اسرائیل کا شمالی غزہ میں ہولوکاسٹ


پچھلے ساڑھے تین ہفتوں سے اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی افواج کے اس محاصرے نے یہاں محصور آبادی کے لئے کسی بھی طرح کی انسانی امداد کی فراہمی بند کر رکھی ہے یوں یہاں موجود لاکھوں فلسطینی بھوک کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ اس محصور علاقے سے آنے والی خبریں انتہائی محدود ہیں کیونکہ جب سے اسرائیلی افواج نے غزہ پر فوجی آپریشن شروع کیا ہے یہاں صحافیوں کا داخلہ بند ہے۔ لیکن ان چند خبروں کو سامنے رکھتے ہوئے جو غزہ سے آ رہی ہیں دو معاملات بہت واضح ہو جاتے ہیں۔

اسرائیلی افواج کی بمباری، ٹارگٹ کلنگ، ڈرون حملے روز کا معمول ہیں جس کے نتیجے میں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں عورتیں بچے اور بوڑھے و جوان سبھی مارے جا رہے ہیں۔

طبی امداد، پانی، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی پچھلے پچیس روز سے مستقل بند ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بھوک اور بیماریوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی غزہ کی آبادی کو انخلا کا کہہ رکھا ہے اور وہ ہمارے بتائے ہوئے رستوں کے ذریعے جنوب کی طرف نقل مکانی کر سکتے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ جو کوئی ان بتائے ہوئے راستوں پر جنوب کی طرف جاتا ہے وہ راستے میں ہی اسرائیلی افواج کی شیلنگ سے مارا جاتا ہے۔ سڑکیں اور گلیاں ایسے شہریوں کی لاشوں سے بھری ہوئی ہیں۔ شمال کے لوگ ایک بار نہیں پانچ بار اسرائیلی افواج کے حکم پہ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ مگر اب کی بار اسرائیل کی فوج کی حکمت عملی یہ ہے کہ محصور رہو اور بھوک سے مرو اور اگر یہاں سے نکلو گے تو ہماری شیلنگ کے ہاتھوں مارے جاؤ گے۔ جنگ کے متاثرین ان لوگوں کو ایک بار پھر دربدری کا سامنا ہے اور اب کی بار فلسطینی یہ سمجھ چکے ہیں کہ اسرائیل کا ارادہ انہیں یہاں سے مکمل طور پر بے دخل کرنا ہے۔

اسرائیل کے معروف اخبار ہارٹز کے مطابق اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب یہ کوئی شک نہیں رہا کہ اسرائیل غزہ میں موجود فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور اس کے اس فوجی آپریشن کا مقصد اس خطے کو فلسطینیوں سے پاک کرنا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پہ جاری یہ ستم نہ روکا گیا تو ناصرف لاکھوں معصوم انسانی جانیں جائیں گی بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ جنم لے گا جو پہلا نکبہ بھلا دے گا۔

یہاں اس شک کو بھی تقویت پہنچتی ہے کہ شاید اسرائیل اب جرنیلوں کے اس پلان پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ جسے اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل گیورا ای لینڈ نے تجویز کیا ہے۔ اس پلان کے مطابق اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کرے گا اور وہاں انتہا پسند یہودیوں کی بستیاں دوبارہ آباد کی جائیں گی۔ چار روز پہلے اسرائیل حکومت کی کابینہ کے وزرا اتمار بن گویر اور سموٹرچ نے ری سیٹل غزہ کے نام سے ایک کانفرنس منعقد کروائی تھی جس میں وہ تمام صیہونی شامل ہوئے تھے جو غزہ سے فلسطینیوں کو یکسر ختم کر کے وہاں یہودی بستیاں تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل 1967 کی چھے روزہ جنگ میں غزہ پہ قابض ہوا تھا اور سال 2005 تک وہاں اسرائیل کی غیر قانونی بستیاں موجود رہی تھیں۔

نسل کشی ایک عالمی جرم ہے۔ یہ جنگی جرائم میں آتا ہے اور اسے انسانیت کے خلاف وحشیانہ جرم کے طور پر مانا جاتا ہے۔ نیتن یاہو کی اپنی کابینہ غزہ میں نسل کشی اور تباہی کے درپے ہے۔ گزشتہ سال حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیلی وزرا غزہ کو مٹا دو اور ایک اور نکبہ شروع کرو جیسی وحشیانہ مہم چلائے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ نکبہ وہ دن ہے جب 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے وقت لاکھوں فلسطینیوں کو تاریخی فلسطینی علاقوں سے زبردستی بے دخل کر دیا گیا تھا اور ان علاقوں پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی تھی۔ بہت سے اسرائیلی تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ عالمی میڈیا کو ہمارے وزرا کے بیانات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ اسرائیلی ریاست میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ دعویٰ ہے کہ ان سیاسی عزائم کا مقصد کوئی جرم سرانجام دینا نہیں ہے۔

لیکن غزہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کو دیکھا جائے تو اب یہ عزائم اور ارادے حقیقت میں بدلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسرائیلی فوج قدیم صیہونی تصورات کے مطابق فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کرنے میں مصروف ہے اور اب تو خود اسرائیل کے معاشرے میں اس پالیسی کے ناقدین کے لئے زیادہ جگہ نہیں بچی۔ یوں لگتا ہے کہ اسرائیلی معاشرے کی ایک بڑی تعداد اس نسل کشی کی مکمل حامی ہے۔ سیاست اور سماج کے ہر ہر پہلو میں ایسے لوگ بڑی اکثریت میں ہیں جو انسانیت کے خلاف، فلسطینیوں کے خلاف ان جرائم کے بڑے حامی و مددگار نظر آتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہر معروف امریکی دانشور پروفیسر جے جے مئیر شمیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو نازی جرمنی کی صورت ڈھالتی جا رہی ہے اور اب کی بار ان کے ہاتھوں ہالوکاسٹ کا شکار فلسطینی عوام ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب لوگ ہٹلر کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو کو یاد رکھیں گے اور نازی جرمنی کے ساتھ صیہونی اسرائیل کا نام لیا جائے گا۔ دنیا فلسطینی ہالوکاسٹ کی کہانیاں اسی طرح یاد رکھے گی جیسے دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ کے یہودیوں کی کہانیاں ہالی ووڈ فلموں کا پسندیدہ موضوع ہے۔ یہ ہالوکاسٹ بہت اچھی طرح سے ڈاکیومنٹ ہو رہا ہے۔ ہم اسرائیلی ریاست کے سیاسی رہنماؤں کے عالمی عدالتوں میں ٹرائل ہوتے دیکھیں گے اور شاید اب یہ وقت زیادہ دور نہیں ہے۔

Facebook Comments HS