اپنے ہمزاد کے نام تین خطوط

” پہلا خط“
( 16 مئی 2019 )
کبھی کبھی آداب تسلیمات کا تکلف غیر ضروری لگتا ہے اس لیے سیدھا مدعا بیان کرتا ہوں۔
میں آسمان نہیں ہوں اور نہ ہی آسمان کی بلندیوں تک میری رسائی ہے مگر یہ گستاخ اجنبی خواہشات مجھ سے میرا چین چھین لینے کو بے قرار ہیں۔
میرا جی چاہتا ہے کہ آسمان پر بچھائی گئی دھنک کو قینچی سے کاٹ کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دوں، اور یہ ٹکڑے مسلسل سفر کرتے بادلوں کی طرح یہاں سے وہاں پھیل جائیں تاکہ زمین پر بسنے والا ہر شخص انہیں ایک ہی وقت میں باآسانی دیکھ سکے۔ ذرا سوچو کیا ہی اچھا ہو جو سب ایک ہی وقت میں ایک طرح کے نظارہ میں محو ہوں، مگر یہ اچھا نہیں ہو گا، شاید ایسا سوچنا بھی خلافِ فطرت ہو۔ لیکن سوچنا تو خلافِ فطرت نہیں۔ سوچنا تو عین فطرت ہے۔ شاید صرف بُرا سوچنا خلافِ فطرت ہو، مگر برائی کیا ہے؟ اِس بارے میں بھی ہر ایک کا اپنا عقیدہ، نظریہ اور قانون ہے، تو اِس لیے میں اِس بحث سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں۔
میرا جی چاہتا ہے کہ آسمان پر دکھائی دینے والے سب ستارے، سمندر کی تہ میں یکجا ہو جائیں، اور سمندر میں مدفون تمام فوسلز اور مچھلیاں، اس بڑے آسمان پر تاروں کی جگہ چمک اٹھیں، مگر میں پھر سے فطرت کی نفی کر رہا ہوں۔
آگے بڑھتا ہوں۔
پھر میرے اس بیکراں دل میں ایک اور خواہش پنپتی ہے۔ سرخ پیلے ہوتے سورج کو کینوس پر اتار کر پینٹ برش سے نیلے رنگ میں بدل دوں، شاید اس طرح سورج کی روشنی نیلی روشنی میں بدل جائے۔ مگر یہ بھی خلافِ فطرت ہے، یا کم از کم کہنے والے ایسا ضرور کہیں گے۔ خیر جو بھی ہو، سورج کا غرور تو جاتا رہے گا۔
میں سرمئی بادلوں کے دھویں سے ایک نیا موسم ایجاد کرنا چاہتا ہوں، جس کے آتے ہی آسمان، زمین پر پھیلتے دھویں کا تعفن نگل لے۔ یہ عین فطرت لگتا ہے، حالانکہ یہ بھی خلافِ فطرت ہے، لیکن جیسے لوہا، لوہے کو کاٹتا ہے، ویسے ہی دھواں، دھویں کا دشمن ہے۔ میرے جہان میں تو ایسا ہی ہے، آپ کی آپ جانیں۔
مگر میرے عزیز! میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟ بات آسمان اور خواہشات سے شروع ہوئی تھی اور پھر بات بے بات بڑھتی چلی گئی۔ اب بات کچھ یوں ہے کہ تم ٹھہرے میرے ہمزاد۔ عمر میں چھوٹے ہو نہ بڑے، اس لیے میرے معاملہ میں انصاف سے کام لو گے۔ مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں؟ کیا میں اِن خواہشات سے (جو قطعی اجنبی ہیں ) برطرف ہو جاؤں یا پھر ان خواہشوں کے پھریرے بہتی ہوا میں لہراتے دیکھتا رہوں؟
یہ خواہشات، میری سب سے بڑی دشمن ہیں۔ میرے خیال مجھے توڑ پھوڑ کر نگلنا چاہتے ہیں۔ زندگی، آدھے، ادھورے خواب کی طرح بے معنی ہے، ایسے میں یہ غل مچاتی خواہشات میرے جینے کے سفر میں رکاوٹ ہیں۔
میرے ہمزاد! میری عمر کے ستائیس برس تنہائی اور رائیگانی کی نذر ہوئے۔ اب تمہیں ڈھونڈتا ہوں تو تم ملنے میں نہیں آتے۔ میں تو ہر لحظہ اک نئے بحرِ بیکراں سے نبرد آزما ہوں۔ ممکن ہو تو تم آؤ اور آ کر میرا حوصلہ بڑھاؤ۔ مجھے ان بدسلیقہ خواہشات کے بھنور سے نکالو۔ میری ڈھارس بندھاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے اور میں زندگی کا جوا ہمیشہ کے لیے ہار جاؤں!
(ثمر محمد علی)
۔
” دوسرا خط“
( 14 جنوری 2020 )
جب بھی تم چیختے اور چِلاتے ہو، مجھے اپنی بے بسی اور لاچاری پر رونا آتا ہے۔ کیا بتاؤں میرا حال کیا ہے اور میں کتنی مشکل سے جیے جا رہا ہوں۔
میں ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا ہوں اور میرے ٹکڑوں سے جدا ہوتی راکھ، فضا میں تیرتی، لہراتی، گھڑی بھر کو ہوا میں معلق، اور پھر بکھرتی چلی جاتی ہے۔ ہوا کا زور ریزے اڑا اڑا کر، میرے وجود کو کسی ایک مقام پر موجود رہنے سے روکے ہوئے ہے۔ میں جی رہا ہوں اور شاید جیتا ہی رہوں گا لیکن میری ہڈیاں ٹوٹ کر مجھے سہارا دینا سے گریزاں ہیں۔ آنکھیں کسی بسمل کی طرح کٹ کر پھڑ پھڑا رہی ہیں۔ دل کو کسی کند خنجر سے چیر کر خراشیں کھینچ دی گئی ہیں جینے کے آثار مٹائے جا رہے ہیں۔ مگر دیکھو، میں پھر بھی زندہ ہوں۔ سانس برابر چل رہی ہے، دیکھنے کو نظر ساتھ ہے جو چہروں اور آئینوں کا فرق سمجھا سکتی ہے، اور میری ہڈیاں تمہارے ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔
اے اجنبی مگر میرے اپنے سن!
میں زندگی کے ایک ایسے موڑ پر ہوں جہاں میرے لیے کچھ بھی ناگہانی نہیں ہے۔ تاروں کو مکڑیاں بننے میں بھلا دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ ایک لا معلوم اسم میں حیرتوں اور استعجابات کے اَن دیکھے خزانوں کی گِرہ باندھ دی گئی ہے، مگر یہ کیسا اسم ہے؟ اور اِس میں کیسا طلسم ہے؟ مکڑیاں اگر چراغ نہیں بن سکتیں تو تارے بننا بھی حقیقت سے سوا ہے۔ بات کیسی فضول ہے لیکن ایسا سوچنا وحشت کے تقاضوں میں سے ایک ہے
مکڑیاں، جو وحشت کی علامت ہیں، جال بُن کر ستاروں کو قید کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں مگر وہ ایک غیر یقینی، لامتناہی خوف کے سبب ایسا کرنے اور ہونے سے کوسوں دور ہیں۔
تارے، جو روشنی کے فرزند ہیں، مسکراتے ہوئے اپنی چمکدار آنکھوں سے میری مجبوری اور خاموشی کا نظارہ، قسمت کی سنہری تختی پر محفوظ کرتے رہتے ہیں۔ میری زندگی الجھی ہوئی ہے، آدھے، ادھورے، اور کٹ کٹ کر گرتے خواب اور خوابوں میں مسمار ہوتے مزید خواب۔ بس یہی میری زندگی ہے!
اے میرے رفیق!
مجھے روشن صبحوں کی قسم، تُو جو میری ہر بات سنتا ہے، سمجھتا ہے، تیرا ہونا، میرے ہونے کے لیے ضروری ہے۔ جیسے زمین والوں کے لیے سورج ضروری ہے تاکہ وہ اندھیرے میں نہ ڈوب جائیں۔
میرے عزیز!
میں نے اِس بار تم سے تمہارا حال دریافت نہیں کیا۔ صرف اپنی کہی، اور کہی بھی وہ جو مصیبتوں کی رام لیلا ہے، اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم خود بھی اپنے بارے میں کچھ نہیں کہو گے، کیونکہ یہ آفات، یہ مصیبتیں، بہت پہلے تم پر بیت چکی ہیں۔ تم میرے ہمزاد بھی ہو اور میری وحشت کے پروردگار بھی!
تمہارا اصل
ثمر محمد علی
۔
” تیسرا خط“
( 25 مئی 2021 )
مجھ میں اور جینے کا حوصلہ باقی نہیں رہا۔ ضعیف خواب کی کرچیاں میرے دامن کی بجائے میری شہ رگ سے لپٹی ہیں اور میرا بدن لہو کی چادر میں چھپنے لگا ہے۔ میں بوسیدگی اور اندھیرے سے خوفزدہ نہیں اور نہ ہی میری آنکھیں نیلام ہونا چاہتی ہیں۔ میرا سینہ شکستہ ہے لیکن میری آرزوئیں سانس لینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکھ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور غم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ میرے پیکر میں دکھوں کی لازوال داستان سینچی گئی اور مجھے اس اذیت کے جہان میں زندہ رہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
سنو میرے رفیق! جینے کا حوصلہ پست ہوا چاہتا ہے۔ ناکامیوں کے خوف سے میری آنکھیں بوجھل ہیں۔ امید کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ موت مجھے پکار رہی ہے۔ اب مر جانا ہی بہتر ہے۔ زندہ رہنے میں تذلیل ہے۔ شاید تم کہو یہ بزدلی ہے، مگر میرے عزیز، زندگی کی نفی میں زندگی کی جیت ہے۔
ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ مجھے کس سمت جانا ہے اور موت (جو مسلسل مجھے پکار رہی ہے ) اُسے کیسے گلے لگانا ہے!
عزیزِ من! یہ زندگی جو مجھے ملی ہے، مجھ سے پوچھ کر تو نہیں دی گئی۔ کیا مجھ سے قدرت نے پوچھا کہ تجھے کیا چاہیے؟ شاید مجھے کچھ نہیں چاہیے تھا مگر سب کچھ زبردستی ودیعت کر دیا گیا۔ ہاں کچھ لمحے خوشیوں کے بھی میسر آئے لیکن یہ ایک بھونڈا مذاق تھا۔ میں نے اپنے لیے خود کیا چُنا؟ یہ غیر ضروری رہا۔ قدرت کا جب جی چاہا ایک ہنگامی اجلاس بلایا اور میری قسمت میں شکنوں کی لکیر کھینچ دی گئی۔
جنہیں پکارا جا سکتا تھا انہیں پکارا۔ سننے والوں کو صدا دی۔ کوئی آیا نہ کسی نے سنا۔ افسوس مجھے ٹھیک سے چِلانا بھی نہیں آتا۔
میرے پیارے! دکھ کی عبارت سب نہیں پڑھ پاتے۔ یہ ہنر سب کو نہیں آتا اور جنہیں آتا ہے ان کے اپنے تحفظات ہیں، اس لیے وہ بھی ہر بات بے ساختہ ہنسی میں ٹال جاتے ہیں۔ ہم مفادات کے دوزخ میں زندہ رہ رہے ہیں۔
ہماری پہچان ہمارے رشتوں سے نہیں، ہمارے امور کی نوعیت سے ہوتی ہے، لیکن تم یہ سب نہیں سمجھو گے۔ تم اب میرے دوست نہیں رہے۔ صرف میرا مزاح بنانا تمہارا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ میرے خیال کی نفی اور میرا تمسخر اڑانا تمہاری تفریح ہے۔
افسوس! میں کس قدر اکیلا پڑ گیا ہوں۔ کوئی سننے والا نہیں۔ میرا ہمزاد جو میرا تھا، اب میرا نہیں۔
اے کھو جانے والے! پلٹ آ۔ میری ڈوبتی سانسوں کو کنارہ دِکھا۔ زندگی کے بُجھتے سورج کا دھواں میری آنکھوں میں پھیل رہا ہے۔ اِس سے پہلے کہ میری آنکھیں پھٹ کر پارے کی طرح بہنے لگیں، مجھے بکھر جانے سے بچا لے، میری گمشدہ بینائی لوٹا دے، تاکہ زندگی بھر زندہ رہنے کے لیے، میں زندہ دلی سے جی سکوں!
(ثمر محمد علی)

