مناہل ملک کا دھندا اور معصوم عوام


اس قوم کا کیا کیا جائے، ملک میں نئے چیف جسٹس کی تعیناتی حکومت کے لئے درد سر بنی ہوئی تھی کہ اس دوران ٹک ٹاکر مناہل ملک کی بلیو ویڈیوز لیک ہو گئیں، قوم ملک کے مستقبل کو چھوڑ کر مناہل ملک کی ویڈیوز کے پیچھے پڑ گئی، میرے دو پیارے دوستوں نے فوراً مناہل ملک کی بلیو ویڈیوز واٹس ایپ پر بھیج دیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ میں نے ایک عرصہ شوبز کی بیٹ کی ہے اس لئے مجھے باخبر رکھنا انہوں نے اپنا اولین فرض سمجھا۔

پھر کیا تھا دوستوں کے ایک گروپ میں 24 نیوز چینل کی خبر کا سکرین شاٹ شیئر کیا کہ ٹک ٹاکر مناہل ملک کی ویڈیوز لیک ہو گئی ہیں تو انفرادی طور پر پیغامات آنے لگ گئے کہ شاہ جی مجھے ویڈیوز بھیج دیں، کئی دوستوں نے تو انتہائی رازداری سے بھی فون کیے اور دھیمی آواز میں کہا شاہ جی مجھے ویڈیوز بھیج دو، میں نے کہا احمقو! شاہ جی ہوں، مجھے مناہل کا ایجنٹ سمجھ رکھا ہے، دفع ہو جاؤ، میں اس گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتا تو پھر پچیس، تیس سالوں کی دوستی کا واسطہ دینے لگ گئے پھر دوستوں کی تکلیف کو سمجھتے ہوئے ان کو ویڈیوز بھیج دیں حالانکہ ان دوستوں میں حاجی اور پانچ وقت کے نمازی دوست بھی شامل تھے

90 ء کی دہائی میں نوائے وقت ملتان سے صحافت کا آغاز کیا تو شوبز کا صفحہ مجھے دیدیا کہ ینگ بلڈ ہے، ملتان میں رہتے ہوئے، شہنشاہ غزل مہدی حسن، نجم شیراز، امجد علی، علی حیدر، جنید جمشید، حمیرا ارشد سمیت نامور فنکاروں کے انٹرویوز کیے تو ان سے گہری دوستی بھی ہو گئی، اس کے ساتھ ساتھ ملتان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے مقامی فنکاروں کے انٹرویوز کرنا شروع کیے، ان کی فوٹوز بنواتا اور شائع کرتا، لڑکیوں کے فوٹو سیشن بھی کرتا اس وجہ سے ملتان کے بازار حسن حرم گیٹ میں آنا جانا بڑھ گیا، اس بازار کی فنکارائیں انٹرویوز اور فوٹو سیشن کے لئے سفارشیں کرانے لگیں تو میں خود کو سید نور سمجھنے لگ گیا، حرم گیٹ آنے جانے سے اس شعبہ کے کلچر کو بہت قریب سے دیکھا جس کا دھرم ہی صرف پیسہ ہے، ملتان کی ایک سٹیج ڈانسر (نام یاد نہیں آ رہا، بہت اچھا رقص کرتی تھی) نے چائے پر بلایا، گپ شپ شروع ہوئی ان کے رسم و رواج پر بات چیت شروع ہو گئی تو اس نے کمال فقرہ کہا کہ ”ہمیں لوگوں کو لوٹنے کی تربیت دی جاتی ہے اور ہمیں ننگا کرنے میں لوگوں کی جاگیریں تک بک جاتی ہیں“ ، یہی ہماری کامیابی ہے پھر ہم جب بوڑھی ہوجاتی ہیں تو اپنی فیملی کی کوئی لڑکی تیار کرتی ہیں پھر ان کو یہ گُر سکھاتی ہیں اور ان کی کمائی کھاتی ہیں۔

ملتان میں پہلا دوست ندیم قریشی بنا تھا، اس وقت صحافت میں نہیں آیا تھا، جب بھی اس کی فیملی میں شادی ہوتی وہ مجھے دعوت دیتا اور پھر رات بھر رقص و سرود کی محفل سے لطف اندوز ہوتا، اس وقت مجرے میں بیہودگی نہیں ہوتی تھی، ایک بار شاہ محمود قریشی کی دولت گیٹ کی حویلی کے ساتھ ہی قریشی فیملی کی شادی تھی اس میں چار لڑکیاں مجرا کر رہی تھیں جن میں سے ایک کی عمر سولہ، سترہ برس ہوگی اس کی کمال کی پرفارمنس تھی، رقص کے نرت بھاؤ بھی جانتی تھی، اس لڑکی کے فن کا گرویدہ ہو گیا اور خوب نوٹ نچھاور کیے ۔ مجرے میں دوست انجم یا شاہ جی کہہ کر پکار رہے تھے، وہ میرے پاس آئی اور کہا کہ آپ کے لئے پنکج ادھاس کی غزل پیش کر رہی ہوں، اس کو میرے نام کا علم ہو گیا تھا اس نے یہ غزل گائی اور پرفارم کیا، اس غزل کا ایک شعر تھا۔

یہی تو ٹوٹے دلوں کا علاج ہے انجم
یہ میرے یار کے جیسے ہی نہ چھوڑی جائے

اس وقت میرے ہاتھ میں جام بھی تھا، اس شعر پر اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے امراؤ جان ادا کے انداز میں گایا اور دل چیر کر رکھ دیا پھر میں نے لمبا گھونٹ بھرا اور بھرپور لطف لیا، مجرے کے بعد ندیم قریشی نے میری ڈیوٹی لگا دی کہ ان کو حرم گیٹ آپ نے اپنی گاڑی میں چھوڑنا ہے رات کے تین بج چکے تھے، حرم گیٹ پہنچے تو اس نے چائے کی دعوت دیدی، رات کے اس پہر میں کون کافر چائے کی دعوت ٹھکراتا، پھر موسم بھی ہلکا ہلکا سرد تھا، میں نے شرط رکھی کہ چائے تم اپنے ہاتھوں سے بنا کر پلاؤ گی۔ وہ ڈریس تبدیل کیے بغیر ہی چائے بنائے لگی، میں سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھ پر پٹو ڈال رہی ہے، ایک بار میں اور ندیم قریشی حرم گیٹ سے گزر رہے تھے کہ تو مجھے اس کی یاد آئی میں نے ندیم سے کہا چیک کرو گھر ہے تو ملتے ہیں، اس کے گھر پہنچے تو دروازہ ہی اس نے کھولا، سو کر اٹھی تھی، جوانی جوبن پر تھی، وہ عمر کے اس حصے میں تھی جب بدصورتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فگر اتنا خوبصورت تھا جیسے کھلتا گلاب، جیسے شاعر کا خواب۔

ڈیڑھ، دو سال بعد ندیم قریشی کا فون آیا، مسیر کی مہندی ہے، تمھاری پسندیدہ طوائف کو بلایا ہے، میں پہنچا تو اس کو دیکھ کر زبردست کرنٹ لگا، دو سال قبل جو اس کا جسم تھا اس سے ڈیڑھ گنا موٹی ہو چکی تھی، سینہ ڈھلک گیا تھا، پیٹ اور کولہے نکلے ہوئے تھے، مجھے دیکھ کر میرے پاس آئی تو پہچان نہ سکا جب اس نے رقاصہ والے انداز میں سلام کیا تو میں اسے دیکھ کر حیران ہو گیا، میں اسے لے کر سائیڈ پر بیٹھ گیا اور پوچھا کہ یہ کیا حال کر لیا ہے تم نے تو اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ پندرہ سال کی عمر میں اس دھندے میں بیٹھی تھی، اب اٹھارہ برس کی ہوں، شاید ہی کوئی ایک رات ایسی ہو جب بک نہیں کی گئی۔ میں نے کہا کہ اتنا لالچ کیوں کرتی ہو تو اس نے کہا لالچ میں نہیں میری ماں کرتی ہے، ہمارا دھندا ہی ایسا ہے، ہمارا سب کچھ پیسہ ہے، مجرے میں گاہک بناتی ہیں اور پھر ان کو راتوں کو خوش کر کے دن رات پیسہ اکٹھا کرتی ہیں، پیسہ دینے والے بہت کچھ کراتے ہیں اور ہمیں کرنا پڑتا ہے، اس کی باتیں سن کر سوچنے لگا کہ پیسہ اس دھندے میں کتنا اہم ہے کیونکہ جوانی گزرنے کے بعد کوئی ان کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔

شوبز کی رپورٹنگ میں پھر بہت سی کہانیاں سنیں تو سمجھ آ گئی کہ یہ ان کا معمول کا کام ہے، پیسہ اور شہرت ان کا ایمان ہے، شوبز کی رپورٹنگ میں غریب گھرانوں کی لڑکیاں بھی اس میدان میں کودتے ہوئے دیکھیں، میرے دیرینہ دوست گلوکار کاشف نے ایک لڑکی سے ملوایا کہ اس کا سیشن چھاپ دو، یہ ماڈلنگ میں آنا چاہتی ہے جب اس سے ابتدائی معلومات لیں اور پھر اسے سمجھایا کہ اس گند میں کیوں پڑ رہی ہو تو اس نے کہا کہ میری قربانی سے گھر کی بھوک تو ختم ہو جائے گی، میں نے کہا کہ عزت بھی تو جائے گی تو اس نے کہا عزت کا کیا ہے، آج کل عزت اسی کی ہے جس کے پاس پیسہ ہے، ہالیڈے ان کی ایک جی آر او نے بھی فوٹو سیشن کے لئے رابطہ کیا تو میں نے کہا کہ اچھی خاصی باعزت ملازمت ہے کیوں اس طرف آ رہی ہو تو اس نے جواب دیا، ایک ماہ محنت کرو، کرایہ خرچ کرو، شوبز میں تو ایک رات میں اتنے پیسے مل جاتے ہیں، اس کے اصرار پر اس کا فوٹو سیشن کیا اور فیملی میگزین میں شائع کیا، وہ بھی غریب گھر کی لڑکی تھی اور اپنی غربت دور کرنے کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار تھی، ایک ملاقات میں اس نے کھل کر کہہ دیا کہ کوئی اچھا آدمی مل جائے تو سارے خرچے پورے کردے گا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور پھر ایسی لڑکیوں کو پیسہ کمانے کے وسیع ذرائع ملنے لگے، ٹک ٹاک نے اس کو عروج پر پہنچا دیا ہے، بہت سی ٹک ٹاکرز لڑکیاں غریب گھرانوں کی ہیں، ان کے لئے ٹک ٹاک پیسہ کمانے کا آسان ذریعہ ہے، مناہل ملک جب ٹک ٹاک پر نئی آئی تو وہ گانوں پر پرفارم کرتی تھی، اس کا فٹ ورک اچھا تھا، ٹائمنگ بھی اچھی تھی، میں اسے کمنٹس میں مفت مشورے دیتا تھا کہ ”دھندے“ میں نہ پڑنا، اداکاری کی طرف جاؤ، شہرت پاؤ اور کامیاب رہو گی مگر اچھا مشورہ کون مانتا ہے، پھر مناہل ملک ”دھندے“ میں پڑ گئی، اس کی پہلے بھی بلیو ویڈیوز لیک ہو چکی ہیں۔

مناہل ملک کا حال بھی اس طوائف جیسا ہے جس کا جسم دو سال میں ہی ختم ہو گیا تھا اگر مناہل کی دو سال قبل کی ویڈیوز دیکھیں تو بہت سمارٹ اور خوبصورت جسم تھا مگر اس کی ”محنت“ نے اس کا جسم کم عمری میں ہی تباہ کر دیا اگر نہیں یقین تو اس کی بلیو ویڈیو دیکھ لیں، ملتان کی ایک معروف ٹک ٹاکر جو دبئی میں رہتی ہے اسی فیلڈ سے وابستہ ہے اس نے مناہل ملک کی ویڈیوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مناہل فٹے منہ تیرا، اپنا فگر ہی تباہ کر لیا ہے، تو تو چھ بچوں کی ماں لگتی ہے، بھولا ریکارڈ نے جو تبصرہ کیا وہ یہاں قابل تحریر ہی نہیں ہے۔

جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے موقع پر ملک میں شدید ہلچل تھی عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا کیونکہ مناہل ملک کی بلیو ویڈیوز نے اسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا تھا، ہر نتھو خیرا، چھوٹے سے چھوٹا یوٹیوبر مناہل ملک کی ویڈیوز پر تبصرہ کر رہا تھا، دلچسپ بات ہے کہ وہ ویڈیو کا آغاز یوں کرتے کہ مناہل ملک کی نازیبا ویڈیوز لیک ہو گئی ہیں، پہلے یہ ویڈیو دیکھیں، اس ویڈیو میں ظاہر ہے ہلکا پھلکا بوس و کنار ہی دکھایا جاسکتا تھا پھر وہ اخلاقیات کا درس دینے لگ جاتے، یہ ویڈیو دیکھ کر ہنسی آتی تھی کہ یہ بھی تو ایک طرح کا دھندا ہی ہے کہ تاکہ ویوز مل سکیں۔

ویڈیوز لیک ہونے پر مناہل ملک اور ایس کے ٹرپل سیون نے نئی ڈرامے بازی شروع کردی، ایس کے کو تو ڈوب کر مر جانا چاہیے تھا مگر وہ صفائیاں دے رہا تھا کہ مناہل نے مزید پیسے لینے کے لئے ویڈیوز لیک کی ہیں، پوڈکاسٹ کرنے والے مناہل کے انٹرویوز کرنے لگے جس میں مناہل نے خود کو پاک باز ثابت کرنے کی کوشش کی اور کہا میری فیملی شدید صدمے میں ہے، میں نے خودکشی کی بھی کوشش کی ہے یہ باتیں کرتے ہوئے اس کے چہرے پر کوئی کرب یا دکھ نہیں تھا کیونکہ یہ پوڈ کاسٹ بھی ایک طرح کا دھندا ہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ویوز مل سکیں۔

اس قوم کو بھی شاباش ہے کہ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ مناہل ملک کے ساتھ ہونے والی اس مبینہ زیادتی کی مذمت کرنا زیادہ اہم ہے، حد تو یہ ہے لوگوں نے اپنی اور مناہل کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں میں مناہل ملک کا ساتھ دینے کو تیار ہوں جس پر اس طوائف کا فقرہ یاد آتا ہے کہ ہمیں ننگا کرنے میں لوگوں کی جاگیریں بک جاتی ہیں ِ اور یہ کیا خواب دیکھ رہے ہیں، شوبز کے دشت کی سیاحی میں کافی عرصہ گزارا جس سے مجھے کوئی صدمہ نہیں ہوا کہ ایک لڑکی کی عزت کو اچھالا گیا ہے اور اسے بدنام کیا گیا ہے کیونکہ دھندے کا ایک مقبول محاورہ ہے ”دھندے میں بیٹھ گئی تو پھر لمبا کیا یا چھوٹا کیا“ ، عوام چسکے نہ لیں کیونکہ یہ گندا تو ہے مگر دھندا ہے۔

Facebook Comments HS