کیا یحییٰ سنوار کے بعد غزہ جنگ ختم ہو جائے گی؟


حماس کے رہنما یحیی سنوار کی شہادت پر عالمی رہنماؤں کا غیر معمولی ردعمل دراصل غزہ کے معصوم شہریوں کے خلاف جاری بہیمانہ مظالم کو چھپانے کی مساعی کے سوا کچھ نہیں تھا، دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ کے عمر رسیدہ صدر جو بائیڈن نے یحییٰ سنوار کے قتل کو اسرائیل کے لیے ”ریلیف“ اور غزہ جنگ کے خاتمہ کی طرف قدم قرار دے کر پوری دنیائے انسانیت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، حیرت انگیز طور پہ مغربی میڈیا غزہ کے مظلوم شہریوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی نشاندہی کے برعکس یحییٰ سنوار کے ”شخصی مظالم“ کے افسانے سنانے میں مشغول نظر آیا۔

روس کے سوا مغربی ممالک کے تمام سربراہوں نے بیک آواز ہو کر اسرائیل کے اس فریب کارانہ دعویٰ کی تائید کر ڈالی کہ یحییٰ سنوار کو مار کر نتن یاہو نے اُس غزہ جنگ کے خاتمہ میں حائل رکاوٹ کو ہٹا دیا، جس میں اسرائیلی فورسز نے نہایت سفاکی کے ساتھ 42,000 فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں، بچے اور عام شہری شامل ہیں گویا مغربی اشرافیہ اِسی رزمیہ بیانیہ سے غزہ کے انسانی المیہ کو جارحیت اور اسرائیلی مظالم کو حق دفاع جیسی اصطلاحات میں لپیٹ کر دنیا کو مظلوموں سے نفرت اور ظالموں سے محبت کرنا سکھانا چاہتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یحییٰ سنوار سمیت حماس کی قیادت نے بارہا کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ معصوم شہریوں کی ہلاکتیں رکنے کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کے بدلے سینکڑوں فلسطینی اسیران کی رہائی ممکن بنائی جا سکے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہمیشہ ”مکمل فتح“ تک لڑائی جاری رکھنے پہ اصرار جاری رکھا۔

امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے وسکونسن میں انتخابی مہم کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”یحییٰ سنوار کی موت سے قطع نظر جنگ کے خاتمہ کے لیے امریکی انتظامیہ کی امید نیتن یاہو کے اس دعویٰ کے بالکل برعکس تھی کہ غزہ میں اسرائیل کا“ مشن ”ابھی مکمل نہیں ہوا“ یعنی امریکہ خود بھی ابھی تک اس وہم باطل میں مبتلا ہے کہ یہ ناقابل یقین تشدد، معصوم فلسطینیوں کی خوفناک اموات اور یہ تباہی اچانک مشرق وسطیٰ میں امن سے معمور کسی جنت کا دروازہ کھول دے گی، ہیرس نے پیش گوئی کی کہ سنوار کے قتل کے ساتھ، جنگ زیادہ پُرتشدد ہو کر پھیلتی اور گہری ہوتی جائے گی تاہم جنگی حربہ کے طور پر مغربی اشرافیہ اور اسرائیلی اب بھی مصر ہیں کہ یحییٰ سنوار ان تمام مقاصد کے حصول میں ایک ناقابل تسخیر رکاوٹ تھے اور وہ رکاوٹ اب باقی نہیں رہی۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن، الفتح نے کہا ہے کہ یحیی سنوار کی شہادت کے باوجود اسرائیل ہر حال میں فلسطینیوں کا قتل عام اور نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے گا تاہم اپنی آزادی کے لئے آواز اُٹھانے والے مظلوموں کے خفیہ اور کھلا قتل عام اور ریاستی دہشت گردی پہ مبنی اسرائیلی پالیسی ہمارے لوگوں کی آزادی کے جائز حقوق کے حصول کی آرزو کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو گی۔ غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل حیا نے سنوار کو ثابت قدم، صلح جُو، بہادر اور نڈر مجاہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نہایت دلیرانہ انداز میں قومی آزادی کے لیے ہمارے موقف کی حقانیت ثابت کرنے کی خاطر سچی شہادت دی، اس نے اپنے اُجلے کردار سے حق کا سر بلند رکھا اور زندگی کے آخری لمحات تک ظلم و نا انصافی کے خلاف مزاحمت کر کے مسلمانوں کی نوخیز نسلوں کو عزیمت کی راہ دیکھا گئے، مجرم دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ مزاحمت کے عظیم قائدین مثلاً سنوار، ہانیہ، نصر اللہ، العروری اور دیگر کو قتل کر کے وہ مزاحمت کے شعلے کو بجھا سکتا ہے یا انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتا ہے تو وہ فریب میں مبتلا ہے۔

مغربی ماہرین کہتے ہیں کہ حالیہ اسرائیل، حماس جنگ کے دوران غزہ میں شہریوں پر شدید بمباری کے بعد فلسطینی اب اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکیں گے بلکہ بارہ ماہ گزر جانے کے باوجود تاحال غزہ کی ہلاکتوں اور تباہی میں کوئی کمی لانے کی بجائے اسرائیل نے تنازعہ کو مغربی کنارے تک پھیلا کر تازہ حملوں میں مزید 700 سے زیادہ فلسطینی مار دیے، لبنان اور ایران میں اس کے بڑھتے ہوئے حملوں سے یہ تنازعہ زیادہ گہرا ہوتا جائے گا۔ پچھلے 12 مہینوں میں اسرائیلی فوج نے جن 42,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا، اُن میں 17,000 سے زیادہ خواتین و بچے، 287 امدادی کارکنان، 138 صحافی اور میڈیا ورکرز بھی شامل ہیں، اموات میں اُن لوگوں کا شمار نہیں کیا گیا، جو غزہ کی اُن دو تہائی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں فضائی حملوں سے تباہ کر دیا گیا۔ انسانی المیوں سے لبریز 12 ماہ کی اِس جنگ کی صرف ایک جھلک یہ ہے کہ 25 ستمبر کو اسرائیل نے غزہ کو 88 لاشوں پر مشتمل ایک ٹرک واپس بھیجا جس میں لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکتی تھی۔ اسرائیل اس گمراہ کن عقیدے میں مبتلا ہے کہ وہ صحافیوں کی رسائی محدود کر کے دنیا سے اپنے اِن مظالم کو چھپا سکتا ہے، اس نے غزہ میں باہر کے لوگوں کو آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں دی، جس سے واقعات کے بارے میں فلسطینی موقف اور ہلاک ہونے والوں کے درست اعداد و شمار کے علاوہ ہولناک بمباری سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا ممکن نہیں رہا۔

بینجمن نیتن یاہو نے حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے قتل کو جنگ کا ایک اہم مقصد قرار دے کر سنوار کے ٹھکانے کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات ملنے پر عین مطابق بم استعمال کرنے کے بجائے، اسرائیلی فوج سے دانستہ 2,000 پونڈ یعنی 900 کلوگرام بم استعمال کرائے، جس سے سینکڑوں بے گناہ فلسطینی شہید اور زخمی ہو گئے۔ یہی طریقہ کار گزشتہ ایک سال کے دوران کئی بار دہرایا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ غزہ کے شہریوں پر 7 اکتوبر کے اسرائیلی حملوں کے بعد تقریباً تئیس لاکھ آبادی گھروں سے بے گھر ہو چکی ہے، جنگ کے آغاز پر اسرائیل نے غزہ کو ناقابل رہائش صحرا میں بدلنے اور فلسطینیوں کے بارے میں جو غیر انسانی الفاظ استعمال کیے تھے، اسرائیلی فوج نے اسی طرح سفاکی کے ساتھ غزہ کی پٹی کو ناقابل رہائش بنا کر چھوڑا یعنی سنگین انتباہات کو عملی شکل دے دی گئی۔ غزہ میں اس طرح کے مظالم سے بچنے کی خاطر نقل مکانی میں کامیاب ہونے والے رہنماؤں کے خلاف مغربی کنارے اور لبنان میں بھی اسی طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہیں انہیں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں کیمپوں اور قصبوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیا۔

ہیگ کی عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے کے اخراج کے ساتھ اسرائیلی استثنا کے خاتمہ کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ 20 مئی کو B ’Tselem کی پریس ریلیز سے دنیائے انسانیت کو کچھ خوشی ملی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے فیصلہ سازوں کے لیے استثنا کا دور ختم ہو گیا مگر یہ اعلان بھی جھوٹی امید ثابت ہوا۔ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے خلاف دہائیوں تک انسانی حقوق کی لاحاصل جنگیں لڑنے کے باوجود ایک بار پھر عالمی عدالت انصاف سمیت مغرب کی مہذب دنیا نے اسرائیل کو مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کر کے پوری نوع انسانی کو مایوسیوں کیا۔ لاریب، اسرائیل نے پچھلے 76 سالوں میں اکثر یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو ایسے صدمات سے دوچار رکھا جو کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے بلکہ فلسطینیوں کے قتل عام کو محفوظ یہودی ریاست کو برقرار رکھنے کا جواز اور اسرائیلی نوجوانوں کو اچھے فوجی بننے اور مشقوں کو جاری رکھنے کے لیے تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسرائیلی پروفیسر نوریت پیلڈ الہانان نے 2010 کے مطالعے میں اسرائیلی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتابوں میں قتل عام کی قانونی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے اس امر پہ مایوسی کا اظہار کیا کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ اسرائیلی آبادی بالآخر بیدار ہو کر اِس نقصان کو تسلیم کرے گی جو اس نے ماضی اور حال میں فلسطینیوں کو پہنچایا۔ مئی میں پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے سے پتا چلا کہ 39 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کا فوجی ردعمل تقریباً درست تھا، جب کہ 34 فیصد نے کہا کہ یہ حد سے متجاوز نہیں، صرف 19 فیصد نے سوچا کہ یہ بہت آگے جا چکا ہے چنانچہ ایسے عوام کے ہوش میں آنے کا امکان بعید تر لگتا ہے اور نہ ہی یہ امید ہے کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے لیے حمایت کی لہر جلد ہی کسی وقت کم ہو جائے گی یا یہ کہ امریکی حکومت یہ دیکھنا شروع کر دے گی کہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت، اسرائیل کی خاطر خود کو شکست سے دوچار کرنے کے علاوہ نقصان دہ اور مہنگی بھی ہے۔

مندرجہ بالا تمام تر مظالم کے باوجود، پھر بھی یہ تلخ حقیقت برقرار رہے گی کہ فلسطینی اس معاملے کی جڑ ہیں۔ 1967 میں پہلی فوجی کامیابی کے بعد ، اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان نے نہایت غرور کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ ”اب ہم ایک سلطنت ہیں“ مگر 57 سال بعد بھی اسرائیل امن حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ اس نے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے بارہا انکار کیا۔

Facebook Comments HS