کلیات جمال احسانی پر ایک مطالعہ
جمال احسانی اردو ادب کے ایک اہم شاعر ہیں جنہوں نے جدیدیت کے رجحانات کو اپنایا اور اپنی شاعری میں زندگی کے گہرے تجربات اور جذبات کی عکاسی کی۔ ان کی شاعری میں جو گہرائی اور نیا پن ہے وہ انہیں اردو ادب میں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے جمال احسانی 21 اپریل 1951 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ تقریباً بیس سال کا عرصہ انہوں نے سرگودھا میں گزارا۔ پھر سرگودھا چھوڑ کر کراچی چلے آئے۔ انہیں تمام عمر معاشی ناہمواری کا سامنا رہا اور ساتھ اپنا ذاتی گھر نہ ہونے کا مسئلہ بھی شامل تھا ان سب مشکلات کے باوجود انہوں نے شاعری نہیں چھوڑی البتہ چھوڑ دینے کا ارادہ ضرور کیا لیکن ناکام رہے ان کا شعری سفر تین مجموعوں پر مشتمل ہے ان کے دو مجموعے ستارہ سفر اور رات کے جاگے ہوئے ان کی زندگی میں شائع ہوئے اور تیسرا مجموعہ تارے کو مہتاب کیا ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا۔
2008 میں ان کی کلیات شائع ہوئی۔ جمال احسانی ایسے شاعر ہیں جنہوں نے اپنی عمدہ شاعری کی بدولت ہمیشہ قارئین کی توجہ حاصل کی اور آج بھی ان کی غزلیں مشاعروں اور ادبی محفلوں میں داد حاصل کرتی ہیں انہیں شاعری سے بہت زیادہ محبت تھی اور ان کی منفرد شاعری کی وجہ سے انہیں منتخب شعراء میں شامل کر دیا گیا ہے انہوں نے شاعری کیسے شروع کی ان کی زبانی سنتے ہیں
* میں نے شاعری نہ تو پڑھ کر شروع کی اور نہ سن کر یہ دونوں تو مجھے بِن مانگے ملی ہے یہ خزانہ مجھے کسی نقشے سے نہیں بلکہ لغزش پا سے ملا ہے۔ میں نے شاعری اور زندگی کا کوئی اصول نہیں بنایا الغرض میں جو کچھ بھی ہوں اور جیسا بھی ہوں اپنے اپ سے مطمئن ہوں اور اسی نہ اطمینانی کا محاصل میری زندگی اور شاعری ہے *
ان کو اصول سے نفرت رہی وہ اصول کو قید سمجھتے تھے یہ بات ہمیں ان کی شاعری سے بھی ملتی ہے ان کی شاعری میں جو حساسیت، محرومی، پچھتاوا اور تھکن نظر اتی ہے یہ ان کی ذاتی زندگی کے حالات کی دین ہے ان کی شاعری میں جدیدیت اور انفرادیت فطرت اور کائنات سے تعلق وقت اور تنہائی کا احساس علامتی اور استعاراتی انداز ملتا ہے اور ان کا اسلوب بہت سادہ ہے بہت سادہ الفاظ سے گہری بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی شاعری میں زبان کی روانی اور خوبصورتی نمایاں نظر آتی ہے
اگر ہم ان کی کلیات کا مطالعہ کریں تو ان کی شاعری میں ستارہ، چراغ، رات، سفر، مہتاب، صحرا ایسے استعارے ہیں جو بار بار استعمال ہوئے ہیں انہوں نے چراغ کے اس استعارے کو بہت منفرد اور خوبصورت انداز میں اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے
شعر
چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
یہ سانحہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
ابھی تو رات بہت دیر تک رہے گی یہاں
چراغ راہ کے بجھنے کے ڈر سے یاد آیا
آگاہ میں چراغ جلاتے ہی ہو گیا
دنیا میرے حساب سے بڑھ کر خراب ہے
ان کی شاعری میں فطرت کا ذکر بہت ملتا ہے جمال احسانی نے فطرت کو بطور علامت استعمال کرتے ہوئے زندگی کی گہرائیوں اور انسانی جذبات کی عکاسی کی ہے ان کی شاعری میں کبھی بارش، کبھی رات اور کبھی موسم کا ذکر کیفیتوں کو ظاہر کرتا ہے ان کی کلیات پر یکجا تینوں مجموعوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کے نام سے ہمیں رات کی اہمیت نظر آتی ہے جو تینوں مجموعوں میں استعمال ہوئی آخری مجموعہ انہوں نے واقعی ہی جا کر مرتب کیا کچھ اپنی بیماری کی تکلیف کی بنا پر اور کچھ جاگنے کی عادت کی وجہ سے وہ ان دنوں سوئے بھی کم تھے اور عمر کے آخری ایام تک شعر لکھتے رہے جمال احسانی کی شاعری کو ان کے اشعار کی روشنی میں سمجھنا زیادہ موثر ثابت ہو گا
چند اشعار کے ساتھ۔
عادت شب بیداری بڑھتی جاتی ہے
جب سے گریہ و زاری بڑھتی ہے
دریا تھا چاند رات تھی اور اس کا ساتھ
لیکن میں ایک اور ہی منظر سے خوش ہوا
اُس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کر دیکھا نہیں
بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی۔
جمال احسانی نے پینتیس برس گھر میں گزرے جو ان کا اپنا ذاتی گھر نہیں تھا ان کو گھر کے حوالے سے ہمیشہ تنگی کا سامنا رہا۔ گھر نہ ہونے کی وجہ سے ان کو جن حالات کا اور تجربات سے پالا پڑا وہ ان کا ذکر اپنی شاعری میں کرتے ہیں۔
شعر
سبزہ خاک سے عالم کو نوازا لیکن
باغ ہے جو نہ بیابان وہ گھر مجھ کو دیا
ہم ایسے بے گھروں کو ہے درپیش ان دنوں
اک اور مسئلہ ترے قرار سے الگ
یہ بات بُری ہے مگر آباد گھروں سے
ہم خانہ خرابوں کی طبیعت نہیں ملتی
زرا سی بات پہ دل سے بگاڑ آیا ہوں
بنا بنایا ہوا گھر اُجاڑ آیا ہوں
ان کو اپنا شہر سرگودھا جہاں انہوں نے جنم لیا بہت زیادہ محبت تھی وہ اسی شہر کا شاعری میں اظہار کرتے ہیں وہ جب بھی لاہور آتے تو سرگودھا ضرور جاتے لیکن وہاں کے لوگوں سے مل کر وہ جو تجربہ حاصل کرتے ہیں واپس آتے ہوئے کس کیفیت کو محسوس کرتے ہیں وہ ہم ان کے اشعار پڑھ کے محسوس کر سکتے ہیں
شعر
جمال ہر شہر سے ہے وہ شہر پیارا مجھ کو
جہاں سے دیکھا تھا پہلی بار آسمان میں نے
اُس رستے میں پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے
جمال احسانی کے ہاں محبت کا منفرد انداز ملتا ہے انہوں نے محبت کرنے والوں کو نیا راستہ دکھایا ہے اور وہ محبت میں یاد رکھنے نہ صرف بھول جانا بھی محبت سمجھتے تھے محبت میں سراپا نگاری کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہیں
شعر
یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
اپنی آنکھیں ترے چہرے پہ لگا کر دیکھوں
اور پھر اپنا بکھرتا ہوا منظر دیکھوں
نیا شریک سفر چاہتیں جتاتا رہا
جمال پچھلی محبت کی یاد آتی رہی
ان کی شاعری میں وقت کا گزرنا اور اس کے ساتھ زندگی کا بدلنا ایک اہم موضوع ہے ان کے ہاں شاعری میں وقت کی تیزی اور انسانی زندگی کی مختصر مدت کا گہرا اور تنہائی کا احساس پایا جاتا ہے جو انسان کے وجودی بحران کی علامت بن جاتا ہے
شعر
کبھی کبھار عجب وقت آن پڑتا ہے
نہ یاد پڑتا ہے کوئی نہ دھیان پڑتا ہے
اب اُس نے وقت نکالا ہے حال سننے کو
بیان کرنے کو جب کوئی داستان بھی نہیں
جمال اُس وقت کوئی مجھ سے بچھڑ رہا تھا
زمیں اور آسماں جب ایک ہو رہے تھے
جمال احسانی کی شاعری میں گہرائی اور حساسیت موجود ہے جو انہیں ایک منفرد شاعر بناتی ہے ان کا کلام جدید غزل کی خوبصورتی اور پیچیدگی کو پیش کرتا ہے جہاں وہ انسانی جذبات وقت کے جبر اور زندگی کی نا پائیداری کو انتہائی خوبصورت اور علامتی انداز میں بیان کرتے ہیں ان کی شاعری میں ایک عمیق اداسی اور تنہائی کا عنصر موجود ہے جو جدید انسان کے وجودی مسائل کی عکاسی کرتا ہے ان کے اشعار زندگی کے مختلف پہلوؤں کو علامتی انداز میں بیان کرتے ہیں اور وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور تجربات کس طرح دیکھتے ہیں ان کی شاعری اردو ادب کی جدید دور کی ایک کڑی ہے جس نے روایت سے ہٹ کر ایک نئی راہ متعین کی انہوں نے جو آخری شعر کہے جس میں انہوں نے دنیا سے رخصت ہونے کا اشارہ دے دیا تھا۔
شعر
تمام اسباب خاک و آب کو اب ڈھونڈنے والا ہے
تیرا مہماں چند لمحوں میں رخصت ہونے والا ہے
چراغ بجتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار
میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے
نہ کوئی فال نکالی نہ کوئی استخارہ کیا
بس ایک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا


