نذیر عباسی: سخی حسن قبرستان میں دفن روشن چراغ


تاریخ میں جب بھی نظریاتی انسانوں کا ذکر آئے گا تو شہید نذیر عباسی کا نام ان میں سرِفہرست ہو گا۔ وہ جو ایک خوبصورت صبح کی تلاش میں رات کے لٹیروں کے ہاتھوں شہید ہو کر امر ہو گیا۔ سندھ کا یہ باکردار سیاسی کارکن مزدوروں اور محنت کشوں کے اس خواب کی تعبیر تھا جو آج بھی دنیا کے انقلابیوں کو چین کی نیند سونے نہیں دیتا۔ دراصل دنیا میں جب تک سرمایہ داری کے جہنم میں انسانیت جلتی اور تڑپتی رہے گی، تب تک کمیونسٹ انقلاب کی جستجو جسم و جان میں سلگتی رہے گی۔ یہ بات بالکل سیدھی اور صاف ہے کہ دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہے۔ ایک بلاک ان سرمایہ داروں کا ہے جو مختلف حیلے بہانوں سے دنیا کی قوموں کو غلام بنائے بیٹھے ہیں، اور دوسرا بلاک ان کمزور مزدوروں اور کسانوں کا ہے جو اس بھٹی میں پِس رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ سرمایہ دار اپنی مختلف شکلوں میں اپنی ریاستیں قائم کیے بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں مزدور تحریک، اپنی موجودگی کے باوجود، مزدوروں اور کسانوں کو منظم کر کے کچھ خاص نتائج حاصل نہ کر سکی ہے، جس کی خاص وجہ یہاں کا جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سیاسی نظام ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام بھی سوشلزم کے پرکشش نعرے کے ساتھ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی، لیکن پھر اپنی پہلی ہی حکومت میں وہ وڈیروں، میروں، پیروں، چوہدریوں، نوابوں اور سرداروں کے جال میں ایسے پھنسے کہ پھانسی کے پھندے پر ہی نیند آ گئی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جب پارٹی سنبھالی تو مزدوروں اور محنت کشوں کو بھرپور جواب دیا۔ جنرل ضیاء کے پورے دور میں ملک میں دائیں بازو کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے آشیر واد سے اپنی جڑیں مضبوط کرتی رہی، اور انتہائی کاریگری سے یہ طبقہ مختلف روپ بدل کر پیپلز پارٹی پر بھی اثرانداز ہوتا رہا۔ بینظیر بھٹو کا پہلا دورِ حکومت ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی پہلی نسل کا جمہوری جنم تھا، جو آج بھی الیکٹبلز کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں میں گھومتا اور شمولیتیں اختیار کرتا ہے۔

دوسری جانب ہماری قومی تحریکیں تھیں جنہیں مختلف طریقوں سے ریاستی ادارے اپنے ہی کارندوں کے ذریعے شکار کرتے رہے۔ ان میں موجود غریب طبقے کے کارکن، جو بعد میں اپنی جماعتوں کے لیڈر اور چیئرمین بن گئے، ان کی زندگی کا خاص مقصد ہی اپنا طبقہ بدلنا بن گیا۔ ان کا طور طریقہ، اٹھنا بیٹھنا بالکل ان سرمایہ داروں جیسا ہوتا گیا جن کے خلاف وہ بڑی بڑی تقریریں کرتے تھے۔

رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو اور ڈاکٹر ارباب کھاوڑ جیسے لوگوں نے اس اندھیرے غار میں جو روشنی جلائی وہ دنیا کے انقلابیوں کے لئے امید کا چراغ بن گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ سرمایہ دارانہ سازشوں نے فاضل راہو کو شہید کر کے اس کے مشن کو ختم کر دیا، پلیجو کی پارٹی کو چودہ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، اور ارباب کھاوڑ کے نام کو استعمال کر کے ان کے ساتھی روزی روٹی کے پیچھے لگ گئے اور مختلف جماعتوں میں سیاسی منشی گیری کرنے لگے۔ پاکستان میں خاص طور پر سندھ میں بائیں بازو کی مزدور سیاست پروان نہ چڑھ سکی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہی کے ووٹوں سے وہ لوگ منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچتے رہے جن کا اولین مقصد صرف اپنے ہی طبقے کا تحفظ تھا۔ گھوڑا گھاس کا خیرخواہ بنے گا تو بھوک سے مرے گا، سو ان گھوڑوں سے کمزور اور محکوم محنت کشوں کی زندگیوں میں انقلاب نہ آیا ہے اور نہ آئے گا۔

اس وقت بھی ملک کی اکثریتی سیاسی جماعتوں میں وہ نظریہ، نعرہ اور کردار ایسا نہیں ملتا جیسا نذیر عباسی جیسے قیمتی قائدین کا تھا۔ نذیر عباسی ایک ایسا انقلابی تھا جس نے اپنی زندگی محنت کشوں کے لئے وقف کر دی۔ اس کی شادی قومی گیتوں کی گونج میں ہوئی اور اس کا عقیقہ جیل میں ہوا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ انقلابیوں کے یہ دن جیل خانوں میں ہی گزرتے ہیں۔ روپوشی کی حالت میں وہ سندھ کے جنگلوں اور ویرانوں کو عبور کرتا، اپنے ساتھیوں کو منظم کرتا رہا۔ ایسے نظریاتی انسان صرف قصے کہانیوں میں نہیں ملتے بلکہ شہید نذیر عباسی کی شکل میں سندھ کی شناخت بنے رہے۔

ضیاء کے مارشل لاء کے دور میں جدوجہد کی شاندار علامت بننے والا یہ باکردار سیاسی کارکن آج بھی دنیا کے کمیونسٹ ساتھیوں کے لئے نہ صرف ایک ترغیب کا سبب ہے بلکہ جب بھی، جہاں بھی اس کا نام آتا ہے تو ایک امید جاگ اٹھتی ہے کہ سندھ کا مزدور آخرکار منظم ہو گا اور اس مشعل کو منزل تک پہنچائے گا جس کے لئے نذیر عباسی نے امتیاز بلا کا بدترین تشدد برداشت کر کے اپنی جان کی قربانی دی اور سخی حسن کی ایک قبر کو روشن کر دیا۔

Facebook Comments HS