شرجینہ کے بلڈ پریشر کا علاج کیا تھا؟


صاحب آپ نے کہا ڈرامے کو ڈرامہ ہی رہنے دیں، حقیقت نہ بنائیں۔ بجا فرمایا آپ نے!
ایک سوال پوچھیں آپ سے؟ آپ کو وہی ڈرامے بھاتے ہیں نا جو زندگی سے قریب لگتے ہوں، جنہیں دیکھ کر آپ بے اختیار سوچیں۔ ارے یہ تو میں ہوں۔ یہ سب کچھ تو میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ڈرامے کے کردار آپ کے گھر کے افراد بن جائیں۔ وہ آپ کی زندگی میں شامل ہو جائیں۔ ایسا ہو گا تو آپ ڈرامے کو سر پہ اُٹھائیں گے نا۔ ساتھ بیٹھ کر ہنسیں گے اور بے چین ہو کر روئیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سوچئیے اس میں پیش آنے والے واقعات میں جھول کیوں ہو؟ بجائے درد محسوس ہونے کے ہنسی کیوں آئے کہ یہ کیا بونگی ہے؟ سین مصنوعی کیوں لگنے لگیں؟

دنیا بھر میں فلم اور ڈرامہ نگار کچھ بھی لکھنے سے پہلے ان واقعات کے متعلق معلومات اکٹھی کرتے ہیں کہ یہ سین کہاں فلمایا جائے گا اور کیسے کیا جائے گا؟ اور اگر ایسا کرنا آپ کو غیر ضروری لگے تو پھر ہیرو ہیروئن کو ہسپتال میں دکھانا بھی ضروری نہیں۔ کہیں بھی چارپائی کے آگے پردہ لگا لیجیے اور کہیے کہ یہی ہسپتال ہے۔ بھئی ڈرامہ ہے نا۔ اصلی لوکیشن پہ جانے کی ضرورت کیا ہے؟

سچ پوچھئے تو ہمیں اپنی پچھلی تحریر لکھنے کے بعد ایسا لگا کہ ڈرامے کے ذریعے قوم کو وہ کچھ سمجھایا جا سکتا ہے جو ہم پچھلے پانچ برس سے لکھ رہے ہیں اور لگتا نہیں کہ سوائے کچھ مداحین کے، کوئی پڑھتا ہو یا پڑھ کر سیکھتا ہو۔

حمل میں ہونے والا ہائی بلڈ پریشر جان لیوا ہو سکتا ہے، زندگی لے لیتا ہے اور دنیا بھر میں ماں اور بچے کی موت کی وجوہات میں سر فہرست ہے۔ سو کیا اس ڈرامے کے ذریعے سب خواتین کو یہ پتہ نہیں چل جانا چاہیے تھا کہ ہائی بلڈ پریشر میں حاملہ عورت کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟ کیا ہونا چاہیے کیا نہیں؟ ڈرامہ بھی چلتا اور کچھ عقل بھی آ جاتی۔ لیکن ڈرامے کے چیدہ چیدہ سین دیکھ کر پتہ چلا کہ بات اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھی کہ بی بی آپ کا بلڈپریشر بہت ہائی ہے سو جان کو خطرہ ہے۔

سب سے پہلے جان لیجیے کہ اگر خاتون کو حمل شروع ہونے سے پہلے ہائی بلڈ پریشر نہ ہو تب پہلے پانچ ماہ میں ظاہر ہونے والا بلڈ پریشر خطرناک نہیں ہوتا اگر ساتھ میں کوئی اور بیماری نہ ہو۔ بیس ہفتے کے حمل کے بعد ہونے والے ہائی بلڈ پریشر کا آغاز حمل کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب بھی اس کی تشخیص ہو عورت کو گھر بھیجنے کا فیصلہ تب کیا جاتا ہے جب بلڈ پریشر معمولی سا بڑھا ہوا ہو۔ بہت زیادہ بلڈ پریشر والی خاتون کو اسی وقت ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے، بلڈ اور یورین کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں، دوائیں شروع کروائی جاتی ہیں اور بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے بعد ڈسچارج کیا جاتا ہے۔ گھر بھیجنے پہ بھی روزانہ بلڈ پریشر چیک کرنے کا کہا جاتا ہے اور بلڈ پریشر کی وجہ سے ہونے والے سر درد یا چکر آنے وغیرہ کی صورت میں ہسپتال آنے کو کہا جاتا ہے۔

اگر بلڈ پریشر کنٹرول میں نہ آئے اور بلڈ ٹیسٹ اور پیشاب ٹیسٹ ٹھیک نہ آئیں تو حمل ختم کر دیا جاتا ہے۔ جی ہاں، درست پڑھا آپ نے، ماں کی زندگی پہ کبھی بھی بچے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ مصنوعی درد لگوا کے بچہ پیدا کروا لیا جاتا ہے چاہے وہ بچنے کی عمر میں ہو یا نہ ہو۔ فارمولا یہ ہے کہ ماں سلامت، بچے بہت۔

جو بلڈ پریشر بیس ہفتے یعنی پانچ ماہ کے حمل سے پہلے ہو وہ حمل کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ وہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اور حمل کے ابتدائی ہفتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ بلڈ پریشر ایک دم بہت ہائی نہیں ہوتا اور اگر ہو تب بھی ہسپتال میں داخل کر کے مزید تحقیق کی جاتی ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بیس ہفتے بعد شروع ہونے والا ہائی بلڈ پریشر ان عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے جو پہلی بار حاملہ ہوں۔ بچہ ان کے جسم کے لیے ایک غیر چیز ہے سو جسم کا ری ایکشن بیس ہفتوں کے بعد ہائی بلڈ پریشر کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ تب تک خطرناک نہیں ہوتا جب تک گردے، آنکھیں، دل اور دماغ پہ اثر نہ ہو۔ سر درد، چکر آنا، پاؤں سوجنا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنا اس کی علامات ہیں۔

اس ڈرامے میں ایک اور غلط فہمی یہ دکھائی گئی ہے کہ شرجینہ کا بلڈ پریشر ٹینشن یا انگزائٹی سے بڑھ گیا ہے۔ سٹریس بلڈ پریشر کو معمولی زیادہ کر سکتا ہے مگر خطرناک حد تک بلڈ پریشر کا بڑھنا، حمل کی وجہ سے ہی ہوتا ہے خاص طور پہ پہلے حمل میں۔

آنول اکھڑنا جسے placental abruption کہتے ہیں، چوبیس ہفتے کے حمل کے بعد ہوتی ہے اور گرنے یا چوٹ لگنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بستر پہ پڑی عورت کی آنول بھی اکھڑ جائے گی اگر بلڈ پریشر بہت ہائی ہو۔ اگر آنول اکھڑ جائے اور بچہ پیٹ میں ختم ہو جائے تب اسے پیدا کروایا جاتا ہے۔ اگر حالت خطرناک نہ تو نارمل زچگی اور اگر ڈرامے میں دکھائی جانے والی صورت حال تب سیزرین کیا جاتا ہے۔ ڈی اینڈ سی کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

ویسے ہم نہیں جانتے کہ ہمیں آپ کو پڑھانے کا شوق کیوں ہے؟ شاید وہ بچیاں یاد آ جاتی ہیں جو پاکستان کے دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں اور کسی ڈاکٹر تک نہیں پہنچ پاتیں۔ ایسے ڈرامے دیکھ دیکھ کر صرف یہ سمجھ سکتی ہیں کہ شوہر ہاتھ پکڑے پاس بیٹھا ہونا چاہیے۔ تبھی وہ بچ سکیں گی۔ ویسے اس چاہ میں کوئی برائی نہیں بشرطیکہ شوہر بھی جانتا ہو کہ کرنا کیا ہے؟ صرف ہاتھ پکڑ کر بیٹھے رہنے سے کام نہیں چلے گا۔

Facebook Comments HS