے۔ ”ندائے غیب“ سے بیانیے نازل ہوتے ہیں اور اس تمام قصّے میں مقہور اور مجبور بہاریوں کی خاص طور پر ان تین سے چار لاکھ مظلومین کی کوئی جگہ نہیں ہے جن کو محصورین بھی کہا جاتا ہے۔ جن کے بزرگوں سے پاکستان سے محبّت کے جرم میں پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے ان کو پاکستانی شہریت سے محروم کیا اور ہمارے انسانی حقوق کے ٹھیکے دار خاموش رہے۔ سولہ دسمبر انیس سو اکہتر سے باقاعدہ اجڑنے والوں کی چار بے شناخت نسلوں کی دلخراش داستانوں میں، بنگلہ دیش میں کیمپ نما اذیت خانوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے والوں میں، کوئی بھی تو دلچسپی نہیں رکھتا۔ بدنصیبی میں بھی بدنصیب ترین ہیں۔ فلسطین، لبنان، افغانستان اور بلوچستان کی کم از کام بات تو ہوتی ہے۔ وہ بہاری تو نہ ہی نیوز میکر ہیں نہ ہی نیوز ورتھی نہ ہی نام نہاد امّت مسلمہ کا مسئلہ نہ ہی ٹائم میگزین یا اس جیسے طاقتور اداروں کی دلچسپی کا محور نہ ہی کسی معتبر، بے باک، پاکستانی صحافی کی ضرورت۔ اس لئے کوئی مائک کوئی کیمرہ کوئی اینکر کوئی سوشل میڈیا ستارہ یہاں سے وہاں نہیں گیا۔
میں شکریہ ادا کرنا چاہوں گی ”ہم سب“ اور ان گنے چنے ڈیجیٹل فورمز کا جنہوں نے بہاریوں کے حوالے سے میرے ماتم اور ذہنی تلاطم کو بلاگز اور کالمز کے ذریعے تسلیم کیا۔
آج میں اس گھر کے حوالے سے ایک تاریخی بات ریکارڈ پر لانا چاہوں گی جو شاید قارئین کے لیے دلچسپ ہو۔ عبدالمنعم خان ایک معروف بنگالی سیاستدان تھے اور مشرقی پاکستان کے طویل ترین عرصے گورنر رہے۔ انہوں نے 1962 سے 1969 تک یہ عہدہ سنبھالا، جو اس خطے کے لیے سیاسی طور پر ہنگامہ خیز وقت تھا۔ بدقسمتی سے، انہیں 13 اکتوبر 1971 کو ”بنگلہ دیش کی آزادی“ کی جنگ کے دوران قتل کر دیا گیا، ان کی موت اس تنازعہ کے ساتھ آنے والے وسیع پیمانے پر تشدد اور افراتفری کا حصہ تھی۔
ان کا ذکر اس لیے کیا کہ انہوں نے 15 فروری 1966 کو ذوالفقار علی بھٹو کے مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران ڈھاکہ میں دفعہ 144 نافذ کی۔ یہ اقدام اس وقت کی کشیدہ سیاسی صورتحال کے جواب میں کیا گیا، کیونکہ بہت سے لوگ مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور بھٹو صاحب کی موجودگی کے خلاف تھے۔ ان کے دورے کو مظاہروں اور مشرقی پاکستان کے لیے زیادہ خود مختاری کے مطالبات کے ساتھ نشان زد کیا گیا، اور حکومت کا دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ عوامی اجتماع اور مظاہروں پر کنٹرول کرنے کے لیے تھا۔
ہمارے محمد پور ڈھاکہ والے گھر کی نچلی منزل کو کرایہ دار تنظیم ”انجمن بحالی مہاجرین ( 1947 )“ استعمال کرتی تھی۔ بعد ازاں ابّو نے حبیب بینک کو کرائے پر گراؤنڈ فلور دے دیا تھا۔ تنظیم کی وساطت سے بھٹو صاحب کا جلسہ اس گھر میں ہوا، جس میں تقریباً دو ڈھائی سو افراد شریک ہوئے۔ مرحوم ابّو جان نے مشاعرے کے لیے ایک کمرہ بنایا تھا جو اس مقصد کے لیے کام آیا۔ میری امی جو حیات ہیں بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک ٹرے پر اپنی بنگالی بوا کے ہاتھوں بھٹو صاحب کے لیے چائے بھجوائی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا اس میزبانی کی کوئی رقم ادا کی گئی تھی جس پر نہ صرف انھوں نے انکار میں سر ہلایا بلکہ مجھے انتہائی غصے سے بھی دیکھا۔ اس وقت کی اقدار کچھ اور تھیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سرکاری طور پر ہم لوگ نہیں بلکہ ہمارے کرایہ دار اس جلسے کے میزبان تھے۔ والدہ کو آج بھی بھٹو صاحب کا سائیکل رکشہ پر بیٹھ کر اس گھر میں آنا یاد ہے، اور یہ بھی کہ جب جلسے میں کسی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ ہندوستان کے مصیبت زدہ مسلمانوں کے لیے بھی کچھ کریں گے، تو بھٹو صاحب نے بلا جھجک فوراً جواب دیا کہ وہ صرف مغربی پاکستان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
رہے نام اللہ کا
سب تاج اُچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو


