ایک استاد کے لیے محبت


muhammad kamran utmankhel

اردو زبان و ادب کے آسمان پر کئی روشن ستارے چمکتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جن کی روشنی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ راہ دکھاتی رہے گی اور ان کو ایک زمانہ یاد رکھے گا۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کا شمار بھی اُن چند ممتاز اور منفرد شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی تدریسی زندگی کا ایک بڑا حصہ اردو زبان کی ترویج و فروغ کے لیے وقف کیا۔

28 اکتوبر 2024 کو جامعہ پنجاب لاہور کے اورینٹل کالج میں ان کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں انہیں سرکاری ملازمت کی مدت مکمل کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس تقریب میں نظامت کے فرائض سابقہ طالب علم شعبہ اردو شاہد بلال نے ادا کیے۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جس کی سعادت الیاس عباس سانوں نے حاصل کی۔ اس کے بعد جشن عباس نے ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کے ایک غزل کو ترنم میں پیش کیا جس نے سامعین کو محظوظ کیا۔

اسی خوبصورت ماحول میں حماد نیازی نے ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کے لیے محبت بھری نظم پیش کی۔ احمد عطاء نے ضیاء الحسن صاحب کی شخصیت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے علم و حکمت اور شاگردوں سے محبت کو سراہا۔ اس موقع پر الفت عباس الفت نے ضیاء صاحب کے لیے ”اورینٹل میں سب دوست پھر آئے ہیں“ کے عنوان سے ایک خوبصورت نظم پیش کی۔ اسلام آباد سے ڈاکٹر عزیز ابن الحسن کا خصوصی آڈیو پیغام بھی سنایا گیا جس میں انہوں نے لاہور میں ضیاء الحسن صاحب اور آفتاب حسین کے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کو اپنا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ان کی علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کی۔

تقریب میں شعبہ پنجابی کے ڈاکٹر نوید شہزاد اور شعبہ فارسی کے ڈاکٹر شعیب احمد بھی شریک تھے۔ دونوں شخصیات نے ڈاکٹر صاحب کی علمیت اور انسان دوستی کو سراہا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی صدر شعبہ اردو، ڈاکٹر صائمہ ارم صاحبہ نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کے علمی، تحقیقی اور ترتیبی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کی سب سے بڑی خاصیت ان کی انسان دوستی ہے۔ اور یہ کہ وہ جب کسی سے بات کرتے ہیں تو وہ کسی صنف کے دائرے میں مقید کر کے بات نہیں کرتے بلکہ اُن کے لیے ایک شاگرد یا دوست صرف دوست یا شاگرد ہوتا ہے، مرد یا عورت نہیں ہوتا۔ مزید براں مصطفیٰ نقوی اور افہام الحسن نے ڈاکٹر معین نظامی اور محمد سلیم الرحمن کے پیغامات سامعین تک پہنچائے، جن میں ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کی علمیت اور شاگردوں کے لیے اُن کی محبت کا بیان تھا۔

اس موقع پر شعبہ اردو کے مشفق استاد اور اس تقریب کے میر منتظم مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر صاحب سے اظہار عقیدت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ضیاء الحسین قریشی، ڈاکٹر ضیاء الحسن، ضیاء صاحب میرے استاد ہیں اور میرے دوست۔
دوستی کے آگے ایک لکیر ہے جس کے اُس پار میں کبھی نہیں جا سکتا مگر استادی شاگردی کی کوئی حد نہیں۔ آج میں ضیاء صاحب کے بارے میں طویل بات اس لیے نہیں کر رہا کہ مجھے عمر بھر ان کی باتیں کرتے رہنا ہے۔ ایک استاد کا احسان ہم کبھی نہیں اتار سکتے۔ میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہاں، میرے پاس دو کان ہیں۔ ان کا کہا سننے کے لیے، دو آنکھیں ہیں ان کے مطابق دیکھنے کے لیے، پاؤں ہیں اُن کے نقش قدم پر چلنے کے لیے، ہونٹ ہیں انھیں دعائیں دینے کے لیے اور میرے پاس دو ہاتھ ہیں ان کے جوتے اٹھانے کے لیے۔ ”

ڈاکٹر جمیل احمد عدیل نے فرمایا کہ: ”ضیاء ایک کثیر الطبع انسان ہیں۔ ان کے وجود کے اندر ایک لطافت ہے کہ جو بھی ان کے پاس دوست یا طالب علم جاتا ہے وہ پازیٹیو وائیبز ریسیو کرتا ہے۔ کچھ ایسا مقناؤ، ایک مقناطیسیت کا عمل ہے، کچھ ایسا مزاج ہے جو مخاطبین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔“

دیگر مہمانوں میں ڈاکٹر سعود عثمانی، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، ڈاکٹر امجد طفیل، ڈاکٹر سعید عاصم اور جامعہ پنجاب کے چیف لائبریرین ڈاکٹر ہارون عثمانی صاحب نے بھی ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کی علمی و ادبی خدمات کو سراہا۔
پروگرام میں ضیاء الحسن صاحب کی شریک حیات محترمہ حمیدہ شاہین صاحبہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ان کی علمی سفر اور ذوق مطالعہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر مہمان خاص، جناب اصغر ندیم صاحب نے بھی ان کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا۔ مشتاق احمد خان صاحب نے ”آسماں کے روزن سے“ کے نام سے ضیاء صاحب کو ایک کتاب کا تحفہ پیش کیا جو دراصل ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کے کلام کا انتخاب تھا۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر ضیاء الحسن نے سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے زندگی کے اس اہم موڑ پر اتنی محبت اور عقیدت کو اپنی زندگی کا عظیم اعزاز قرار دیا۔

آخر میں ادارہ زبان و ادبیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد کامران نے اس تقریب کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر ضیاء الحسن صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ان کی ملازمت میں ایک سال کی توسیع کا اعلان کر دیا جسے سن کر طلباء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

Facebook Comments HS