بیرون ملک چیف جسٹس (ر) فائز عیسی سے بدتمیزی


عمران خان نے نوجوان نسل کو اس قدر شعور دے دیا ہے کہ عمران خان کے ہر مخالف کو پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں اور عمران خان کو ہی پاکستان سمجھتے ہیں یہ بات صرف ان نوجوانوں تک محدود نہیں ان کے والدین بھی اسی رنگ میں رنگ چکے ہیں۔ عمران خان کے پیروکار بچے پبلک میں ہوں یا سوشل میڈیا پر جس کی مرضی پگڑی اچھالیں جس کی مرضی تضحیک کریں یا عمران خان کا نام لے کر جلاؤ گھیراؤ کریں، احتجاج کریں یا سڑکیں بلاک کریں یہ سب جائز ہو گا کیونکہ جوان کا لیڈر کہتا ہے یہ وہی کرتے ہیں۔

چیف جسٹس فائز عیسی بیرون ملک دورے پر ہیں لندن کے ٹیمپل کالج کی جانب سے ان کو جو اعزاز دیا گیا ہے یہ صرف ان کے لیے نہیں پاکستان کے لیے بھی بہت بڑے اعزاز کی بات ہے خصوصاً پاکستان کی جوڈیشری کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کیونکہ فائز عیسی سے قبل کوئی بھی اس عہدے پر نامزد نہیں ہو سکا۔ یقینی طور پر آپ نے بھی وہ ویڈیو دیکھی ہوں گی جن میں عمران خان کے پیروکار سابق چیف جسٹس فائز عیسی کی گاڑی کے پیچھے دوڑیں لگا رہے ہیں ان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

میرے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے والدین کو یہ نظر نہیں آتا بلکہ وہ خود اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ صرف فائز عیسی کے ساتھ ہی یہ واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اس سے قبل تین سال تک لندن میں میاں نواز شریف کے گھر کے باہر روزانہ کی بنیاد پر یہ ڈرامہ چلتا رہا پھر وزیراعظم شہباز شریف اور مریم اورنگزیب عمرے کے دوران مسجد نبوی میں تھے تب بھی ان کے خلاف مسجد نبوی کے اندر عمران خان کے پیروکاروں نے سیاسی نعرے بازی کی پھر جنرل باجوہ سے فرانس میں عمران خان کے پیروکار نے بدتمیزی کی پھر ایسا ہی ایک واقعہ لندن میں مریم اورنگ کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں شاپنگ کے دوران پیش آیا پھر لندن میں ہی بنا پرویز بٹ اور ان کے بیٹے کے ساتھ بدتمیزی کی گئی پھر پاکستان میں احسن اقبال کے ساتھ عمران خان کے پیروکاروں نے بدتمیزی کی یہ سب معقول کارروائیاں نہیں تھی بلکہ ایک سوچ ہے جو ایک مخصوص طبقے کے ذہن میں ڈال دی گئی ہے کہ عمران خان کے علاوہ پاکستان کا ہر شخص خواہ وہ کسی بھی بڑے عہدے پر بیٹھا ہو گا وہ پاکستان کا ہمدرد نہیں ہے پاکستان میں واحد عمران خان ہے جو پاکستان کے ہمدرد ہیں اور قوم کے مسیحا ہے۔

یہ وہی عمران خان ہے جنہوں نے سابق چیف جسٹس فائز عیسی کے خلاف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دینے کے بعد ریفرنس دائر کیا پھر جب سپریم کورٹ نے وہ ریفرنس خارج کیا تو عمران خان نے تسلیم کیا کہ یہ ریفرنس میں نے کسی کے کہنے پر بھجوایا تھا یہ وہی عمران خان ہیں جنہوں نے بطور وزیراعظم آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے جمہوریت پسند جنرل قرار دیا یہ وہی عمران خان ہے جب ان کی بیوی سے متعلق کوئی بھی شخص بات کرتا تھا تو یہ کہتے تھے بشری بی بی گھریلو خاتون ہے ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

یہ وہی عمران خان ہے جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے کے بعد ایک جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا مجھے ہٹانے سے بہتر ہے پاکستان پر ایٹم بم گرا دیتے۔ یہ وہی عمران خان ہے جنہوں نے اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا آج وہی عمران خان ہے جو جیل سے نکلنے کے لیے امریکہ سے کبھی برطانیہ سے رحم کی اپیلیں کروا رہے ہیں۔ ایک اور قابل تشویش بات ہے عمران خان کے پیروکار ہر اس بات کو آنکھیں بند کر کے تسلیم کریں گے جو عمران خان کہیں گے چاہے وہ عمران خان کا اپنی زندگی کا سب سے بڑا یو ٹرن ہی کیوں نہ ہو یہ اس کو بھی تسلیم کریں گے۔

پرویز الہی اس کی سب سے بڑی مثال ہے جس کو عمران خان پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے پھر اسی کو ہی اپنی پارٹی کے علیم خان پر ترجیح دیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب بنا دیا۔ عمران خان نے نوجوان نسل کی جڑوں میں جو غلاظت اور بیہودگی، بدتمیزی کا تیزاب ڈالا ہے اس کو اب صاف کرنا یا ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ آج جو لوگ اس بیہودگی کا شکار ہو رہے ہیں انہی لوگوں نے عمران خان کو پروان چڑھایا دنیا کی ایک معروف تھیوری ہے طاقت کا حصول سب سے خوفناک چیز ہے اور طاقت چھن جانا اس سے بھی زیادہ خوفناک عمل ہے عمران خان اسی تھیوری کا شکار بن چکے ہیں۔

پہلے ان کو طاقت دی گئی پھر ان سے طاقت چھین لی گئی اب وہ اپنی طاقت جو نوجوان نسل کے ذہن میں ڈال دی گئی ہے اس کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں اس طاقت کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب تک آپ پہلے اس کے پیروکار کے والدین کی تربیت نہیں کرتے کیونکہ جن لوگوں کی ذہن سازی کی جا چکی ہے جن کو ذہنی طور پر نارمل کرنا ناممکن ہے اب حل صرف ایک ہی ہے ان کے والدین کا مائنڈ تبدیل کیا جائے اور ان کے بچوں کو دوبارہ تعلیم اور اچھے روزگار کی طرف راغب کروایا جائے کیونکہ عمران خان کا یہ نوجوان نسل پسندیدہ ہتھیار بن چکی ہے اور اس کا وہ پوری دیدہ دلیری کے ساتھ استعمال کر رہا ہے جبکہ اس نوجوان نسل کو یہ بھی سمجھ بوجھ نہیں کہ عمران خان ان کا استعمال کر رہا ہے اور ان کی منزل کیا ہے وہ کیا اچیو کرنا چاہتے ہیں اس سے ان کے پیروکاروں کو کوئی لینا دینا نہیں۔

Facebook Comments HS