ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ : چند تاثرات


ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ فیصل آباد کے ایک نوجوان لکھاری احمد افتخار کا پہلا ناول ہے جو حال ہی میں سلیکھ پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا ہے۔ ناول کا انتساب ”عین الف“ کے نام ہے اور ٹائٹل بہت خوبصورت انداز میں عثمان ضیا نے ڈیزائن کیا ہے جو ناول کے تھیم اور فضا کے ساتھ حد درجہ موافقت رکھتا ہے۔

”سیاہ اور سفید میں لکیر“ وہ لکیر جس میں سیاہ اور سفید دونوں شامل ہیں۔ جو نہ مکمل سفید ہے اور نہ سیاہ۔ یہ ان دونوں رنگوں کے ملاپ سے بننے والا سرمئی۔ نور کے سفید اور بد کے سیاہ کے مِیل سے بنا گرے، راکھ رنگ، مٹیالا، خاکی یعنی انسان۔ سو اس ناول کا موضوع انسان ہے وہ خاکستری پیکر جس کا وجود مجموعہ تضادات ہے۔

سرمئی رنگ علم و دانش اور ذہانت کا رنگ بھی ہے جس سے اس ناول کے اوراق لبالب بھرے پڑے ہیں۔ سائنس، الہیات، فلسفہ، نفسیات، موسیقی، مصوری، اور آرٹ اس ناول کا مرکزی کینوس ہیں جو نہ صرف ناول نگار کے وسیع المطالعہ ہونے کا غماّز ہے بلکہ ناول کو سطحی درجے سے اٹھا کر ماسٹر پیس بناتا ہے۔ ناول نگار نیکی، بدی، سزا، جزا، خوشی، شرمندگی، وقت، حسد اور اس جیسے کئی اہم مسائل کو مختلف مکتبہ ہائے فکر کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ناول چار کرداروں پر مشتمل ہیں۔ مرکزی کردار ابراہیم، اور اس کی زندگی میں آنے والی تین لڑکیاں زینب (بیوی) ، مریم (سیکرٹری) اور سارہ (بچپن کی دوست) ۔ ان چار کرداروں کے ذریعے ناول نگار اس ناول میں کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ معاشرے اور انسانی شخصیت کے رنگ رنگ تضادات دکھاتا ہے۔ کئی نظریات کو رد کرتا ہے۔ معاشرتی معیارات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایک مشکل اور کٹھن کام ہے۔ ہوا کے مخالف سفر ہمیشہ دقّت طلب اور دشوار ہوتا ہے اور ایک مذہبی اور شدت پسند معاشرے میں تو یہ جان جوکھوں کا کام ہے جو اس ”ننھے“ ناول نگار نے کمال بہادری سے کیا ہے۔

ناول کے دوسرے حصے ”کافر اور مسلمان میں فرق“ میں ہمارے معاشرتی مزاج پر طنز ہے مذہب کو اپنی ذات پر لاگو کرنے اور دوسروں بالخصوص کمزوروں پر لاگو کرتے ہوئے ہمارے معیارات میں تضاد کو عمدگی سے ناول کے اس حصے میں پیش کیا گیا ہے۔ ”پیر کامل اور اکمل درویش“ کی ذیل میں ہاجرہ کی علامہ اقبال اور قائد اعظم سے محبت اور سارہ کا ان دونوں رہنماؤں کے لیے بالکل متضاد بیانیہ رکھنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ ناول سے اقتباس ملاحظہ ہو:

”وہ تو صرف ایک لکیر تھی جو ریڈ کلف نے کھینچی تھی اس کے بعد ہر شہر میں، ہر محلے میں، ہر گھر میں لکیریں کھنچتی چلی گئیں کبھی ثقافت کی لکیر، کبھی فرقے کے لکیر اور کبھی سب سے مضبوط اور کارآمد پیسے کی لکیر۔“

باب ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ میں تخلیق کائنات، آدم کی پیدائش کے بیان کے بعد ناول نگار الہیات سے سائنس کی جانب آتے ہیں اور آدم کو زمین پر اتارنے سے پہلے بگ بینگ کرتے ہیں۔ وہ کائنات کی اصل کے متعلق طالیس کے ہم نوا نظر آتے ہیں وہ طالیس جس نے سائنس کو جادو اور مذہب کے تصّرف سے آزاد کرایا اور سائنس دانوں کا جدّ امجد ٹھہرا۔ طالیس کی طرح پانی کو کائنات کی اصل قرار دیتے ہوئے وہ اناکسی مینڈر جسے ڈارون کا پیش رو سمجھا جاتا ہے کے حامی نظر آتے ہیں کہ انسان آبی جانداروں کی ترقی یافتہ شکل ہے۔

ناول کے کرداروں کا مطالعہ کریں تو بیشتر کردار سگمنڈ فرائڈ کی اِڈ کے پروردہ نظر آتے ہیں۔ اڈ جو کہ پلیژر پرنسپل (Pleasure Principal) پر کام کرتی ہے۔ جو صرف ذاتی خوشی اور ذاتی مفاد کا طواف کرتی ہے جس کو اپنی خواہشات کی جلد از جلد تکمیل سے غرض ہے۔ ناول کے کردار اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی کو دھوکہ دینے یہاں تک کہ کسی کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ناول کا اسلوب جاندار ہے ناول نگار کو جملے کی بُنت اور منظر کو تصویر کرنے کا ہنر آتا ہے۔ ناول سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :

”ذہن بھی کیسی عجیب شے ہے ذہن کو ایسی فصل سمجھا جا سکتا ہے جس میں ہریالی اُگتی ہے مگر ضروری نہیں کہ اس فصل کا رخ ہمیشہ آسمان کی طرف ہو۔“

”زنجیروں کی طرح دروازے بھی مادی اور خیالی ہو سکتے ہیں اور ان سے برآمد ہونے والے بھی“ ۔

”سارہ کے ہونٹوں کی مستقیم شکنیں اسے کسی جنگلے کے آہنی سلاخوں کی طرح لگنے لگی وہ چاہتا تھا کہ جنگلے کے اندر جائے اور ان سلاخوں کو عبور کر کے قیدی بن جائے۔“

”انسان نے ہوس کو ایک شکل دینے کے لیے عورت کا سہارا لیا۔ سو آج کے دور میں عورت ہونا، وقت کے پلنتھ (Plinth) پر ہوس کا حوالہ ہونے کے مترادف ہے۔

25 ابواب پر مشتمل ناول کی ضخامت 112 صفحات پر محیط ہے۔ ابواب کے عنوان کمال مہارت سے قائم کیے گئے ہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے انتظار سے شروع ہونے والا یہ ناول 25 منازل طے کر کے بیٹے کی پیدائش کا انتظار پر دائرہ مکمل کرتا ہے۔ ناول کا آغاز اور اختتام غیر معمولی حد تک متاثر کن ہے۔ ناول کا راوی غائب ہوتے ہوئے بھی ہر درجہ حاضر بلکہ حاوی ہے جس کی وجہ سے کردار بعض مقامات پر اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلیوں کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی راوی کی مداخلت قاری کو کھلتی ہے اور اس کا فلسفہ ناول کے کہانی پن کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔

ناول کے اختصار پر اعتراض کیا جا سکتا ہے لیکن وہ مناسب نہیں عصر حاضر میں ناول کی بے جا طوالت کو سراہا نہیں جاتا۔ میلان کنڈیرا جیسے بڑے فکشن گار کا کہنا ہے کہ ناول کے اختتام پر اس کے آغاز کو یاد رکھنا ممکن ہونا چاہیے بصورت دیگر اس کی تشکیلاتی صراحت دھندلا جاتی ہے۔ یہ ناول اُردو ناول میں ایک اہم اضافہ ہے اہم اس لیے کہ اس میں ایک اچھے ناول نگار کے بھرپور امکانات دکھائی دیتے ہیں۔

(یہ تجزیہ مذکورہ ناول کی تقریب پذیرائی میں پیش کیا گیا۔ تقریب کی صدارت معاصر اُردو نظم اور ناول کے مہا تخلیق کار ڈاکٹر وحید احمد نے کی۔ انہوں نے ناول کی اشاعت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایک نوجوان ادیب اردو ناول نگاری کی کی سمت متعین کر رہا ہے۔“ )

Facebook Comments HS