قدیم یونانی مذہب کی ابتداء اور اختتام


یونانی مذہب کے ابتدا کی کہانیاں بہت قدیم اور حیرت انگیز ہیں، ان کہانیوں کے آغاز کی صحیح تاریخ کا تعین کرنا مشکل ہے، لیکن محققین کا اندازہ ہے کہ یہ تقریباً 3000 سے 1200 قبل مسیح کے دوران تشکیل پانا شروع ہوئیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابتدائی یونانی تہذیبیں، جیسے مائینوئن (Minoan) اور مائسینیئن (Mycenaean) تہذیبیں، فروغ پا رہی تھیں۔ یہ کہانی اُس وقت کی ہے جب انسانی شعور قدرت کی طاقتوں کو سمجھنے اور وضاحت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور ان قدرتی وسعتوں اور طاقتوں کو دیوتاؤں کی صورت میں پیش کرنے لگا۔ ہم ان کہانیوں کے آغاز کی اصل حقیقت تو نہیں جانتے، کیونکہ یہ قدیم زمانے کی تخلیقات ہیں جو نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہوتی رہی ہیں۔

اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ پہلے زمانے میں، جب کوئی زمین، آسمان، یا سمندر نہیں تھا، چاروں طرف (Chaos) موجود تھا، جو مکمل خلا اور افراتفری کی علامت تھا۔ پھر اس خلا سے کچھ بنیادی عناصر نے جنم لیا، گایا (Gaea) یعنی زمین، ٹارٹارس (Tartarus) یعنی زمین کے نیچے کا اندھیرا گڑھا، اور ایروس (Eros) یعنی محبت کی قوت، جس نے زندگی کو بڑھانے اور کائنات کو ترتیب دینے کا آغاز کیا۔ گایا نے اپنے اندر سے یورینس (Uranus) کو پیدا کیا، جو آسمان تھا، اور دونوں کے ملاپ سے بہت سی مخلوقات پیدا ہوئیں، جن میں سب سے اہم ٹائٹنز (Titans) تھے۔ یورینس نے ان طاقتور بچوں سے خوف محسوس کیا اور انہیں زمین کے اندر قید کر دیا۔ لیکن ایک دن، گایا نے اپنے بیٹے کرونس (Cronus) کو اُبھارا کہ وہ اپنے والد یورینس کو شکست دے دے۔ کرونس نے ایسا ہی کیا، اور یورینس کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

کرونس نے اپنی طاقت کے نشے میں کائنات پر حکومت شروع کی، لیکن اسے بھی خوف تھا کہ اس کے بچے اسے تخت سے ہٹا دیں گے۔ اس خوف کے سبب، وہ اپنے ہر بچے کو پیدا ہوتے ہی نگل جاتا۔ مگر کرونس کی بیوی ریا (Rhea) نے اپنے آخری بیٹے زیوس (Zeus) کو بچانے کے لیے ایک چال چلی۔ اس نے زیوس کو چھپا دیا اور کرونس کو ایک پتھر دے دیا، جسے کرونس نے بچے کی جگہ نگل لیا۔ زیوس بڑا ہو کر کرونس کو شکست دینے کے لیے تیار ہوا۔ اس نے اپنے قید بہن بھائیوں کو آزاد کرایا، اور ٹائٹنز کے خلاف ایک عظیم جنگ چھیڑ دی، جسے ٹائٹینوماکی (Titanomachy) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں زیوس اور اس کے ساتھی دیوتاؤں نے فتح حاصل کی، اور یوں اولمپیئنز (Olympians) نے ٹائٹنز کی جگہ لے لی۔

اس سے متعلق آپ Clash of Titans فلم بھی دیکھ سکتے ہیں جو یونانی دیو مالائی کہانیوں سے اخذ کی گئی ہے۔ اس کے بعد زیوس نے زمین، آسمان، اور سمندر کو اپنے بھائیوں پوئیسڈن (Poseidon) اور ہادیس (Hades) کے ساتھ بانٹ لیا۔ زیوس آسمان اور دیوتاؤں کا بادشاہ بنا، پوئیسڈن سمندر کا حکمران، اور ہادیس زیرزمین کی دنیا کا دیوتا۔ ان کے ساتھ دیگر دیوتاؤں نے بھی کائنات پر حکومت شروع کی، اور یوں یونانی مذہب کی کہانیاں وجود میں آئیں۔ ان 12 یونانی خداؤں کو Olympians کہا جاتا تھا۔

یہ کہانیاں نسل در نسل شاعری کی طرز پر یا گا کر ایک نسل سے دوسری نسل منتقل ہوتی رہیں، اور پھر مشہور شاعروں جیسے ہومر (Homer) اور ہیسیوڈ (Hesiod) نے انہیں قلمبند کیا۔ ان کہانیوں میں دیوتاؤں کی طاقت، محبت، حسد، اور جنگ کے قصے شامل ہیں۔ ان دیوتاؤں کی کہانیوں نے یونانیوں کی زندگی میں روحانی اور اخلاقی اصول متعین کیے اور ان کے رسومات و عقائد کو تشکیل دیا۔ یونانی لوگ ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ پیچیدہ اور تفصیلی بنتی گئیں۔ کچھ اہم مذہبی کردار، جیسے زیوس، پوئیسڈن، اور ہیریس، ممکنہ طور پر لوگوں کے ذہین دماغوں کی پیداوار تھے اور لوگ پہاڑوں، دریاؤں، اور آسمانوں کو دیوتاؤں کی رہائش گاہیں سمجھتے تھے۔ یہ کردار رفتہ رفتہ دیوتاؤں کی شکل میں تبدیل ہو گئے۔ اور موجودہ دور کی تمام مذہبی رسومات جیسے عبادت، قربانی، بّلی چڑھنا، نذر پیش کرنا، وغیرہ اس دور میں بھی عام تھا۔

مندر بنا کر دیوتا کو پوُجنا، اور جانوروں کی قربانی کرنا، بیل، بھیڑ، یا بکریوں کو دیوتاؤں کی خوشنودی کے لیے قربان کرنا عام تھا۔ قربانی کا گوشت دیوتاؤں کو چڑھایا جاتا، جبکہ باقی گوشت لوگوں کے درمیان بانٹ دیا جاتا تھا۔ یونانی لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں دیوتاؤں سے براہ راست دعائیں بھی کیا کرتے تھے، خاص طور پر جب وہ کسی مشکل، بیماری، یا اہم فیصلے کا سامنا کر رہے ہوتے تھے۔ وہ دیوتاؤں سے تحفظ، کامیابی، یا صحت کی دعا کرتے اور ان کی رہنمائی مانگتے۔ پھر ان مذہبی تقریبات، اور کہانیوں کی صورت میں یہ مزید پھیلتی گئیں اور مختلف دیوتاؤں کے بارے میں لوگوں کے عقائد مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔

یونانی مذہب تقریباً 1200 قبل مسیح میں تشکیل پانا شروع ہوا اور اگلے کئی سو سالوں تک پھیلتا اور ترقی کرتا رہا۔ مگر چوتھی صدی عیسوی میں مسیحیت کے عروج کے ساتھ، یونانی مذہب کا زوال شروع ہوا۔ رومی سلطنت کے دور میں مسیحیت سرکاری مذہب بنی تو اس کی تبلیغ کی اجازت مل گئی، اور یونانی دیوتاؤں کی عبادت آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی۔ یوں، یونانی مذہب ختم ہو گیا، اور عیسائی مذہب نے اس کی جگہ لے لی۔ یونان میں اس وقت 98 فیصد عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ وہ مذہب/کلٹ جو کسی دور میں ایک عظیم یونانی کلاسیکل دور میں مشہور تھا آج محض ادب اور فلسفے میں زندہ ہے۔

Facebook Comments HS