فیض کے والد لندن کیوں گئے تھے؟
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ فیض احمد فیض اردو زبان کے محبوب ترین شاعر ہیں۔ انہوں نے طعن و تشنیع کے خاردار جنگل میں راستہ نکال کر مقبولیت کی بلندیوں پر سفر جاری رکھا۔ نا مساعد حالات میں سے راستہ نکالنے کا ہنر انہوں نے اپنے والد سے ورثہ میں پایا تھا۔
ان کے والد سلطان محمد خان صاحب کا تعلق ضلع سیالکوٹ کے گاؤں کالا قادر کے ایک نہایت غریب گھرانے سے تھا۔ بچپن میں سکول جانے کی بجائے انہیں گاؤں کے ریوڑ چرانے پڑتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس سے وقت بچا کر کچھ نہ کچھ وقت سکول میں گزارنا شروع کیا اور ایک استاد کی توجہ سے انہیں امتحان دینے کی اجازت مل گئی اور اور وہ سرکاری وظیفہ کے حقدار ٹھہرے۔
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لئے لاہور آ گئے۔ اس دوران ان کا قیام ایک مسجد میں تھا اور وہ ریلوے سٹیشن پر محنت مزدوری بھی کرتے تھے۔ اس دوران ایک جمعہ کے موقع پر ہند شریف مسجد میں ان کی ملاقات افغانستان کی با اثر شخصیت سردار محمد خان صاحب سے ہوئی۔ وہ ان کی قابلیت سے بہت متاثر ہوئے۔ سردار محمد خان صاحب نے افغانستان کے حکمران امیر عبد الرحمن کے پاس سلطان محمد خان صاحب کی ملازمت کا انتظام کروا دیا۔ ان کے سپرد امیر عبد الرحمن کی خط و کتابت اور خاص طور پر برطانوی حکومت سے خط و کتابت کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام تھا۔ وہ بہت جلد امیر عبد الرحمن کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور میر منشی کا عہدہ حاصل کر لیا۔ امیر عبد الرحمن نے ان کی شادی اپنی بھانجی سے کروا دی لیکن اس خاتون کا ایک دو سال میں انتقال ہو گیا۔ 1897میں سلطان محمد خان صاحب کو افغانستان چھوڑنا پڑا
ایک روایت تو یہ ہے کہ کابل میں ان کی مخالفت شروع ہو گئی تھی کہ غیر ملکی ہونے کے باوجود اس شخص امیر کا اتنا قرب کیوں حاصل کر لیا ہے۔ اس وجہ سے وہ بغیر امیر عبد الرحمن سے اجازت لئے خفیہ طور پر فرار ہو کر ہندوستان پہنچے۔ اور یہی نظریہ فیض احمد فیض کی سوانح حیات ”پرورش لوح و قلم : فیض حیات اور تخلیقات“ میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ایک اور نظریہ یہ ہے کہ وہ امیر عبد الرحمن کے منشا کے مطابق ہی ہندوستان آئے تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ انہیں برطانوی ہندوستان کی حکومت نے امیر عبد الرحمن کا جاسوس ہونے کے الزام پر گرفتار کر لیا۔ اور لاہور میں قید رکھا اور پھر کہا جاتا ہے کہ کابل میں امیر عبد الرحمن کی ذاتی معالج لیلیاس ہیملٹن (Lallais Hamilton) نامی انگریز ڈاکٹر کی سفارش پر انہیں رہا کیا گیا۔
اس کے بعد سلطان محمد خان صاحب انگلستان چلے گئے۔ اور انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنی شروع کی۔ اس مرحلہ کے بارے میں فیض احمد فیض صاحب کی اسی سوانح حیات میں لکھا ہے :
”اسی اثنا ء میں جب امیر افغانستان کے علم میں یہ بات آئی کہ ان کا گم شدہ منظور نظر لندن پہنچ چکا ہے تو انہوں نے سلطان محمد خان کو سفیر افغانستان کے عہدے کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول بھی کر لیا۔ سفیر کے رتبے کی بدولت انگلستان کے اعلیٰ ترین طبقہ امراء کے گھروں کے دروازے ان کے لئے کھل گئے۔“
(پرورش لوح و قلم : فیض حیات اور تخلیقات مصنفہ لڈملا وسیلیوا ص 5)
تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ دعویٰ درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت انگلستان میں افغانستان کی حکومت کو باقاعدہ آزاد مملکت کی حکومت کا درجہ حاصل نہیں تھا اور نہ ہی افغانستان کو لندن میں اپنا سفیر نامزد کرنے کی اجازت تھی۔ افغانستان کی حکومت کو یہ ہدایت تھی کہ وہ اپنا رابطہ ہندوستان کے وائسرائے سے رکھیں اور افغانستان کی خارجہ پالیسی بھی وائسرائے ہندوستان کی وساطت سے سے چلائی جاتی تھی۔ امیر عبد الرحمن اس انتظام سے سخت نالاں تھے کیونکہ ہندوستان کی برطانوی حکومت سے ان کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔ اور ان کی خواہش تھی کہ وہ براہ راست لندن میں برطانوی حکومت سے رابطہ رکھیں۔ اور انہیں وہاں سفیر رکھنے کی اجازت ہو۔
اس غرض کے لئے امیر عبد الرحمن نے اپنے بیٹے امیر نصراللہ کو لندن کے دورہ پر بھی بھجوایا تھا لیکن اس کے باوجود برطانیہ نے افغانستان سے براہ راست سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور یہی اصرار کیا تھا کہ افغانستان کی حکومت ہندوستان کے وائسرائے سے ہی رابطہ رکھے۔ اس پس منظر میں یہ ممکن نہیں ہے کہ سلطان محمد خان صاحب کو انگلستان میں سفیر کا درجہ حاصل ہوا ہو۔
(A History of Afghanistan Vol 2, by Percy Sykes, Macmillan Press London 1940 p 193-197)
اس پس منظر میں یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ امیر عبد الرحمن کے منشا کے مطابق ہی افغانستان سے نکلے تھے تا کہ انگلستان جا کر وہاں کے با اثر طبقہ کے دلوں میں امیر عبد الرحمن کے لئے نرم گوشہ پیدا کر سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہندوستان کے وائسرائے کی حکومت کو یہ قدم پسند نہیں آ سکتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ انہیں کچھ عرصہ لاہور میں گرفتار رکھا گیا۔ لیکن ایک نو وارد برطانیہ کے با اثر طبقہ سے کس طرح واقفیت پیدا کر سکتا تھا؟ اس کے لئے سلطان محمد خان صاحب نے ایک انوکھا طریق دریافت کیا۔
انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ فری میسن کی خفیہ تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔ انیسویں صدی کے اختتام پر اس تنظیم کو برطانوی شاہی خاندان کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ ولی عہد پرنس آف ویلز انگلستان کی فری میسن تنظیم کے گرینڈ ماسٹر تھے۔ ملکہ وکٹوریہ کے ایک اور بیٹے اور دیگر با اثر شخصیات اس تنظیم کی سرگرم رکن تھیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امیر عبد الرحمن کے کابل پر قبضہ کرتے ہی کچھ برطانوی اہلکاروں نے کابل میں اس تنظیم کی ایک لاج بھی قائم کی تھی۔ چونکہ اس تنظیم کی اکثر کارروائیاں خفیہ رکھی جاتی ہیں، اس لئے اس کے بارے میں طرح طرح کی آراء سامنے آتی رہتی ہیں لیکن یہ تفصیلات اس کالم کا موضوع نہیں ہیں۔
فری میسن تنظیم کا مقامی مرکز فری میسن کی لاج کہلاتا ہے۔ ہر نیا رکن کسی نہ کسی لاج کا رکن بنتا ہے۔ سلطان محمد خان صاحب کو رچرڈ ایو لاج (Richard Eve Lodge) کا رکن بنایا گیا تھا۔ اس لاج کا قیام اکتوبر 1899 میں عمل میں آیا تھا اور سلطان محمد خان اس لاج کے ابتدائی اراکین میں سے تھے کیونکہ 1900 کے جرائد میں ان کے فری میسن ہونے کا واضح ذکر ملتا ہے۔ لندن میں اس لاج کے قیام کا مقصد ہی یہ تھا کہ مشرقی لوگوں کو اس لاج کے ذریعہ فری میسن بنایا جائے۔ اس کے ایک ممبر کپور تھلہ ریاست کے پرنس ہرنام سنگھ بھی تھے۔
یہ حقیقت قابل توجہ ہے کہ سلطان محمد خان صاحب نے اس تنظیم کے ممبر کی حیثیت سے بہت سی دوسری لاجز کی تقریبات میں شرکت کر کے تقاریر کیں اور وہاں ان کا تعارف افغانستان کے ایک وزیر کے طور پر کرایا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر اپریل 1900 میں انہوں نے کیمبرج کی گرینڈ پرنسپلز لاج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں سمیت تمام مذاہب سے وابستہ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف ان کے مذہب کے پیروکار جنت میں جائیں گے جبکہ فری میسن وہ تنظیم ہے جس نے تمام لوگوں کو اپنے دامن میں لیا ہوا ہے۔ اور دنیا میں سلطنت برطانیہ ہی وہ سلطنت ہے جس کے سائے تلے تمام مذاہب کے پیروکاروں سے یکساں اچھا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو یاد دلایا کہ افغانستان کے موجودہ حکمران امیر عبد الرحمن روسیوں کی قید میں تھے اور برطانیہ انہیں اس قید سے نجات دلا کر تخت پر بٹھایا۔ اور امیر عبد الرحمن برطانوی حکومت سے قریبی تعلقات رکھنے کے خواہش مند ہیں۔
اسی طرح انہوں نے مئی 1900 میں سائنٹیفک لاج کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ افغانستان جا کر وہاں فری میسن تنظیم کا آغاز کریں گے۔ اس دور میں فری میسن جرائد سے معلوم ہوتا ہے کہ سلطان محمد خان صاحب 7 جون 1900 کو برطانیہ سے افغانستان کے لئے روانہ ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے ایک تقریر میں اس بات کا ذکر کیا تھا۔ اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ افغانستان میں جا کر ایک فری میسن لاج قائم کریں گے۔ برطانیہ سے رخصت ہونے سے قبل انہوں نے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ولی عہد حبیب اللہ اپنے والد امیر عبد الرحمن سے بھی بڑھ کر برطانیہ کے دوست ثابت ہوں گے۔ حبیب اللہ ان کے شاگرد ہیں اور وہ برطانیہ کا دورہ کرنے کے خواہش مند ہیں اور اگر وہ یہاں آئیں تو یہ ممکن ہو گا کہ برطانیہ کے ولی عہد پرنس آف ویلز خود انہیں فری میسن تنظیم میں شامل کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 1900 میں ہی فری میسن جرائد یہ خبریں شائع کرنا شروع ہو گئے تھے کہ حبیب اللہ فری میسن تنظیم میں شامل ہوں گے۔ اور یہ اظہار ایک سے زائد تقریبات میں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ فری میسن تنظیم کی بدولت برطانیہ اور افغانستان ایک دوسرے کے زیادہ قریب آئیں گے۔ اس طرح سلطان محمد خان صاحب ان تقریبات میں شامل ہوتے جن میں شاہی خاندان کے افراد شرکت کرتے تھے۔
(The Freemason Chronicle 14 April 1900 , p1) ( The Freemason April 7 1900) ( The Freemason May 24 , 1900) (The Freemason Chronicle 19 May 1900 p 231) (The Freemason 19 May 1900 p 300) (The Freemason 26 May 1900 p 319) (The Freemason 2nd June 1900 p 330)
کیا برطانیہ سے واپس آ کر وہ کچھ عرصہ کے لئے افغانستان گئے تھے؟ یہ سوال تحقیق طلب ہے۔ لیکن یہ ذکر ضرور ملتا ہے کہ بعد میں کچھ عرصہ کے لئے افغانستان کے اگلے حکمران امیر حبیب اللہ نے بھی نہیں لندن میں اپنی حکومت کا نمائندہ مقرر کیا تھا۔ کیا بعد میں امیر حبیب اللہ فری میسن تنظیم میں شامل ہوئے؟ اس کا ذکر آئندہ کسی کالم میں کیا جائے گا۔

