سٹریس منیجمنٹ کا اسلامی تصور


یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انسان کو زندگی میں ہر مرحلے پر مختلف دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ ذاتی مسائل ہوں، مالی مشکلات، خاندانی تنازعات، یا دیگر حالات، دباؤ ایک قدرتی امر ہے۔ تاہم، اسلام ہمیں سٹریس منیجمنٹ کا ایک خاص اور جامع تصور فراہم کرتا ہے جو نہ صرف نفسیاتی سکون دیتا ہے بلکہ روحانی استحکام بھی فراہم کرتا ہے۔ اس تصور میں ایمان، صبر و استقامت، دعا اور اللہ کی رضا پر رضامندی شامل ہیں۔ اسلام میں ایمان اور توکل کو سٹریس منیجمنٹ کا بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے“ (سورۃ الطلاق 65 : 3 ) اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب ہم اللہ پر بھروسا کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے حکم سے ہے۔ یہ ایمان ہمیں ذہنی سکون عطا کرتا ہے اور دل میں خوف و اضطراب کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

اسلام میں ایمان کے ساتھ ساتھ صبر کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔ جب انسان مشکل حالات سے گزرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نہ صرف بڑی جزا دیتے ہیں بلکہ اس صبر کے بدلے میں دنیا اور آخرت میں بہترین جزا کا وعدہ بھی فرماتے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“ (سورۃ البقرہ 2 : 153 ) ۔ دراصل صبر ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو سکون اور حوصلہ عطا کرتی ہے اور سٹریس منیجمنٹ کے لئے ضروری ہے کہ انسان ہر حال میں صبر کا دامن نہ چھوڑے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ صبر اور استقامت کی بہترین عملی مثال ہے۔ یہ آپ ﷺ کا صبر جمیل ہی تھا جس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رحمت اللعالمین کے عظیم خطاب سے نوازا۔

اسی طرح نماز اور دعا کو اسلامی تعلیمات میں سکون و اطمینان اور قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ نماز ایک روحانی مراقبہ ہے جو ہمیں دنیاوی مصیبتوں سے دور کر کے اللہ کے قریب کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے“ (مسند احمد) ۔ نماز کے علاوہ دعا بھی دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دعا کے ذریعے انسان اپنے مسائل اللہ کے سامنے رکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا ہے اور سکون محسوس کرتا ہے، اسی لیے دعا کو تمام عبادات کا مغز قراردیا گیا ہے۔ ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ قرآن مجید کا سننا اور اس کی تلاوت کرنا بھی سٹریس منیجمنٹ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان کی رہنمائی فراہم کی ہے، اور اس کی تلاوت سے دل کو سکون اور راحت ملتی ہے۔ اللہ فرماتے ہیں ”بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے“ (سورۃ الرعد 13 : 28 )

ماہرین طب شکرگزاری کو بھی سٹریس منیجمنٹ کا ایک اہم جزو تصور کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کا شکر ادا کریں تو ہماری پریشانیوں کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے اور ذہن مثبت پہلو کی طرف مائل ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جب تم میں سے کوئی ایسے شخص کو دیکھے جو شکل و صورت اور مال و دولت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہیے جو ان چیزوں میں ان سے کم تر ہے۔ دراصل انسان کے پاس بے شمار نعمتوں کی صورت میں جو کچھ دستیاب ہوتا ہے وہ عموماً ان کو نہ تو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی ان کی قدر کرتا ہے حالانکہ اگر وہ نعمتوں کی ایک فہرست بنا لے جو اسے میسر ہیں اور پھر ان کا موازنہ ان چیزوں سے کرے جو اس کے پاس نہیں ہیں تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ اس کے پاس بہت کچھ ہے اور وہ ناسمجھی یا لالچ میں کفران نعمت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ہم بالعموم گلاس آدھا خالی ہونے کا شکوہ تو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن آدھے بھرے ہوئے گلاس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کو اکثر اوقات سٹریس کا شکار ہو کر کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسلام میں بھائی چارے اور دوسرے انسانوں کی مدد پر زور دیا گیا ہے۔ مشکل حالات میں دوسروں کے ساتھ بات چیت اور ان سے مدد لینا بھی سٹریس منیجمنٹ کا ایک ذریعہ ہے۔ دوست احباب اور خاندان کے افراد سے بات چیت اور ان کی رائے لینا انسان کو اگر ایک طرف اکیلا محسوس ہونے سے بچاتا ہے تو دوسری جانب اس اپروچ سے انسان اپنے مسائل حل کرنے میں بھی مدد لے سکتا ہے۔ حرف آخر یہ کہ اسلام ہمیں سٹریس منیجمنٹ کے لئے ایک جامع اور عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل، صبر، نماز، دعا، قرآن کی تلاوت، شکر گزاری اور مل جل کر رہنا ایسے اعمال ہیں جو نہ صرف روحانی سکون بلکہ ذہنی سکون بھی فراہم کرتے ہیں۔ اسلام کا یہ تصور ہمیں زندگی کی مشکلات سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور ہمارے ایمان کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

Facebook Comments HS