بارہ اکتوبر 1999 کو پچیس سال
پچیس سال پہلے بارہ اکتوبر کو جنرل مشرف کا لگایا مارشل لاؑ، ڈائریکٹ ملٹری حکومت کی تازہ ترین مثال ہونے کے باعث کچھ عرصہ کے سیاسی حالات میں پچھلے ایسے ادوار سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔ مشرف حکومت کی باقیات کچھ عرصہ بعد ایک ہائبرڈ نظام کے آغاز کی صورت میں سامنے آئیں اور جو اب بھی نافذ العمل ہے۔ ایسی سکالرشپ سامنے آ چکی ہے جو بارہ اکتوبر اور اس کے پس منظر کے بارے میں یاداشت تازہ کرنے اور کچھ غلط تاثرات کی تصحیح کرنے کا موقعہ دیتی ہے۔ میں نے اس مضمون میں ان واقعات کے صرف انہیں پہلوؤں کا ذکر کرنے کی کوشش کی ہے جو بعد میں متنازعہ بن گئے۔
میرے خیال میں اس بارے میں متعلقہ سوالوں میں سے کچھ یہ ہیں ؛ کیا طیارہ ’ہائی جیکنگ‘ مارشل لاؑ لگنے کی براہ راست وجہ تھی، جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے سے فوراً پہلے کے سول ملٹری تعلقات کیسے تھے اور کیا کارگل آپریشن پر ایسی انکوائری متوقع تھی جو جرنیلوں کے کورٹ مارشل کا باعث بنتی، ان تعلقات کے بیک گراؤنڈ میں موجود آپریشن کی ناکامی اور اس کو امریکہ کی مداخلت سے ختم کرنے میں کیا عوامل موجود تھے، کیا اس وقت کے وزیر اعظم کو آپریشن شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی، فوج کے اس آپریشن کو شروع کرنے اور بالآخر حکومت کا تختہ الٹ دینے کا آپریشن سے پہلے کے حالات سے کوئی تعلق تھا؟ میں نے ان سوالوں کے جواب کے لئے جن کتابوں کا مطالعہ کیا انہیں مضمون کے آخر میں لسٹ کر دیا ہے۔
نواز شریف 1997 میں دو تہائی اکثریت لے کر وزیراعظم بنا اور اس نے اگلے سال انڈیا کے جواب میں ایٹمی دھماکے کروا کے اپنی مقبولیت کو مزید بڑھا لیا۔ اکثریت اور مقبولیت کے اثرات میں ایک متنازعہ آئینی ترمیم کی کوشش کے علاوہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو استعفیٰ کے لئے مجبور کرنا اور چیف آف آرمی سٹاف کے ایک متنازعہ بیان کے بعد اس کا رضاکارانہ استعفیٰ منظور کرنا بھی شامل تھا۔ جنرل جہانگیر کرامت کے اس استعفیٰ نے ایک سال بعد بارہ اکتوبر کے دن ہوئی فوجی بغاوت کے عوام کی نظر میں ایک تاویل کے طور پر اپنا اثر دکھایا۔
ایٹمی دھماکوں کے بعد انڈیا اور پاکستان پر آپسی مسائل کو حل کرنے کے لئے عالمی دباؤ بڑھ چکا تھا۔ اسی ضمن میں انڈین وزیر اعظم نے فروری 1999 میں پاکستان کا دورہ کیا اور لاہور ڈکلیریشن کے تحت تمام مسائل سمیت مسئلہ کشمیر کو مذاکرات سے حل کرنے کا اعلان کیا۔ اس سب سے امید ہو چلی تھی کہ ملکوں میں پائیدار امن کے پراسس کا آغاز ممکن ہے۔ دورے کے دوران البتہ سول ملٹری تعلقات میں کھچاؤ نظر آیا جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف کا پروٹوکول کے خلاف بیرون ملک سے آئے وزیر اعظم کو سلیوٹ نا کرنا بھی شامل تھا۔
لاہور امن معاہدہ اور اس کے تحت ہو رہی پاکستان انڈیا ڈائریکٹ مذاکرات کی پلاننگ کے متوازی البتہ مشرف کی سربراہی میں کچھ جرنیل کارگل کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر دراندازی کا آغاز کر چکے تھے۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جسے پچھلے سالوں میں ہوئے سٹریٹیجک جائزوں میں رد کیا جا چکا تھا۔ اس آپریشن کے مقاصد لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف ایسی چوکیاں جن کو انڈین فوج سردیوں میں خالی کر دیتی تھی پر قبضہ کر لینا اور دراس کارگل روڈ کو نشانہ پر لے لینا تھا۔ آپریشن کی پلاننگ کرنے والوں کی نظر میں اس دراندازی سے انڈیا کی سیاچن کو سپلائی لائن متاثر ہوتی اور مسئلہ کشمیر ایک دفعہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا۔
اس پلاننگ میں مشرف سمیت صرف چار جرنیل شامل تھے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اور حیران کن یہ بات ہے کہ ملک کے وزیر اعظم سمیت فوج کی اپنی ہی دیگر برانچوں جیسے ائر فورس، بحریہ، انٹیلی جنس ایجنسیز کے سربراہان اور مختلف کور کمانڈران کو بھی پہلے پہل اس آپریشن کی خبر تک نا ہونے دی گئی۔ اس رازداری کے پس منظر میں یہ بات بھی تھی کہ آپریشن کے اختتام تک پاکستان کی فوج اور اس کی تحریک پر سویلین حکومت، کارگل آپریشن میں فوج کے ملوث ہونے سے انکار کرتی رہی۔ ملکی اور بیرون ملک میڈیا میں اس بات کا پروپیگنڈا کیا گیا کہ یہ علاقائی مجاہدین کا ایک آپریشن ہے اور جن پر فوج کا محدود کنٹرول ہے۔
اس آپریشن کا آغاز دو بنیادی مفروضوں پر کیا گیا تھا؛ اول یہ کہ انڈیا اس دراندازی کا کارگل میں کسی بڑے پیمانے پر جواب نہیں دے گا اور دوسرا انٹرنیشنل بارڈر تو کبھی کراس نہیں کرے گا۔ لیکن ہوا ایسے کہ انڈیا نے کارگل کے محاذ پر ہی ایسا ردعمل دکھایا جس کی پاکستانی فوجی کمان توقع نہیں کر رہی تھی۔ مئی کہ مہینے میں انڈیا کا کاؤنٹر آپریشن شروع ہوا اور مئی ہی میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم و دیگر عسکری اہلکاروں کو اس آپریشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی، جن کا اس سے پہلے کا تاثر یہ تھا کہ فوج کے حمایت یافتہ مجاہدین اس کو لیڈ کر رہے ہیں۔ جبکہ جون کے آخر تک پاکستانی فوج کے اگلے مورچوں کی سپلائی لائنیں انڈیا کی زمینی اور فضائی بمباری کے باعث کٹ چکیں تھیں اور پاکستان سٹریٹیجک فوقیت کھو چکا تھا۔
مشرف جو دفاعی میٹنگز میں اب بھی فوج کی کامیاب حکمت عملی کا بھرم قائم رکھے ہوئے تھا نواز سے البتہ چاہتا تھا کہ وہ اب سفارتی فرنٹ پر ایسے لیڈ کرے کہ انڈیا کشمیر پر امریکی ثالثی کے لئے تیار ہو جائے۔ امریکہ جو اس معاملہ پر پہلے سے ہی بہت گہری نظر رکھے تھا البتہ مسلسل پاکستان سے غیر مشروط پسپائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ نواز نے جب مشرف کے مشورہ کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا تو اسے بتا دیا گیا کہ امریکی صدر صرف تب ہی ملاقات کرے گا اگر وہ پسپائی کا غیر مشروط اعلان کرے۔ نواز کو کارگل فرنٹ سے انتہائی کشیدہ صورتحال کی خبروں، کراچی نیول بلاکیڈ کے واضح امکان کے پیش نظر اور امریکی دباؤ میں ایسا ہی کرنا پڑا لیکن جسے مشرف نے جیتی ہوئی جنگ کو سفارت کاری میں ہار دینے کے مترادف ٹھہرایا۔
یہ پس منظر سول حکومت اور ملٹری کمان کے تعلقات کی خرابی کی ڈائریکٹ وجہ بن گیا۔ فوج کے اندر سے کارگل کے بارے میں سخت تنقید موجود تھی ہی لیکن جب ملکی و غیر ملکی پریس نے فرنٹ پر موجود جوانوں جو سپلائی لائنیں کٹ جانے کے باعث گھاس تک کھانے پر مجبور ہو چکے تھے، کو کوریج دینا شروع کی تو سول ملٹری حالات مزید بگڑنے لگے۔ مشرف سمیت باقی جرنیلوں کے کورٹ مارشل کی چہ مگویاں شروع ہو گئیں اور اب اس چیز کا انتظار ہونے لگا کہ ان حالات میں پہلا قدم کون اٹھائے گا۔
اس تناؤ کے ماحول میں کور کمانڈر کوئٹہ کی برطرفی کی خبر ایک اخبار میں چھپی۔ اس برطرفی کی وجہ آرمی چیف کی اجازت کے بغیر وزیر اعظم سے کی گئی ملاقات رپورٹ ہوئی (یہ محض اتفاق نہیں کہ یہ واحد کور کمانڈر تھا جس نے کھل کر آپریشن کی مخالفت کی تھی) اور جب باوجود حکومتی اصرار کے آئی ایس پی آر نے اس خبر کی تردیدی پریس ریلیز نا کی تو یہ وہ آخری قدم ثابت ہوا جس کے بعد حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گئے۔
نواز شریف نے بارہ اکتوبر کو ضیا الدین بٹ کی آرمی چیف کے عہدے پر تعیناتی کے ساتھ مشرف کو پاکستان واپسی پر کراچی میں بطور سٹیٹ گیسٹ رکھنے کے احکام جاری کیے تھے۔ البتہ جیسے ہی پی ٹی وی پر خبر چلی اور ضیا الدین بٹ نے نئے آرمی چیف کے طور پر مختلف کور کمانڈروں سے رابطے شروع کیے، کارگل آپریشن کی پلاننگ میں شامل دیگر جرنیل مشرف کے ساتھ پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت حرکت میں آ گئے۔ جس پر نواز نے مشرف کے طیارہ کو عرب امارات یا عمان کی طرف بھیج دینے کا حکم جاری کر دیا۔ لیکن جب کراچی ائر ٹریفک کنٹرول کا جہاز سے رابطہ قائم ہوا اور کاک پٹ سے بتایا گیا کہ جہاز میں اتنا ایندھن نہیں ہے کہ وہ دور جا سکے تو اسے نواب شاہ لینڈ کرنے کو کہا گیا۔ اسی اثنا میں البتہ کارگل کے جرنیل اپنی کاؤنٹر سٹریٹیجی میں کراچی ائر پورٹ کا کنٹرول سنبھال چکے تھے اور مشرف کا طیارہ کراچی میں ہی لینڈ ہوا۔
اکتوبر کی اس رات پاکستان میں ایک اور جمہوری حکومت کا تختہ ان جرنیلوں جن کا ممکنہ طور پر کورٹ مارشل ہو سکتا تھا کے ہاتھوں کامیابی سے الٹا جا چکا تھا۔ کیا پاکستانی جرنیل کارگل آپریشن میں انڈیا کے ردعمل کا اندازہ لگاتے وقت اسی سال وہاں ہو رہے الیکشنز کے انعقاد اور واجپائی حکومت کی اس واقعہ کو الیکشن ایشو بنا سکنے کو نظر انداز کر گئے؟ کیا پاکستانی فیصلہ ساز امریکی مداخلت سے استفادہ کرنے کی خواہش میں امریکہ کی انڈیا سے سٹریٹیجک تعلقات کا آغاز کرنے کی ضرورت کو نہیں جانچ سکے؟ کیا نواز کی جو آئینی لحاظ سے کسی بھی آرمی چیف کی برطرفی اور تعیناتی کا حق رکھتا تھا اپنی حکومت بچانے کی کوشش غلط تھی یا وہ جرنیل ٹھیک تھے جنہوں نے انڈیا پاکستان میں امن کے آغاز کا ایک اچھا موقعہ سبوتاژ کر دیا اور کارگل کی نامکمل پلان ہوئی مہم جوئی میں ایسے فوجی جوان بھی دھکیل دیے جن میں سے بیشتر کی نا لاشیں وصول کی گئیں نا ان کی قربانی کا اعتراف ہو سکا؟
میں نے اس مضمون کو لکھنے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کو پڑھا ہے ؛
فرام کارگل ٹو دا کو ؛ نسیم زہرا
کراسڈ سورڈز؛ شجاع نواز
وٹنس ٹو بلنڈر؛ کرنل (ر) اشفاق حسین
آ ہسٹری آف پاکستان آرمی؛ برائین کلفلی
انڈیا پاکستان اینڈ وار آن دا فرنٹیئرز آف کشمیر؛ مائرہ میکڈونلڈ


