وادی کشمیر کے اولین باشندے اور ان کا مذہب


نیل مت پرانت وادی کشمیر کا سب سے ابتدائی مذہب تھا اور کشمیر کے یہ اولین باشندے انڈس سویلائزیشن پر آرینز کے قبضے اور غلبے کے بعد آج کے سندھ، پنجاب کے ہی علاقوں یعنی ”انڈس سویلائزیشن“ سے ہجرت کر کے خالی پڑی، وادی کشمیر میں آباد ہونے والے اولین باشندے تھے۔ جہاں آج وادی کشمیر ہے یہاں ایک بہت بڑی جھیل ہوا کرتی تھی، جس کا نام ستی سر تھا، اس عظیم جھیل کا اوڑی سے کچھ آگے، شاید کسی زلزلے کے باعث قدرتی بند ٹوٹ جانے کی وجہ سے پانی زیریں طرف یعنی آج کے دریائے جہلم کی طرف خارج ہو گیا، اس قدیم قدرتی رکاوٹ اور اس کے ٹوٹنے کے نشانات آج بھی اوڑی سے کچھ نیچے دیکھے جا سکتے ہیں اس طرح اس عظیم جھیل کے پانی کے خارج ہونے سے وادی کشمیر نمودار ہو گئی لیکن اس وادی تک پہنچنے کے تمام ممکن نسبتاً آسان راستے پنجاب اور ہزارہ کی طرف سے ہی تھے۔ جموں کی طرف اپنے دشوار گزار پہاڑی سلسلے پیر پنجال کی وجہ سے ناقابل گزر تھی اس راستے کو بھارت نے ساٹھ کی دہائی میں پانچ کلو میٹر کی ”جواہر ٹنل“ کی تعمیر کے ذریعے قابل عبور بنایا۔

شمالی طرف بلند اور دشوار گزار درہ تراگبل اور برزل کسی بڑی نقل مکانی کو مشکل بناتے تھے۔ ان راستوں کی مشکلات کا اندازہ اس داستان سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیر کے عظیم بادشاہ ”للتا دتیہ“ کے دور میں چینی ترکستان سے ایک بڑی فوج نے آ کر بلاورستان کی تقریباً تمام چھوٹی چھوٹی مقامی اور علاقائی نوعیت کی ریاستوں پر قبضہ کر لیا، کشمیر کی تاریخ ”راج ترنگنی“ میں رقم ہے کہ حملہ آور فوج دس ہزار افراد پر مشتمل تھی جس کا یہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں مقابلہ نہ کرسکیں اور اس حملہ آور فوج نے ان میں سے اکثر ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔

اس پر ان ریاستوں کے قدیم راجاؤں نے ریاست کشمیر کے بادشاہ ”للتا دتیہ“ کو خطوط لکھے کہ ہمیں اس استبداد سے بچایا جائے، للتا دتیہ فوج لے کر درہ تراگبل، درہ برزل عبور کرتے ہوئے بلاورستان پہنچا، اور قابض افواج کو شکست دے کر ان کو ان علاقوں سے واپس جانے پر مجبور کر دیا، اور ان واگزار شدہ ریاستوں کا اقتدار ان کے قدیمی اصل حکمرانوں کے حوالے کر دیا، جس پر ان سب نے شکر گزاری کے طور پر للتا دتیہ کی اطاعت کا اعلان کیا۔ للتا دتیہ نے ان شکست خوردہ مفتوح افواج پر پابندی لگائی کہ وہ چلتے پھرتے ہوئے اپنے ہاتھ پشت کی طرف باندھ کر یعنی رکھ کر چلا کریں گے۔ راج ترنگنی کے مولف لکھتے ہیں کہ کاشغر اور اس کے ملحق علاقوں میں آج بھی لوگوں کو چلتے پھرتے ہوئے اپنے ہاتھ پشت کی طرف رکھ کر چلنے کی عادت ہے، جس کی وجہ وہی للتا دتیہ کی شرط اور حکم ہے، جو اب وہاں کے لوگوں کی عادت بن چکا ہے۔

بات ان شمالی سمت کے راستوں کی دشواری کی ہو رہی تھی، ”للتا دتیہ“ اس فتح کے بعد ان علاقوں سے اپنی فوج کے ہمراہ واپس براستہ دیوسائی آ رہا تھا تو پراسرار طور پر اپنے لشکر سمیت غائب ہو گیا، کشمیر میں سمجھا جاتا رہا کہ یہ بادشاہ اتنا نیک تھا کہ اسے اس کے لشکر سمیت سوارگ کو اٹھا لیا گیا، جبکہ امکان یہی ہے کہ یہ راجہ اور اس کی فوج ان علاقوں میں اچانک آ جانے والے کسی ہولناک برفانی طوفان یا برفانی لانی ( ایوالانش ) کا حادثاتی طور پر شکار بن گئے۔

وادی کشمیر میں آباد ہونے والے واقعی وہ غیرت مند اور حریت پسند لوگ تھے، جنہوں نے قابض اور غالب آریا قبائل کی محکومی پر ہجرت کو ترجیع دی۔ اور کشمیر آ کر آباد ہو گئے۔ ان ابتدائی باشندوں کا ابتدائی مذہب نیل مت پرانت تھا، جس میں ناگ پوجا کی جاتی تھی، کیونکہ ان ہجرت کرنے والوں میں سے اکثر قدیم انڈس سویلائزیشن کے امیر اور متمول لوگ تھے، آج تک ناگ کو خزانوں کا محافظ اور علامت سمجھا جاتا ہے، لہذا یہ لوگ بھی اپنی دولت کے محافظ کی علامت کے طور پر ناگ پوجا کیا کرتے تھے۔

کچھ محققین کی رائے ہے کہ وادی کشمیر کے اولین آباد کار بلاورستان اور دردستان کی طرح شمال سے آ کر وادی کشمیر میں آباد ہوئے لیکن شواہد اور قرائن اس خیال کی تصدیق نہیں کرتے۔ کیونکہ ہمیں ان علاقوں کے دریافت شدہ قدیم آثار اور وہاں تھلپن کوہستان کے نزدیک دریافت ہوئی سنگی تصاویر میں شکار کرتے اور گھڑسوار جنگجو تو دکھائی دیتے ہیں، لیکن ناگ پوجا یا نیل مت پرانت سے تعلق کی کوئی علامت ان آثار اور منقش سنگی تصاویر میں یا وہاں اور کسی قدیم آثار میں دکھائی نہیں دیتیں۔ جبکہ وادی کشمیر میں آج بھی مختلف پانی کے چشموں اور جھیلوں کے نزدیک نیل مت پرانت کی عبادت کے مقامات کے نقوش و آثار دکھائی دیتے ہیں، بلکہ آج بھی کشمیر کے ایسے ہی قدیم اور مقدس سمجھے جانے والے مختلف چشموں اور جھیلوں کے ناموں کے ساتھ ”ناگ“ کا لفظ لگایا جاتا ہے، جیسے کہ دریائے وتستہ ( جہلم) کے منبع کو بھی ”ویری ناگ“ کہا جاتا ہے، اسی طرح ”کوکر ناگ“ وغیرہ ایسے ہی نیل مت پرانت کے قدیم مذہب سے جڑے ان کی عبادت کے مقدس مقامات تھے جس میں سمجھا جاتا تھا کہ ”مقدس ناگ، ان چشموں اور جھیلوں میں رہتے ہیں اور ان کے محافظ ہیں۔ لہذا ان چشموں اور جھیلوں کے ناموں کو ان مقدس ناگوں سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا اور تجزیہ کرنا چاہیے کہ کشمیر کے“ شمال ” (بلاورستان) میں اور شمال مغرب (دردستان) کی طرف کون سی اقوام آباد تھیں، جیسا کہ آج تک ہے کہ شمال اور شمال مغرب کی طرف شین اور یشکن اور ڈوم اقوام آباد تھیں، شین اور یشکن خود کسی دور میں چینی اور روسی ترکستان اور اس کے ملحقہ علاقوں سے ان علاقوں بلاورستان ( شمالی علاقہ جات ) اور دردستان (آج کے کوہستان ) میں آ کر آباد ہوئے، اور ڈوم برصغیر کی طرف سے آ کر ان علاقوں میں آباد تھے، بلکہ کئی جگہ تو یہ شین اور یشکن سے بھی پہلے سے یہاں آباد دکھائی دیتے ہیں، جن کو بعد میں شمال سے آنے والے طاقتور اور جنگجو قبائل نے مغلوب کر کے ان کو معاشرے میں کمتر سماجی اور سیاسی حیثیت دے دی۔

کشمیر کے باشندوں کی اکثریت ان شین اور یشکن لوگوں اور گلگت و بلاورستان کے مخلوط ”بروق پا“ لوگوں سے جسمانی وضع قطع، سماجی، ثقافتی اور طبیعت و مزاج میں بالکل الگ اور مختلف ہیں۔ ان وادی کشمیر کے باشندوں کی اکثریت کی مماثلت ہمیں انڈس ویلی کے قدیم باشندوں کے ساتھ زیادہ دکھائی دیتی ہے، جو جسمانی وضع قطع، نسلیات، اور زبان میں الفاظ کی مماثلت، رسم و رواج، عادات روایات، وغیرہ کے ضمن میں قدیم سندھو ویلی کے باشندوں سے زیادہ مماثل ہیں۔

بعد کے مختلف ادوار میں ایران، وسطی ایشیا، حتی کہ کاشغر تک سے تبلیغ اور کاروبار کے غرض سے لوگ آ کر کشمیر میں آباد ہوتے رہے، مغل حکمرانی کے دور میں بہت سے مغل قبائل اور گھرانے بھی کشمیر آ کر یہیں آباد ہوئے۔ اسی طرح افغان حکمرانی کے دور میں کچھ افغان اور پشتون بھی کشمیر میں آباد ہوئے۔ سپت سندھو اور وادی گنگا و جمنا پر آریا مکمل غلبے کے بعد ہندو دھرم کے مبلغین بھی وادی کشمیر آئے اور یہاں آباد ہوئے لیکن اب انہوں نے یہ تبلیغ کا کام جنگ و جدل کے بجائے پیار و محبت اور تعلق قائم کر کے کیا۔ آج کشمیر میں آباد ہندو پنڈت اقلیت ان ہی اولین آریا مبلغین کی اولاد اور نسل ہیں، لیکن وادی کشمیر کی آبادی کا غالب حصہ وہی انڈس ویلی سے ہجرت کر کے وادی میں آباد ہو جانے والے قدیم باشندوں پر ہی مشتمل ہے۔

Facebook Comments HS