سلسلہ غامدی: حمزہ علی عباسی اور حسن الیاس کی لمز میں آمد اور ڈاکٹر تیمور کی وضاحت
آج کل خانوادہ غامدی پاکستان کے دورے پر ہے، گزشتہ دنوں جانشین سلسلہ غامدی کے روح رواں حمزہ علی عباسی اور حسن الیاس کی لمز یونیورسٹی میں تشریف آ وری ہوئی۔ پروفیسر تیمور المعروف ”لال بینڈ“ والے جو تاریخ کے موضوع پر خاصی گہری نظر رکھتے ہیں نے ان کی میزبانی فرمائی اور روایتی فکر کے متعلق خاصے دلچسپ سوال پوچھے۔ حسن الیاس نے مٹھاس سے بھرپور لیکن خاصی طویل گفتگو فرمائی، اتنی طول کلامی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
مذہبی فکر بھلے روایتی لبادے میں ہو یا جدید بھیس میں، گفتگو کچھ اس انداز میں فرماتے ہیں کہ ان کے مخاطبین بالکل ہی عقل سے پیدل ہیں یا ان کا مذہبی فہم نا ہونے کے برابر ہے۔ تیز ترین انٹرنیٹ سروس، گوگل سرکار اور چیٹ جی پی ٹی کے اس دور میں کچھ بھی تلاشنا کوئی جان جوکھوں کا کام نہیں رہا بلکہ چند سیکنڈ کی سہولت یا عیاشی بن چکا ہے۔ جو کچھ آپ فرما رہے ہوتے ہیں اس کی تصدیق چند سیکنڈ میں ممکن ہو چکی ہے اور کیمرے کی ڈیجیٹل آ نکھ آپ کے چہرے کے تاثرات، اشارے کنائے اور آواز کا اتار چڑھاؤ تک اپنی یاد داشت میں محفوظ کر لیتی ہے جسے کبھی بھی ”ری کیپ“ کیا جا سکتا ہے۔
حسن الیاس نے مذہبی فکر کی تین روایات کا ذکر کیا، ان کے مطابق ان کے ذریعے سے دین کا فہم حاصل کیا جاتا ہے۔ فقہی روایات، صنفی روایات اور صوفی روایات وغیرہ اور ان کے متعلق ایک سیر حاصل گفتگو کی، بڑی خوبصورتی سے ثابت کیا کہ دنیا بھر میں مذہبی بنیادوں پر جو جنگ و جدل ہوا ہے یا فرقوں کی بنیاد پر نفرت کی حد تک تقسیم ہوئی ہے یا جن بنیادوں پر آج کے علماء کرام ہجوم کشی کی حمایت کرتے یا دائرہ مذہب سے خارج کرتے ہیں ان کا حقیقی اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ اس طرح کی فکر کی ترویج کرنے والے مذہب کے حقیقی فہم کا گیان نہیں رکھتے۔
کاش ایسا ہی ہوتا، مذہب کی بنیاد پر اس قدر نفرت، تقسیم، تنگ نظری یا ایقان کی بنیاد پر اس قدر درجہ بندی نہ ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ ایسے علماء کرام جو سخت گیر قسم کا رویہ اور دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت پر مبنی موقف رکھتے ہیں ان کی سپلائی لائن کے ذرائع کون سے ہیں جہاں سے یہ نفرت یا فتویٰ بازی کا جواز تراشتے ہیں؟
آپ نے تو بڑے میٹھے سے انداز میں مذہب کا روشن چہرہ ہمارے سامنے آ شکار کر دیا اور روشن خیالی کے کئی سارے پہلو ایک ساتھ سجا کر ہمارے سامنے رکھ دیے لیکن ان پہلوؤں کے حقیقی یا درست ہونے کا تعین کون کرے گا؟ اگر اتنے سارے روشن پہلو ہیں اور دوسرے مذاہب کے متعلق اس قدر کشادہ گنجائش ہمارے مذہب میں موجود ہے تو اتنی کثیر تعداد میں ہمارے علماء کرام اس طرح کے وسیع فہم یا برکت سے محروم کیوں ہیں؟ وطن عزیز میں روایتی موقف سے ذرا سا انحراف یا مختلف موقف اختیار کرنے کی پاداش میں نجانے کتنے گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور کئی ہجوم کی نذر ہو گئے۔ سوال ہے کہ اس قسم کا مذہبی فہم یا گنجائش یہ لوگ شریعت کے کس اصول سے نکالتے ہیں؟ اس کے بالمقابل غامدی اسکول آف تھاٹ کے مذہبی نتائج کو پرکھنے کا کوئی خاص پیمانہ کیا ہو سکتا ہے کہ جس کے ذریعے سے یہ تعین کیا جا سکے کہ ان کا موقف حقیقت کے زیادہ قریب ترین ہے؟
عہد قدیم یا جدید میں کون ایسا ہو گا جو فتویٰ بازی کے اثرات سے بچ پایا ہو؟ ایک لمبی فہرست ہے اور اس کھیل سے ہم مذہب بھی نہیں بچ پائے۔ ہماری مذہبی تاریخ تو ایک دوسرے کے گرد دائرہ تنگ کرنے، دائرہ مذہب سے خارج کرنے یا دیگر کفریہ ٹیگ چپکانے سے بھری پڑی ہے جس کی جھلک ہمیں آج بھی نظر آتی ہے۔
حمزہ علی عباسی نے بھی اپنا ذہنی سفر سانجھا کیا، انہوں نے فرمایا کہ انہیں سچائی مذہب اسلام میں نظر آئی اور غامدی جی کے سنگ وہ اپنے خالق حقیقی کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جان کر بہت اچھا لگا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حمزہ علی عباسی کسی اور مذہب میں آ نکھ کھولتے تو پھر ان کا موقف کیا ہوتا؟
دنیا بھر میں کسی بھی مذہب یا فلسفے سے تعلق رکھنے والا انسان اپنی فکر کے متعلق بالکل اسی پیٹرن یا فریم آف مائنڈ سے سوچتا ہے جس طرح ہم بطور مسلمان سوچتے اور سمجھتے ہیں۔ ہمارے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے مذہب اور خدا کو حق سچ اور اپنے فکری نظام کو حتمی سچائی سمجھتے ہیں، ان کا بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ صرف ان کا خدا سچا ہے۔
انٹیلیجنٹ ڈیزائن خاصا مسحور کن تصور ہے لیکن اس میں بھی خاصے فکری خلا ہیں جسے روایتی فکر عقیدہ سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے، ڈاٹ سے ڈاٹ ملاتے ہوئے ایک جگہ پر جاکر یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ پاسکل ویجر تصور بھی خاصا دلچسپ ہے اور امکان کی دو دنیاؤں کے بیچ جھولتا رہتا ہے لیکن حتمی اطمینان مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ اگناسٹک اسٹیج سب سے دلچسپ ہوتی ہے جس میں ایک متشکک اپنی کھوج اور امکان کا در ہمیشہ کھلا رکھتا ہے اور لمحہ موجود کا علم اسی امکان کے گرد گھوم رہا ہے، سائنسی فکر اضطراب و تجربات کا ہی شاخسانہ ہے اور بے بنیاد قسم کی پراسراریت جو صدیوں سے انسانوں نے قائم کر رکھی تھی کا تجرباتی بنیادوں پر پردہ چاک کر رہی ہے۔ بہرحال یہ سارے فکری زاویے ہیں اور ارتقا کا سفر کبھی اختتام پذیر نہیں ہوتا، انسان تو آتے جاتے رہیں گے۔
ہاں عقیدہ انسان کو مطمئن کر دیتا ہے جبکہ علم کا سلسلہ ایک بحر بے کنار کی طرح ارتقا کے مراحل طے کرتا رہتا ہے۔ علم الکلام کی جتنی بھی فکری جہتیں اس وقت تک موجود ہیں، فراحی، اصلاحی، مودودی، پرویزی، غامدی، وحیدی اور بشمول فکر نائیک سب آپس میں فکری طور پر بعد المشرقین ہیں اور سب کے دعوے اپنی اپنی فکر کے گرد گھومتے ہیں۔ سب کا یہی کہنا ہے کہ ہمارا مذہبی فہم دوسروں سے بہتر ہے۔
جبکہ ہماری برداشت کا یہ عالم ہے کہ جب سے ڈاکٹر تیمور نے غامدی فکر پر غامدی جی سے ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع کیا ان پر یہ الزام لگنا شروع ہو گیا کہ پروفیسر تیمور تو احمدی ہو گئے ہیں۔ اس بیچارے کو سوشل میڈیا پر وضاحت دینا پڑی کہ ان کا احمدی فکر سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ عجیب رسم چل نکلی ہے کہ سوالوں کا جواب دینے کی بجائے مخاطب ہی پر کوئی الزام لگا دو تاکہ وہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔


