سابقہ فاٹا میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر ایک نظر


صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور اس پیشے سے وابستہ لوگوں کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ صحافی کسی بھی معاشرے کا ستون ہوا کرتا ہے، ان کی مثبت رپورٹنگ معاشرے کی تصویر کو بہتر بناتی ہے۔ ایک اچھے معاشرے کے لئے صحافیوں کا مثبت کردار اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ معاشرے میں منفی سرگرمیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مگر دوسری جانب، اس پیشے سے وابستہ کچھ افراد معاشرے کی تصویر کو بہتر بنانے کے بجائے بگاڑتے ہیں، صحافت کے لبادے میں بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کرتے ہیں۔ ایسے افراد کی وجہ سے اچھے صحافیوں پر عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے اور وہ بھی اچھے برے میں تمیز کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لہذا اس مقدس پیشے کو ایسے لوگوں سے پاک ہونا چاہیے جو باقی مثبت صحافیوں کے کام میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ سابقہ فاٹا میں پچھلے چالیس سال سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، جس میں صحافت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن پھر بھی سابقہ فاٹا کے صحافی اس پیشے سے ہٹے نہیں اور سینہ تان کر دیدہ دلیری سے صحافت کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ چالیس سال میں کئی صحافی شہید ہوئے اور کئی شدید زخمی بھی ہوئے، لیکن پھر بھی وہاں کے لوگوں کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ ایسے حالات میں رپورٹنگ کرنا اور لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ ایک طرف تو انہیں خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف ادارے کی جانب سے تنخواہیں بھی نہیں ملتی ہیں۔

جب اداروں کی جانب سے تنخواہیں نہ ملتی ہوں اور نہ کوئی دوسرا ذریعہ آمدن ہو تو صحافی یا تو کسی محکمے سے بھتہ لے گا یا پھر بلیک میلنگ کا راستہ اختیار کرے گا، کیونکہ ہر شخص کی طرح صحافیوں کو بھی گھر بار چلانا ہوتا ہے۔ ایسے صحافیوں کے لئے میرا مشورہ یہ ہو گا کہ صحافت کے ساتھ ساتھ کوئی دوسرا کام شروع کریں یا صحافت چھوڑ دیں تاکہ بھتہ خوری یا بلیک میلنگ پر مجبور نہ ہو جائیں۔ اگر پھر بھی کوئی صحافی بھتہ یا بلیک میلنگ پر اترتا ہے تو ایسے صحافیوں کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے تاکہ کوئی دوسرا صحافی بھی بھتہ لینے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔

مگر میں یہاں سابقہ فاٹا کے صحافیوں کو داد اس لئے دیتا ہوں کہ مہنگائی کے اس دور میں بھی تنخواہ کے بغیر مظلوم طبقے کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیونکہ تنخواہ کے بغیر آج کل کوئی بھی کام نہیں کرتا اور تنخواہیں تو چھوڑیں، اوپر سے دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔ دھمکیوں اور تنخواہیں نہ ملنے کے باوجود اگر سابقہ فاٹا کا کوئی صحافی اپنے علاقے کے مسائل کو اجاگر کر رہا ہے تو اسے ضرور داد دینی چاہیے، جب اداروں کی جانب سے تنخواہ بھی نہ ملتا ہوں اور اوپر سے مقامی لوگوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہو تو صحافی آخر کہاں جائیں؟

ان سب کے باوجود سابقہ فاٹا کے صحافیوں کے حوصلے ہمیشہ بلند رہے ہیں اور ان کی صحافت کو داد دیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ایک طرف ٹارگٹ کلنگ کا خطرہ اور دوسری طرف سے دھمکی آمیز پیغامات سمیت لوگوں کی جانب سے شدید تنقید کی پرواہ کیے بغیر صحافت کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ میں بذریعہ کالم اپنے وہ دوست احباب جو سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں پر بلاوجہ تنقید کرتے رہتے ہیں سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ خدا کے لئے صحافیوں کو اس وقت پورے پاکستان میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ان کے حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلے بڑھائیں اور علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مل کر کام کریں۔

Facebook Comments HS