سونے کے پنجرے میں بھوک سے مرتے پرندے کی آخری صدا


میرے آبائی شہر ڈیرہ بگٹی میں ایک ایسا علاقہ بھی موجود ہے جہاں جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت جدید ترین مشینری استعمال کر کے قدرتی گیس کے ذخائر تو نکال رہی ہے، لیکن وہاں کے بچوں کو حکومت کی طرف سے تختی پر لکھنے کے لیے سیاہی تک فراہم نہیں کی جاتی۔ شاید یہ خوف ہے کہ اگر یہ شعور پاتے ہیں تو اس کا اثر طاقتور حلقوں پر بھی پڑے گا۔ جہنوں نے غریب لوگوں کی وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے۔

اوچ گیس فیلڈ، ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں واقع ہے، جو سات موضع جات پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں تین بڑے غیر دائم نالے، درنجین، گزی، اور مزوئی ہیں۔ یہاں بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخیں چاکرانی، شالوانی، اور سندرانی تقریباً دو سو سالوں سے آباد ہیں۔ یہ علاقہ ماضی میں ضلع کوہلو کا حصہ رہا اور انگریز دور میں یہاں کے لوگوں کو مالکانہ حقوق حاصل تھے، لیکن آزادی کے بعد ان حقوق کو چھین لیا گیا۔ دیگر اضلاع کے قیام کی وجہ سے یہ قدیم ریکارڈ بھی اب یہاں کے لوگوں کو دستیاب نہیں۔

گیس کی دریافت سے پہلے یہ علاقہ کسی کی ترجیح نہیں تھا۔ تقریباً 100 کلومیٹر لمبائی اور 30 کلومیٹر چوڑائی پر مشتمل یہ علاقہ ایک طرف صحبت پور کے قریب اور دوسری طرف نصیر آباد کے ساتھ ملتا ہے۔ ضلع ہیڈکوارٹر سے دور ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ اپنا شناختی کارڈ صحبت پور سے بنواتے ہیں، لیکن اکثریت کے پاس اب بھی قومی شناختی کارڈ نہیں ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش بارانی زمینوں سے اگنے والی فصلیں یا مال مویشی ہیں۔

ماضی میں یہاں ہر طاقتور نے اپنے سے بڑے طاقتور کے ساتھ مل کر اس مظلوم طبقے پر تسلط قائم کیا اور یہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہمیشہ رہا ہے۔ ماضی میں آنے والی قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زلزلوں کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی رپورٹ نہ ماضی میں کبھی آئی اور نہ اب کوئی رپورٹ بنتی ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار ہونے والی زرعی اصلاحات اور سروے کے دوران ریونیو اتھارٹی نے غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا، اور زرعی زمینیں ان کو الاٹ کی گئیں جنہوں نے عملے کی خاطر تواضع کی۔

گیس کی دریافت کے بعد ہر طاقتور طبقہ نے یہاں نظریں جمانا شروع کر دیں۔ یہاں غیر آباد زمینیں دیہی شاملات میں ہیں جن کی سیٹلمنٹ ابھی تک نہیں ہوئی۔ 1996 میں ریکارڈ کو خودکار نظام کے ذریعے طاقتوروں کے نام منتقل کر دیا گیا، جس کا ریونیو ریکارڈ اب بھی موجود ہے۔ اوچ گیس پلانٹ جس کا نام موضع مزوئی پر ہے، اس پورے علاقے کو اوچ کہا جانے لگا۔ یہاں گیس کے 34 کنویں موجود ہیں، لیکن ہر کنویں پر تعینات چوکیدار کب اور کیسے بھرتی ہوئے، علاقے والوں کو خبر تک نہیں۔ نواب کے دور میں کچھ مقامی لوگوں کو چوتھے درجے کی ملازمتیں ملیں، جن کی اکثریت اب ریٹائر ہو چکی ہے۔ ان کنووں سے پیدا ہونے والی گیس سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے، لیکن یہ بجلی کہاں جاتی ہے، اس بارے میں علاقے کے لوگوں کو کچھ علم نہیں۔

1996 کے بعد علاقے کے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا۔ اکثر آبادی نقل مکانی کر چکی ہے، اور کچھ نے صحبت پور کے قریب رہائش اختیار کر لی ہے۔ سن 2000 سے اب تک لوگوں کو اپنے علاقے میں رہنے، زمین آباد کرنے، اور مال مویشی چرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سیکورٹی کے حالات کی خرابی بتا کر علاقے کو سیل کر دیا گیا، لیکن اس کا کوئی جواز اور اصل وجوہات آج تک سامنے نہیں آ سکیں۔ لوگ اپنے مال مویشی چرانے کے لیے دو دن کی مسافت طے کر کے میر حسن پل یا کٹھن پل کراس کر کے جاتے ہیں، لیکن پٹ فیڈر کینال پر واقع جروار پل کراس کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔

یہاں بچیوں کی تعلیم کے لیے کوئی بنیادی پرائمری اسکول موجود نہیں۔ گنتی کے چند پرائمری اسکول جیسے کلی گورا خان، کلی رمضان، کلی مزار خان، کلی عمر خان، کلی چراغ دین، اور ٹوبہ سندرانی اسکول سرکاری ریکارڈ پر تو ہیں، مگر ان اسکولوں میں نہ عمارت ہے، نہ ہی اساتذہ حاضر ہوتے ہیں۔ یہاں بچیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی فروخت کر دی جاتی ہیں، خواتین ناخواندہ ہیں اور اپنے حقوق سے بے خبر ہیں۔ خواتین کی حیثیت نوکر سے زیادہ نہیں۔ بوڑھی مائیں مال مویشی چراتی ہیں، اور لوگوں کو اتنا خوفزدہ کیا گیا ہے کہ زبان بند کر کے زندگی گزارنا مجبوری بن چکی ہے۔ اگر زبان کھولنی ہے تو ظالم کی تعریف میں ہی کھولی جائے ورنہ خاموشی بہتر ہے۔

یہاں کے لوگوں کو ان کی زمینیں کیسے منتقل ہوئیں، اس کا ریکارڈ موجود ہے، مگر اس ریکارڈ تک رسائی نہیں۔ انہیں نظرانداز کیوں کیا گیا، اس کی وجوہات کسی کو معلوم نہیں۔ یہاں خواتین زچگی کے دوران مر جاتی ہیں، سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی مگر کسی کو کوئی خیال نہیں۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق، یہاں نادرا کا رجسٹریشن دفتر، بچیوں کے لیے پرائمری اسکول، ہائی اسکول، سول ڈسپنسری، اور لوگوں کی واپسی اور آباد کاری جیسے مسائل بنیادی نوعیت کے ہیں۔ جن پر حکومت وقت کو عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “سونے کے پنجرے میں بھوک سے مرتے پرندے کی آخری صدا

  • 08/11/2024 at 7:28 شام
    Permalink

    میں اسی علاقے کا باسی ہوں واقعی ایسا ہی جیسے لکھا ہوا ہے ہمیں ہر زورآور نے زیر کرنے کی کوشش کی اور ہم اس جدید دور میں بھی سو سال پہلے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔

Comments are closed.