یونیورسٹیوں میں کارپوریٹ نظامِ تعلیم


ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم ہونے کے بعد سے پاکستان بھر میں یونیورسٹیوں میں پارٹ ٹائم اساتذہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ TTS Adjunct پروفیسر اور فی لیکچر استاد (دیہاڑی دار) کے تصور نے اساتذہ کو کانٹریکٹ لیبر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اساتذہ ایک ایسے سستے مزدور کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کا استحصال سب سے زیادہ آسان ہو گیا ہے، جنہیں نہ صرف ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے انتظامیہ کی جانب سے خوف اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے مستقبل کے حوالہ سے شدید ترین عدم تحفظ اور غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں۔

کانٹریکٹ اساتذہ کی اکثریت ورک لوڈ میں زیادتی، بے جا کام اور ذہنی دباؤ برداشت کرتے کرتے Demoralize ہوچکے ہیں۔ ایچ ای سی نے جس طرح نیو لبرل ازم اور گلوبل نالج اکانومی کے تحت ایجوبزنس (Edubusiness) کو اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں متعارف کروایا ہے اس نے استاد کو ایک فیکٹری ورکر بنا دیا ہے۔ ایچ ای سی کی پالیسیوں نے یونیورسٹیوں کو ڈی ویلیو کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تعلیم کی مارکیٹائزیشن، پرائیوٹائزیشن، کمرشلائزیشن اور کارپوریٹائزیشن نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بے وقعت اور غیر اہم کرنے کے ساتھ ساتھ غریب طلبہ پر بھی اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر دیے۔ تعلیم کی Commodification بہت تیزی کے ساتھ Depoliticization کو جنم دے گی۔

اکیڈمک فریڈم، تنقیدی شعور، آزادانہ اظہار رائے، سیاسی فکر، جمہوری رویے، تنظیمی رجحان، مشترکہ جدوجہد اور مزاحمت جیسی چیزوں کی ”مارکیٹ ویلیو مضامین“ اور Edubusiness میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ تعلیم کے اصل مقصد کا خاتمہ کر کے اسے محض ایک انڈسٹری کی شکل دے دی گئی ہے جس کے اثرات یقیناً پاکستان کے سیاسی، جمہوری، سماجی اور ثقافتی اداروں پر بھی پڑیں گے۔ ایچ ای سی جو تعلیمی کلچر نافذ کر رہی ہے وہ عوامی جذبوں، رویوں اور تصورات کے بالکل برعکس بلکہ متصادم ہے۔ پاکستان میں ایک ایسے بانجھ نظام تعلیم کو پیدا کیا جا رہا ہے جہاں طلبہ محض کسٹمر، کلائنٹ اور کنزیومر ہوں گے ، جن کی قوت خرید اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ وہ ”تعلیمی پراڈکٹ“ خرید سکتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے اساتذہ اور طلبہ کو ہم آواز ہو کر مشترکہ جدوجہد کے ذریعہ ایک مشترکہ پوزیشن لینی ہوگی۔ اساتذہ اور طلبہ کی ہمہ گیر، متحدہ اور منظم کوششیں ان پالیسیوں کو روکنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS