میرے محترم استاد سر شبیر احمد: تعلیم کی جانب پہلا قدم: پہلی قسط

یہ کہانی 1995 کی ہے جب میں تقریباً پانچ سال کا ہوا اور میرے گھر والوں نے سوچا کہ اب مجھے اسکول بھیجنا چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والدین نے بہت محبت سے میرا پہلا بیگ، کاپیاں اور ایک چھوٹا پنسل بکس خرید کر دیا تھا، جسے دیکھ کر میں خوش تو ہوا لیکن دل میں ایک انجانا خوف بھی تھا۔ اسکول کے خیال سے ہی میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی تھیں اور مجھے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی انجانا خطرہ ہے جو وہاں میرا انتظار کر رہا ہے۔
پہلے دن، میرے دادا ابو مجھے اپنے ساتھ اسکول چھوڑنے لے گئے۔ اسکول کا نام ”گورنمنٹ پرائمری اسکول گاگا“ تھا، جو ایک کھلے علاقے میں واقع تھا۔ اس اسکول کے پیچھے ایک قبرستان تھا، باقی اطراف میں کھیت ہی کھیت تھے، اور اسکول کی چار دیواری بھی نہیں تھی۔ اس ماحول نے میرے خوف میں مزید اضافہ کر دیا۔ میں نے اسکول جانے سے بار بار انکار کیا، مگر میرے دادا ابو مجھے زبردستی لے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اسکول کے پہلے دن پورے وقت روتے ہوئے گزارا۔ میں کلاس میں بیٹھا ہوا تھا، لیکن میرا دل کہیں اور تھا، اور جیسے ہی مجھے موقع ملا، میں اسکول سے بھاگ کر واپس گھر آ گیا۔
شروع میں میرے والدین یہ سمجھتے کہ شاید یہ خوف چند دنوں کی بات ہے اور میں آہستہ آہستہ اسکول کا عادی ہو جاؤں گا۔ لیکن میرا اسکول سے بھاگنا اور وہاں نہ جانے کی کوششیں جاری رہیں۔ مجھے اسکول کا ماحول خوفناک محسوس ہوتا تھا، اور قبرستان کی موجودگی نے میرے دل میں مزید دہشت پیدا کر دی تھی۔ اس وقت میرے لیے اسکول ایک ایسی جگہ بن گیا تھا جہاں جانے کا مطلب تھا خوف اور اذیت۔
کچھ وقت کے بعد میرے والدین کو محسوس ہوا کہ یہ مسئلہ اتنا معمولی نہیں جتنا انہوں نے ابتدا میں سمجھا تھا۔ میری غیر حاضری بڑھنے لگی تو اسکول سے پیغام آنا شروع ہو گئے کہ ”بچے کو اسکول بھیجیں، ورنہ اس کا نام کاٹ دیا جائے گا“ ۔ ایک دن اسکول کے کچھ بچوں کو خاص طور پر گھر بھیجا گیا تاکہ وہ مجھے پکڑ کر اسکول لے آئیں۔ جب میں نے ان بچوں کو گھر کے دروازے پر دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے پولیس کسی مجرم کو گرفتار کرنے آئی ہو۔ میرا دل خوف سے کانپ رہا تھا۔ ان بچوں نے مجھے زبردستی پکڑ کر اسکول لے جانے کی کوشش کی، لیکن میں نے پوری طاقت سے مزاحمت کی۔ میں نے ہاتھ پاؤں چلائے اور اس دوران میرا پاؤں منہ پر لگنے سے دو بچے زخمی ہو گئے۔ آخرکار، وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے میں ناکام رہے۔
اب میرے والدین نے سوچا کہ مسئلہ کچھ اور ہے اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ تب میرے چاچو نے ایک منصوبہ بنایا اور اس مسئلے کے حل کے لیے میرے محترم استاد، سر شبیر احمد سے بات کی۔ محترم سر شبیر احمد، جو کہ محلہ شہاب پورہ جامکے روڈ کے نہایت شفیق اور مہربان استاد تھے، نہ صرف تعلیم دینے میں مہارت رکھتے تھے بلکہ بچوں کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے میں بھی انتہائی ماہر تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کی تربیت اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔
میرے چاچو نے محترم سر شبیر احمد کو میری صورتحال بتائی اور ان سے مدد کی درخواست کی۔ محترم سر شبیر احمد نے میری حالت کو سمجھا اور ایک حکمتِ عملی کے ساتھ مجھے اسکول کی طرف راغب کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے میرے دل سے خوف نکالنے کے لیے ایک نرمی اور محبت بھرا انداز اپنایا۔ چاچو مجھے محترم سر شبیر احمد کے پاس لے گئے۔ انہوں نے نہایت پیار سے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور میرا اعتماد بحال کرنے کے لیے مجھ سے باتیں کرنے لگے۔
انہوں نے مجھے کامیاب لوگوں کی کہانیاں سنانا شروع کیں، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے زندگی میں بلند مقام حاصل کیا۔ محترم سر شبیر احمد نے ڈاکٹروں، پائلٹس، اور انجینئرز جیسے لوگوں کی مثالیں دے کر مجھے بتایا کہ یہ لوگ معاشرے میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی کتنی عزت کی جاتی ہے۔ جب انہوں نے پوچھا کہ میں بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہوں، تو میں نے فوراً کہا کہ میں پائلٹ بننا چاہتا ہوں۔ محترم سر شبیر احمد نے مجھے سمجھایا کہ پائلٹ بننے کے لیے تعلیم کتنی ضروری ہے اور اگر میں دل لگا کر پڑھائی کروں گا تو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہوں۔
ان کی باتوں نے میرے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان کا نرم اور شفقت بھرا لہجہ میرے دل میں اتر گیا۔ مجھے اچانک اسکول سے نفرت کے بجائے محبت محسوس ہونے لگی۔ محترم سر شبیر احمد نے ایک نہایت موثر اور خوبصورت انداز میں میرے دل سے خوف نکال کر مجھے اسکول سے محبت کرنا سکھایا۔ اس دن کے بعد کبھی کسی نے مجھے اسکول جانے کے لیے مجبور نہیں کیا، بلکہ میں خود اپنی مرضی سے اسکول جانے لگا اور کبھی غیر حاضری نہیں کی۔
محترم سر شبیر احمد کی شخصیت میں ایک بہترین استاد کی وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو ایک بچے کی زندگی کو بدل سکتی ہیں۔ ان کی شفقت اور ہمدردی، طلباء کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت، موثر ابلاغ، حوصلہ افزائی، اور مثبت مثال قائم کرنے کی خوبیوں نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ ہمیشہ طلبا کے سوالات کو خندہ پیشانی سے سنتے اور ان کے جوابات دیتے۔ ان کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ بچوں کو نہ صرف پڑھائی بلکہ زندگی کی اہمیت اور کامیابی کے راز بتاتے تھے۔
محترم سر شبیر احمد کی مثالیں میری زندگی میں ہمیشہ رہیں گی۔ انہوں نے مجھے یہ سکھایا کہ کس طرح علم انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور اسے کامیابی کی منزلوں تک پہنچاتا ہے۔ ان کے لیے میرے دل سے ہمیشہ دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ انہیں خوش رکھے اور صحت مند زندگی عطا فرمائے۔ انہوں نے نہ صرف میری زندگی کو بہتر بنایا بلکہ میری شخصیت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
آج، جب کہ میں ایم فل کیمسٹری اور ایم ایڈ کر چکا ہوں اور ایک اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہوں، اکثر میرے دل میں اپنے محترم استاد محترم سر شبیر احمد کی یاد آتی ہے۔ وہ اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور آج کل اپنا کلینک سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان سے ملنے کے لیے میں اکثر ان کے پاس کلینک چلا جاتا ہوں۔ ماشاءاللہ، ان کا چہرہ روشن اور سفید داڑھی ان کی شفیق اور باوقار شخصیت کو بیان کرتی ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی کشش ہے کہ جو شخص بھی ان سے پہلی بار ملتا ہے، وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ ان سے بات کرتے ہوئے دل کو سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے، اور یہ احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی میں جتنی بھی محبت، رہنمائی اور شفقت سے ہمیں نوازا، اس کا اثر آج بھی میرے دل و دماغ میں زندہ ہے۔ ان کے ساتھ یہ لمحے مجھے اپنی زندگی کے اُس دور کی یاد دلاتے ہیں جب انہوں نے میرے اندر تعلیم کی محبت اور خوابوں کو پورا کرنے کا عزم جگایا تھا۔
محترم سر شبیر احمد کی زندگی اور ان کی خدمات میرے لیے ہمیشہ ایک مثال رہیں گی۔ اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے اور انہیں صحت مند زندگی عطا فرمائے۔ ان کی دی ہوئی محبت اور شفقت میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔


